قومی

Dr Farooq Abdullah Reaction: ”اللہ ہی جانتا ہے کہ ہماری کیا حالت ہوگی…“، امریکہ-ایران کشیدگی پر فاروق عبداللہ کا اظہار تشویش

سری نگر: نیشنل کانفرنس کے صدر اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ تنازعہ جلد ختم نہ ہوا تو پوری دنیا، خصوصاً بھارت جیسے ممالک کو سنگین معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ عام لوگوں کی زندگی کو مزید مشکل بنا دے گا اور حالات تباہی کی طرف جا سکتے ہیں۔ سری نگر میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حالیہ اپیل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک پہلے ہی گیس اور پٹرول کے بحران سے دوچار ہے۔ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگی صورتحال مزید بڑھی تو اس کے اثرات پوری معیشت پر پڑیں گے۔ انہوں نے کہا، ”اللہ ہی جانتا ہے کہ ہماری کیا حالت ہوگی۔ ہم تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ وقت بہت مشکل ہے اور ہمیں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ اس بحران سے نکلنے کا راستہ کیا ہو سکتا ہے“۔

فاروق عبداللہ نے کہا کہ صرف آن لائن نظام یا وقتی اقدامات سے مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ حکومت کو مضبوط معاشی حکمت عملی تیار کرنی ہوگی۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر جاری تنازعات کا براہ راست اثر بھارت کی معیشت، تجارت اور عوامی زندگی پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان لڑائی بند نہ ہوئی تو آنے والے دنوں میں حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ اس موقع پر فاروق عبداللہ نے کشمیر میں شراب کی فروخت کے معاملے پر بھی کھل کر اپنی رائے دی۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود شراب نہیں پیتے، لیکن جو لوگ شراب پینے کے عادی ہیں، وہ کسی نہ کسی طریقے سے اسے حاصل کر ہی لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کشمیر میں شراب دستیاب نہ ہوگی تو لوگ باہر جا کر خرید لیں گے، اس لیے صرف پابندی لگا دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر سیاست کرنے کے بجائے حقیقت پسندانہ رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ فاروق عبداللہ نے اپنے والد اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ شیخ عبداللہ کا ایک پرانا واقعہ بھی سنایا۔ انہوں نے بتایا کہ جب ان کے والد ایک انتخاب جیتنے کے بعد اقتدار میں آئے تھے تو اس وقت کے وزیر اعظم مورارجی دیسائی، جو شراب کے سخت مخالف تھے، نے جموں و کشمیر میں شراب بندی کی تجویز دی تھی۔ فاروق عبداللہ کے مطابق ان کے والد نے اس تجویز پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر مرکزی حکومت شراب سے حاصل ہونے والی آمدنی کا متبادل فراہم کر دے تو ریاست میں فوری طور پر شراب بندی نافذ کی جا سکتی ہے۔ تاہم بعد میں اس معاملے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج بھی اگر مرکزی حکومت جموں و کشمیر کو اس مالی نقصان کی تلافی کے لیے مناسب مدد فراہم کرے تو شراب کی فروخت پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ فاروق عبداللہ نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت نے شراب کی دکانیں نہیں کھولیں، بلکہ یہ عمل پہلے سے جاری تھا۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب ہر گاؤں میں شراب کی دکانیں کھولی جا رہی تھیں، تب کسی نے آواز نہیں اٹھائی، لیکن اب سیاسی فائدے کے لیے شور مچایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ پالیسی سازی ضروری ہے، نہ کہ صرف سیاسی بیانات۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

DUSU انتخابات: DUSU انتخابات: NSUI جیتے یا ABVP، خلاف ورزی پر ہوگی سخت کارروائی، دہلی ہائی کورٹ کا حکم

عدالت نے کہا کہ انتخابی ضابطوں کی ان خلاف ورزیوں کے لیے اجتماعی انتخابی ہرجانہ…

31 minutes ago

Todays Weather: موسم نے بدلا رخ! کئی علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان، آئی ایم ڈی نے جاری کی پیش گوئی

مانسون کی سرگرمیاں برقرار، بعض علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان؛ دہلی میں…

3 hours ago