نئی دہلی: ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (DRDO) کے چیئرمین سمیر وی کامت نے کہا ہے کہ بھارت کا اگنی-6 بیلسٹک میزائل پروگرام مکمل تیاری کی حالت میں ہے، تاہم اس کے آغاز کے لیے مرکزی حکومت کی حتمی منظوری درکار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جیسے ہی حکومت کی جانب سے گرین سگنل ملے گا، ادارہ فوری طور پر اس پروگرام پر کام شروع کر دے گا۔ اگنی-6 بیلسٹک میزائل کو اگنی سیریز کا جدید ترین میزائل تصور کیا جا رہا ہے، جس کی رینج اور تکنیکی صلاحیتیں پہلے کے میزائلوں سے کہیں زیادہ ہوں گی۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ میزائل بھارت کی اسٹریٹجک طاقت کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے اور عالمی سطح پر اس کی دفاعی پوزیشن کو مزید مستحکم کرے گا۔
ہائپرسونک ٹیکنالوجی میں تیز پیش رفت
سمیر کامت نے اس موقع پر بتایا کہ بھارت ہائپرسونک میزائل ٹیکنالوجی میں بھی نمایاں پیش رفت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو اہم پروگرام زیرعمل ہیں: ہائپرسونک گلائیڈ میزائل اور ہائپرسونک کروز میزائل۔ ان کے مطابق گلائیڈ میزائل ابتدائی رفتار حاصل کرنے کے بعد بغیر انجن کے فضا میں سفر کرتا ہے، جبکہ کروز میزائل اسکرام جیٹ انجن کے ذریعے مسلسل طاقت حاصل کرتا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ گلائیڈ میزائل کا پروگرام زیادہ ترقی یافتہ مرحلے میں ہے اور اس کے ابتدائی تجربات جلد متوقع ہیں۔
کثیر سطحی میزائل فورس کا خاکہ
ڈی آر ڈی او چیئرمین نے مستقبل کی دفاعی ضروریات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بھارت کو ایک جامع اور کثیر سطحی میزائل فورس کی ضرورت ہوگی۔ اس میں قلیل، درمیانی اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل شامل ہوں گے، ساتھ ہی کروز اور ہائپرسونک میزائل بھی اس کا حصہ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا متنوع نظام مختلف جنگی حالات میں بہتر حکمت عملی اختیار کرنے میں مدد دے گا اور فوجی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرے گا۔
’پرلے‘ میزائل اور موجودہ تیاری
سمیر کامت نے بتایا کہ قلیل فاصلے کے میزائل نظام تقریباً تیار ہیں، خاص طور پر ’پرلَے میزائل‘ آخری مراحل میں ہے اور جلد ہی فوج میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ اسٹریٹجک میزائلوں کو بھی درمیانی اور طویل فاصلے کے ٹیکٹیکل استعمال کے لیے ڈھالا جا سکتا ہے، جس سے دفاعی نظام مزید مؤثر بنے گا۔ اس موقع پر راجیش کمار سنگھ نے بھی کہا کہ بھارت ایک کثیر سطحی روایتی میزائل فورس کی تشکیل پر کام کر رہا ہے، جس میں مختلف رینج اور جدید صلاحیتوں کے میزائل شامل ہوں گے۔ مجموعی طور پر، اگنی-6 اور ہائپرسانک میزائل پروگرام بھارت کی دفاعی حکمت عملی میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اب اس منصوبے کے باضابطہ آغاز کے لیے حکومت کے فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے، جس کے بعد ملک کی دفاعی صلاحیت میں ایک اہم اضافہ متوقع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…