جمعہ کی رات شمالی ہندوستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے تیز جھٹکوں نے لوگوں کو خوفزدہ کر دیا۔ رات 9 بج کر 42 منٹ پر آنے والے اس زلزلے نے دہلی-این سی آر سمیت کئی ریاستوں میں زمین کو ہلا کر رکھ دیا۔ زلزلے کے جھٹکے چنڈی گڑھ، پنجاب، ہریانہ اور جموں و کشمیر کے متعدد علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے، جس کے بعد لوگ گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کا مرکز افغانستان اور تاجکستان کی سرحدی علاقے میں تھا، جہاں ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت 5.9 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کے جھٹکے چند سیکنڈ تک محسوس کیے گئے، تاہم ان کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اونچی عمارتوں میں رہنے والے افراد خاص طور پر خوفزدہ ہو گئے۔ کئی لوگوں نے بتایا کہ پنکھے، دروازے اور فرنیچر اچانک ہلنے لگے جس کے باعث وہ فوری طور پر باہر نکل آئے۔
دہلی-این سی آر کے مختلف علاقوں میں رہنے والے شہری پارکوں اور کھلے میدانوں میں جمع ہو گئے۔ دفاتر میں کام کر رہے ملازمین بھی احتیاطاً عمارتوں سے باہر نکل آئے۔ بعض مقامات پر لوگ طویل وقت تک کھلے مقامات پر ہی موجود رہے تاکہ کسی ممکنہ آفٹر شاک سے محفوظ رہ سکیں۔ انتظامیہ نے فوری طور پر صورتحال کا جائزہ لیا اور متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا۔ زلزلے کے جھٹکے جموں و کشمیر کے ادھم پور، پونچھ اور کشمیر وادی کے مختلف علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے۔ مقامی افراد کے مطابق زمین ہلنے کے بعد لوگ خوف کے عالم میں گھروں سے باہر نکل آئے۔ تاہم فوری طور پر کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ٹیمیں تیار رکھی گئی ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کے اسلام آباد، پشاور اور پنجاب کے کئی علاقوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں نے بھی زمین ہلنے کی تصدیق کی۔ زلزلے کے بعد سوشل میڈیا پر لوگوں نے اپنے تجربات شیئر کیے اور کئی ویڈیوز بھی سامنے آئیں، جن میں عمارتوں اور پنکھوں کو ہلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گھبرائیں نہیں اور افواہوں پر توجہ نہ دیں۔ ماہرین کے مطابق زلزلہ زمین کے اندر موجود ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت کے باعث آتا ہے۔ زمین کے اندر سات بڑی ٹیکٹونک پلیٹیں موجود ہیں، جو مسلسل حرکت میں رہتی ہیں۔ جب یہ پلیٹیں آپس میں ٹکراتی ہیں یا ایک دوسرے کے اوپر چڑھتی ہیں تو زمین میں تھرتھراہٹ پیدا ہوتا ہے جسے زلزلہ کہا جاتا ہے۔
زلزلے کی شدت کو ریکٹر اسکیل پر ناپا جاتا ہے، جو عام طور پر ایک سے نو تک ہوتا ہے۔ کم شدت والے زلزلے زیادہ نقصان نہیں پہنچاتے، جبکہ سات یا اس سے زیادہ شدت کے زلزلے شدید تباہی کا باعث بن سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلے کی شدت اس کے مرکز یعنی ایپی سینٹر سے خارج ہونے والی توانائی کے مطابق ناپی جاتی ہے۔ فی الحال کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہ ملنے پر انتظامیہ نے راحت کا اظہار کیا ہے، تاہم متعلقہ ادارے مکمل طور پر الرٹ ہیں۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ زلزلے کے دوران پرسکون رہیں، عمارتوں سے باہر کھلے مقامات پر جائیں اور لفٹ کے استعمال سے گریز کریں۔ حکام کے مطابق صورتحال معمول پر ہے لیکن احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں محفوظ رہا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں آندھی اور بارش نے کئی برسوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔…
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا- ہم اپنی پارٹی کے وفادار ہیں، اتحاد پر فیصلہ پارٹی…
چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار سے متعلق جاری تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن نے…
سری گرو گرنتھ صاحب بھون میں منعقدہ سیمینار میں دانشوروں، قانون دانوں، مذہبی و سماجی…
غیر ملکی زرِمبادلہ سے 2.76 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ آمدنی، سیاحت کے شعبے نے…
SIR اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم…