دہلی کے تاریخی لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے قریب پیر کی شام ہوئے خوفناک کار دھماکے کی تفتیش میں ایک بڑا موڑ آیا ہے۔ سکیورٹی ایجنسیوں کے مطابق اس خودکش حملے کے پیچھے ڈاکٹر محمد عمر نامی مشتبہ شخص کا ہاتھ ہونے کا شبہ ہے۔ عمر، جو پیشے سے ڈاکٹر ہے، کو ایجنسیوں نے طنزیہ طور پر ”ڈاکٹر ڈیتھ“ کا لقب دیا ہے، کیونکہ وہ ایک ایسے پیشے سے وابستہ تھا جس کا مقصد جان بچانا ہوتا ہے، مگر اس پر معصوم جانیں لینے کا الزام ہے۔
ذرائع کے مطابق، دہلی کے لال قلعہ کے قریب دھماکے میں تباہ ہونے والی آئی-20 کار میں موجود لاش کا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جا رہا ہے تاکہ یہ تصدیق ہو سکے کہ مرنے والا خود ڈاکٹر محمد عمر ہی تھا۔ اب تک کی جانچ میں واضح ہوا ہے کہ یہ دھماکہ فریدآباد کے الٰفلاح یونیورسٹی سے جڑے ایک مشتبہ دہشت گرد ماڈیول سے وابستہ نیٹ ورک کی کارستانی ہو سکتی ہے۔
کون ہے ڈاکٹر محمد عمر؟
عمر کا تعلق کشمیر کے ضلع پلوامہ سے ہے۔ اس کے والد کا نام جی نبی بھٹ بتایا گیا ہے۔ عمر کی پیدائش 24 فروری 1989 کو ہوئی۔ ابتدائی تعلیم مقامی اسکول سے حاصل کرنے کے بعد اس نے گورنمنٹ میڈیکل کالج، سری نگر سے ایم ڈی (میڈیسن) کی ڈگری حاصل کی۔ بعدازاں وہ جی ایم سی، اننت ناگ میں سینئر ریزیڈنٹ کے طور پر خدمات انجام دیتا رہا۔ کچھ برس قبل وہ دہلی منتقل ہوا اور الٰفلاح میڈیکل کالج، فریدآباد میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر (فزیشن) کام کرنے لگا۔
ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ عمر، فریدآباد سے گرفتار کیے گئے ڈاکٹر عدیل کا قریبی ساتھی تھا۔ دونوں انکرپٹیڈ ٹیلیگرام چینلوں پر فعال ریڈیکل ڈاکٹر گروپ سے جڑے تھے، جہاں مبینہ طور پر شدت پسند نظریات کی ترویج کی جاتی تھی۔ پولیس نے حال ہی میں اسی نیٹ ورک کے سلسلے میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران ڈاکٹر مزمل شکیل نامی میڈیکل طالب علم کو گرفتار کیا تھا، جس کے قبضے سے بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ برآمد ہوا تھا۔
دہشت گرد ماڈیول سے جڑا ہوا نیٹ ورک
ذرائع کے مطابق، عمر کا تعلق کالعدم تنظیم جیشِ محمد کے ایک فعال ماڈیول سے تھا۔ فریدآباد میں حالیہ چھاپہ ماری کے دوران جب پولیس نے تقریباً 2900 کلوگرام دھماکہ خیز مواد برآمد کیا، تو اس کے بعد عمر خوفزدہ ہو گیا۔ ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ گرفتاری سے بچنے کے لیے اس نے عجلت میں دہلی میں خودکش حملہ انجام دیا۔
پلوامہ میں عمر کے گھر پر چھاپہ
سکیورٹی ایجنسیوں نے دہلی دھماکے کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے پلوامہ کے کوئل علاقے میں عمر کے آبائی گھر پر چھاپہ مارا۔ اس کے دو بھائیوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جبکہ والدہ اور دیگر اہل خانہ سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ تفتیش کار یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا گھر والوں کو عمر کی سرگرمیوں کی کوئی خبر تھی یا نہیں۔
گھر والوں کا بیان
عمر کی بھابھی مزملہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ عمر اکثر فون پر کم بات کرتا تھا اور پڑھائی کا بہانہ بناتا تھا۔ اس نے دو تین دن میں گھر آنے کا وعدہ کیا تھا۔ ”میں نے اسے کہا کہ وہ واپس آجائے، اس پر اس نے جواب دیا کہ وہ دو یا تین دن میں گھر آ جائے گا“۔ بھابھی کے مطابق، عمر نے بتایا تھا کہ وہ امتحان کی تیاری کے لیے لائبریری میں مصروف ہے اور کوئی اس کو پریشان نہ کرے۔
فی الحال دہلی پولیس، این آئی اے اور ہریانہ پولیس اس معاملے کی مشترکہ تفتیش کر رہی ہیں۔ ڈاکٹر محمد عمر کو اس دھماکے کا ممکنہ ماسٹر مائنڈ مانا جا رہا ہے اور ایجنسیاں یہ جاننے میں مصروف ہیں کہ آیا اس کے پیچھے کوئی بڑا بین الاقوامی نیٹ ورک تو سرگرم نہیں۔ تحقیقات کا دائرہ اب جموں و کشمیر، دہلی اور ہریانہ تک پھیل چکا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
اس حساب سے اگر تقریباً 5 سیکنڈ کی اے آئی ویڈیو تیار کی جائے تو…
تمل ناڈو حکومت نے پیروُنتھلایور کامراج ناشتہ اسکیم کے بہتر نفاذ کے لیے حکام کو…
ساحل کے والد نے صرف استاد کے خلاف ہی نہیں بلکہ فیکلٹی کے سینئر افسران…
اویسی نے حال ہی میں بھوپال میں منعقد اپنے پروگرام کا بھی ذکر کیا۔ وہاں…
واقعے کے بعد سرکاری طبی مرکز میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات پر بھی سوال…
پریم سنگھ کے پاس اس وقت تقریباً 6.3 کلوگرام سونا ہے، جسے وہ روزانہ پہن…