قومی

Congress Protest: ”ہمت ہے تو نوٹ سے ہٹا کر دکھائیں مہاتما گاندھی کی تصویر“- ڈی کے شیوکمار کا حکومت کو چیلنج، کانگریس کے احتجاج میں نائب وزیر اعلیٰ کا مرکز پر سخت حملہ

بنگلور/بیلگاوی: کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر ڈی کے شیوکمار کے ایک جارحانہ بیان نے ملکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ نیشنل ہیرالڈ معاملے اور منریگا قانون کے نام میں تبدیلی کے خلاف کانگریس کے احتجاج کے دوران ڈی کے شیوکمار نے مرکزی حکومت کو کھلا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت میں ہمت ہے تو کرنسی نوٹوں سے مہاتما گاندھی کی تصویر ہٹا کر دکھائے۔ ان کے اس بیان کو مرکز کی پالیسیوں کے خلاف کانگریس کے سخت مؤقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ بیان جمعرات 18 نومبر کو بیلگاوی میں واقع سوورن سودھا کے احاطے میں مہاتما گاندھی کے مجسمے کے پاس منعقدہ احتجاجی مظاہرے کے دوران دیا گیا۔ کرناٹک کانگریس نے اس احتجاج کا انعقاد نیشنل ہیرالڈ کیس اور مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کے نام میں تبدیلی کے خلاف کیا تھا۔ ڈی کے شیوکمار نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہاتما گاندھی محض ایک شخصیت نہیں بلکہ ہندوستان کی روح ہیں اور ان کے نام اور نظریات کو مٹانے کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔

ڈی کے شیوکمار نے اپنے خطاب میں کہا، ”اگر آپ میں ہمت ہے تو آپ نوٹوں سے مہاتما گاندھی کی تصویر ہٹا دیں، آپ ایسا نہیں کر سکتے“۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکز کی جانب سے منریگا کا نام بدلنا اور نیشنل ہیرالڈ کیس کو آگے بڑھانا سیاسی انتقام کی مثال ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے منریگا قانون کا نام تبدیل کر کے ’وکست بھارت روزگار اور آجیویکا مشن گارنٹی (دیہی) بل‘ رکھنے کے فیصلے پر کانگریس مسلسل حملہ آور ہے۔ بدھ 17 نومبر کو آل انڈیا ان آرگنائزڈ ورکرز کانگریس کے تحت دہلی میں بھی احتجاج کیا گیا، جہاں کانگریس لیڈر ادت راج نے نئے بل کی کاپی نذرِ آتش کر کے اپنا احتجاج درج کرایا۔

کرناٹک کانگریس نے دہلی سے لے کر ریاست کے مختلف حصوں تک مرکز کے خلاف مظاہروں میں تیزی لا دی ہے۔ وزیر اعلیٰ سدارامیا اور نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر اقتدار کے غلط استعمال اور نفرت کی سیاست کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ بیلگاوی میں ہوئے مظاہرے کے دوران کانگریس کارکنوں نے مرکزی حکومت کے فیصلوں کو آئین اور گاندھیائی اقدار کے خلاف قرار دیا۔ ادھر کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی نیشنل ہیرالڈ کیس پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ سیاسی بدلے کی نیت سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ اس کا مقصد گاندھی خاندان اور کانگریس قیادت کو ہراساں کرنا ہے۔ کانگریس نے واضح کیا ہے کہ وہ ان معاملات پر سڑک سے لے کر پارلیمنٹ تک اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Bhartiya Patrakarita Mahotsav: بھارت ایکسپریس کی اہم شراکت سے اندور میں صحافت کا مہاکمبھ اختتام پذیر

اندور میں اسٹیٹ پریس کلب کے زیرِ اہتمام منعقدہ تین روزہ اٹھارویں ’انڈین جرنلزم فیسٹیول‘…

59 minutes ago

Adani Group: اڈانی گروپ اور کچھ یونیورسٹی نے گرین انرجی سینٹر آف ایکسیلنس کا کیا آغاز، ہر سال 10 ہزار سے زائد طلبہ کو ملے گی تربیت

اڈانی گروپ کی اسکل ڈیولپمنٹ اور صلاحیت سازی کی اکائی اڈانی اسکلز اینڈ ایجوکیشن (ASE)…

2 hours ago