ممتاز شاعر، مصنف اور ماہرتعلیم ڈاکٹر نریش، جو پنجاب یونیورسٹی میں جدید ادب کے سابق پروفیسر اور چنڈی گڑھ ساہتیہ اکادمی (چنڈی گڑھ اکیڈمی آف لیٹرز)کے سابق چیئرمین رہ چکے ہیں، کو چنڈی گڑھ ساہتیہ اکادمی کی جانب سے اردو ادب میںسال 2025 کے لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ یہ اعزاز اردو ادب کے لیے ڈاکٹر نریش کی چھ دہائیوں پر محیط ان کی زندگی بھر کی ممتاز ادبی خدمات اور علمی سفر کا اعتراف ہے۔
ڈاکٹر نریش 7 نومبر 1942 کو پنجاب کے مالیرکوٹلہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اردو اور ہندی میں ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کیں اور ’’جدید ہندی شاعری پر اردو کے اثرات‘‘ کے موضوع پر تحقیقی مقالہ پیش کرکے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ پنجاب یونیورسٹی سے ان کا تعلق 1968 میں قائم ہوا، جہاں انہوں نے 1987 تک ہندی کے لیکچرر اور ریڈر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد انہوں نے 1988 سے 2004 تک پنجاب یونیورسٹی میں جدید ادب کے بھائی ویر سنگھ چیئر کے پروفیسر اور چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد وہ 2005 سے 2008 تک چنڈی گڑھ ساہتیہ اکادمی کے چیئرمین بھی رہے۔
ڈاکٹر نریش کثیرلسانی مصنف، شاعر، نقاد اور مترجم ہیں اور انہوں نے اردو، ہندی، پنجابی اور انگریزی ادب میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے شاعری، افسانوی ادب، ادبی تنقید، فلسفے، روحانیت اور دیگر موضوعات پر 100 سے زائد کتابیں تصنیف کی ہیں۔ ان کی تحریریں متعدد مجموعوں میں بھی شامل ہیں، جب کہ ان کے 1,000 سے زیادہ مضامین، نظمیں اور مختصر کہانیاں مختلف رسائل اور اخبارات میں شائع ہو چکی ہیں۔ انہوں نے آل انڈیا ریڈیو اور دوردرشن کے ذریعے ادبی مباحث اور ادبی سرگرمیوں میں بھی وسیع پیمانے پر حصہ لیا ہے۔
ڈاکٹر نریش کے ادبی سفر میں اردو کو خصوصی اہمیت
ڈاکٹر نریش کے ادبی سفر میں اردو کو خصوصی اہمیت حاصل رہی ہے۔ کئی دہائیوں کے دوران اس زبان کے لیے ان کی خدمات کی متعدد ممتاز ادبی اداروں اور حکومتوں نے پذیرائی کی ہے۔ انہیں دیے جانے والے اعزازات میں غالب ایوارڈ، مدھیہ پردیش اردو اکادمی کا آل انڈیا ایوارڈ، حکومتِ پنجاب کا شریومنی ساہتیہ کار ایوارڈ، خواجہ الطاف حسین حالی ایوارڈ، لالہ جگت نارائن ایوارڈ، حکومتِ ہریانہ کا باوقار ہریانہ ایوارڈ اور اتر پردیش، مغربی بنگال اور بہار کی اردو اکادمیوں کے اعزازات شامل ہیں۔ ان کی کتاب ’’لوحِ حیات‘‘ کو بھی اتر پردیش اردو اکادمی کی جانب سے اعزاز سے نوازا گیا ہے۔
ادب کے وسیع تر میدان میں ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد قومی اور بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا گیا ہے۔ ان میں کتاب ’’چنتن اور مولیانکن‘‘ کے لیے حکومتِ ہند کا ایوارڈ اور ہندی، اردو اور پنجابی ادب کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں ہریانہ حکومت کا لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ شامل ہیں۔
ڈاکٹر نریش پنجاب یونیورسٹی کی سینیٹ اور شعبۂ لسانیات کے علاوہ مختلف یونیورسٹیوں میں اردو، ہندی اور پنجابی کے نصاب سے متعلق مطالعاتی بورڈوں سے بھی وابستہ رہے ہیں۔
چنڈی گڑھ ساہتیہ اکادمی کی جانب سے سال 2025 کے لیے دیا جانے والا یہ اعزاز ڈاکٹر نریش کے اس ادبی سفر میں ایک اور اہم اضافہ ہے، جو اردو زبان و ادب کے فروغ اور ہندوستان کی بڑی ادبی زبانوں کے درمیان رابطے اور ہم آہنگی کو مستحکم کرنے کے لیے وقف رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
جانچ کے دوران روزانہ 2 لاکھ اسٹینڈرڈ کیوبک میٹر تک گیس کا بہاؤ ریکارڈ، یومیہ…
کانگریس نے سماجوادی پارٹی کو 172 اسمبلی سیٹوں کی فہرست سونپی، چار زمروں میں تقسیم…
مرکزی وزیر داخلہ نے راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ کی عوامی فلاح و بہبود کے…
نئی دہلی میں منعقد ہونے والے ’ایجوکیشن ورلڈ انڈیا اسکول رینکنگز 2026-27 ایوارڈز‘ میں بھارت…
مالی سال 2026-2027 کی دوسری سہ ماہی کے دوران بھارت میں بجلی کی مانگ گزشتہ…
سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور مختلف توانائی مراکز پر مسلسل ہونے والے حملوں نے…