قومی

Adani University 2nd Convocation: پریتی اڈانی کا جلسہ تقسیم اسناد میں طلبا سے خطاب، کہا-’’مقصد کے ساتھ بھارت کی ابھرتی ہوئی ترقی کا حصہ بنیں‘‘

احمد آباد: شانتی گرام میں واقع اڈانی یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں ہفتہ کے روز دوسرے کنووکیشن کا انعقاد کیا گیا جس میں 87 فارغ التحصیل طلبہ کو ڈگریاں تفویض کی گئیں، جن میں تین میڈلسٹ بھی شامل تھے۔ اس موقع پر طلبہ کے اہل خانہ، اساتذہ، گورننگ باڈی کے اراکین، صنعتوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور معزز مہمانان شریک ہوئے۔ تقریب میں 79 طلبہ کو ایم بی اے (انفراسٹرکچر مینجمنٹ) اور 8 طلبہ کو ایم ٹیک (کنسٹرکشن انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ) کی ڈگریاں دی گئیں۔ پروگرام کی صدارت اڈانی یونیورسٹی کی صدر اور اڈانی فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن ڈاکٹر پریتی اڈانی نے کی۔

ڈاکٹر پریتی اڈانی کا خطاب ’’آنے والا دور مقدار کا نہیں، معیار کا‘‘

اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر اڈانی نے بھارت کے ترقیاتی ڈھانچے میں آنے والی بڑی تبدیلیوں کی نشاندہی کی، جہاں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، پائیداری اور انسان دوست نظام ترقی کا محور بنتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’انفراسٹرکچر محض سہولت یا رفتار کا نام نہیں۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ایسے نظام بنائیں جو انسانوں کی صحت، سلامتی اور معیار زندگی کو بہتر بنائیں۔ آنے والا دور مقدار کا نہیں، معیار کا ہوگا۔‘‘

انہوں نے بھارت کی تہذیبی وراثت کا حوالہ دیتے ہوئے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ اسے فخر اور ذمہ داری کے طور پر اپنے کیریئر کا حصہ بنائیں۔ انہوں نے مزید کہا: ’’آپ ایک ایسی تہذیب کے وارث ہیں جس نے گہرائی سے سوچا، دلیرانہ تعمیر کی اور اخلاقی بنیادوں پر رہنمائی کی۔ اسے صرف تاریخ نہ سمجھیں بلکہ اسے اپنی ذمہ داری بنائیں۔‘‘ ڈاکٹر اڈانی نے فارغ التحصیل طلبہ کو مقصدی تحقیق، بین العلومی سوچ اور اخلاقی جدت طرازی اپنانے کی ترغیب دی۔ انہوں نے یونیورسٹی کے مستقبل کے لیے ایک ’’جدت پر مبنی کیمپس‘‘ کے قیام کے منصوبے کا اعادہ بھی کیا۔

کوالکوم انڈیا کے صدر کا خطاب—صنعت اور تعلیم کا اشتراک وقت کی ضرورت

اس موقع پر ساوی ایس سوئن، صدر کوالکوم انڈیا نے کنووکیشن خطاب پیش کیا اور طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی، سیمی کنڈکٹر، مصنوعی ذہانت، موبیلٹی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے بدلتے منظرنامے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا: ’’جیسے جیسے بھارت سیمی کنڈکٹر، اے آئی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور جدید ٹیکنالوجی میں عالمی قیادت کی جانب بڑھ رہا ہے، صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان مضبوط اشتراک ناگزیر ہے۔‘‘ انہوں نے طلبہ کو مسلسل سیکھنے، مربوط سوچ، اخلاقی قیادت اور پائیداری کے اصول اپنانے کا مشورہ دیا۔ کنووکیشن کا اختتام مشترکہ گروپ فوٹو کے ساتھ ہوا، جس نے طلبہ اور یونیورسٹی دونوں کے لیے ایک یادگار لمحہ درج کردیا۔

اڈانی یونیورسٹی کا تعارف

2022 میں قائم ہونے والی اڈانی یونیورسٹی تیزی سے ایک ایسے تعلیمی مرکز کے طور پر اُبھر رہی ہے جو صنعت، تحقیق اور ٹیکنالوجی پر مبنی مستقبل کیلئے قائدانہ صلاحیت رکھنے والے نوجوان تیار کر رہی ہے۔ یونیورسٹی انجینئرنگ، ٹیکنالوجی، بزنس مینجمنٹ، انٹرڈسپلنری ریسرچ اور نیپ کمپلائنٹ پروگرامز پیش کرتی ہے اور 1800 سے زائد طلبہ یہاں زیر تعلیم ہیں۔ یہ گجرات کی پہلی یونیورسٹی ہے جسے ISO 21001:2018 سرٹیفیکشن حاصل ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Nobel Peace Prize: ’مجھے کیوں نہیں؟‘ ڈونلڈ ٹرمپ نے نوبیل امن انعام پر نوبیل کمیٹی کو سنائی کھری کھری

نوبیل امن انعام 2026 کے اعلان سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار…

1 hour ago

Manoj Jha Statement: پٹنہ میں سی ای سی کے خلاف احتجاج پر منوج جھا بولے، ’جمہوریت کے لیے مشکل وقت، اب مسلسل ہوں گے مظاہرے‘

راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ منوج جھا نے پٹنہ میں چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی)…

2 hours ago

Air India EasyRoom: ایئرپورٹ پر سم تلاش کرنے کی پریشانی ختم، ایئر انڈیا کا ایزی روم مسافروں کے لیے نئی سہولت

ایئر انڈیا کی اس نئی سہولت کا مقصد بیرون ملک پہنچنے کے بعد مقامی سم…

3 hours ago