قومی

Dr. Rajeshwar Singh Demands Central Law Against Religious Conversion: ’’مذہب کی تبدیلی کے نام پر ملک مخالف سازش اب نہیں چلے گی‘‘، ایم ایل اے ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے اسے کے خلاف ایک مرکزی قانون بنانے کا کیا مطالبہ

سروجنی نگر کے رکن اسمبلی ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے چھانگُر بابا کے مذہبی تبدیلی کے نیٹ ورک اور آگرہ میں آئی ایس آئی ایس سے جُڑے گروہ کے انکشاف کے بعد فوری طور پر مرکزی سطح پر قانون سازی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ منظم غیر قانونی مذہبی تبدیلیوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔ ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ ’’یہ صرف ایک جرم نہیں بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے، یہ ہماری بیٹیوں اور ہمارے دھرم کے خلاف جنگ ہے۔‘‘

انھوں نے مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھوال کو لکھے گئے خط میں ایک جامع ’’اینٹی کنورژن ایکٹ‘‘ کی تجویز دی ہے، جس کا مقصد ’’لو جہاد‘‘، غیر ملکی فنڈز سے چلنے والی تبلیغ اور تبدیلی سے جڑے دہشت گردی کے واقعات کو روکنا ہے۔ غیر قانونی مذہبی تبدیلیوں کے خطرات بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ یہ خاندانوں کو تباہ اور ثقافتی شناخت کو مٹا دیتی ہیں، لڑکیوں کا استحصال لو جہاد، جعلی شناختوں اور جبری شادیوں کے ذریعے ہوتا ہے، جب کہ یہ سرگرمیاں غیر ملکی فنڈنگ اور انتہا پسند پروپیگنڈے سے مدد پاتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ریاستی قوانین غیر مربوط اور کمزور ہیں، اس لیے ایک مرکزی قانون کی سخت ضرورت ہے۔

قانون سازی کے لیے پیش کیں اہم تجاویز

ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے مذہبی تبدیلی مخالف قانون کے لیے اہم تجاویز بھی دی ہیں جن میں غیر قانونی، اجتماعی، شادی پر مبنی اور غیر ملکی فنڈز سے ہونے والی مذہبی تبدیلیوں کی واضح قانونی تعریف، ملزمان کے لیے سخت سزائیں، مذہبی تبدیلیوں کے لیے ڈی ایم کے سامنے لازمی اعلان، شادی کے بعد مذہبی تبدیلیوں پرعدالتی جانچ اورنیشنل اینٹی کنورژن اتھارٹی کے قیام کی بات شامل ہے۔ انھوں نے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کودہشت گردی سے منسلک کیسزمیں مزید اختیارات دینے کی بھی سفارش کی ہے۔

اس کے علاوہ ڈاکٹر راجیشور سنگھ کے اس خط میں متاثرین کی حفاظت کے لیے فوری بحالی، سیکورٹی اور جعلی شناخت اورآن لائن انتہا پسندی پر سخت کارروائی بھی تجویز کی گئی ہے۔ ساتھ ہی مذہبی تبدیلی میں ملوث این جی اوزپرپابندی یا نگرانی اور مذہبی خیراتی اداروں کے کڑے آڈٹ کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ نیپال، انڈونیشیا اورروس جیسے ممالک پہلے ہی اس حوالے سے قدم اٹھاچکے ہیں اوربھارت کوبھی فوری کارروائی کرنی چاہیے تاکہ نقصان ناقابلِ تلافی نہ ہو۔

اس معاملے پر اپوزیشن کی خاموشی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’جب بیٹیاں بیچی جا رہی ہوں اور مذہب کے نام پر دہشت گردی بڑھ رہی ہو تو خاموشی سیکولرزم نہیں بلکہ انتہا پسندی کی حمایت ہے۔‘‘ انھوں نے یو پی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی سخت کارروائی کو سراہا اور کہا کہ ’’اب بھارت کو ایک قانون، ایک موقف کی ضرورت ہے تاکہ ہر بیٹی، ہر مذہب اور ہر مستقبل کی حفاظت ہو۔ یہ سیاست کا معاملہ نہیں بلکہ راشٹر نیتی کا معاملہ ہے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو

Bharat Express

Recent Posts

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

17 minutes ago

PM Modi Calls Sharad Pawar Health Update: اسپتال سے ڈسچارج ہوئے شرد پوار، وزیر اعظم مودی نے آرام کرنے کا دیا مشورہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…

53 minutes ago

این سی پی میں اندرونی کشمکش! سنیل تٹکرے اور پرفل پٹیل کے عہدوں پر تعطل برقرار، ذیشان صدیقی کی تقرری پر کوئی خطرہ نہیں

نائب وزیراعلیٰ سنیترا پوار کے بیٹے پارتھ پوار نے ایک بارپھر دہرایا کہ آئندہ پارٹی…

2 hours ago