قومی

ڈیجیٹل عہد میں سوشل میڈیا کا استعمال بقدر ضرورت ہی کرنا چاہئے، اردواکادمی، دہلی کے زیراہتمام منعقدہ سیمینارمیں دوسرے دن سینئرصحافی شاہد لطیف کا بڑا مشورہ

 نئی دہلی:  ڈیجیٹل میڈیا آج کے انسان کی ناگزیرضرورت ہے، اس کے بغیرنہ ہم اپنے ارد گرد سے باخبررہ سکتے ہیں اورنہ ہی دنیا جہان کی ہمیں کوئی خبرہوسکتی ہے۔ بعض حالات میں تو سوشل میڈیا انسان کی ایسی ضرورت بن گیا ہے کہ اسے استعمال کیے بغیرانسان مکمل بے بس اوربے آسرا ہوجاتاہے، لہٰذا وقت کی ضرورت کے مطابق ہمیں اس سے آگاہ ہونا اوراس کے ٹولس سیکھنا نہایت لازمی ہے۔ مذکورہ خیالات کااظہاراردو اکادمی، دہلی کے زیر اہتمام ’’ڈیجیٹل میڈیا اور اردو زبان و ادب: عصری تناظر اورامکانات‘‘ کے عنوان سے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسرخالد اشرف نے کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ یہ درست ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اورڈیجیٹل میڈیا آج کے وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، مگراسے اپنے اوپرحاوی نہیں ہونے دینا چاہئے۔ مشینیں انسان ایجاد کرتا ہے نہ کہ مشینوں نے انسان ایجاد کیے ہیں، یہ معاملہ واقعی تشویش ناک اور قابل تاسف ہے کہ انسان اس کے چنگل میں پھنس جائے۔

ڈیجیٹل میڈیا اورجدید ٹکنالوجی کو ہیجانی میڈیا کہنا درست نہیں: معصوم مرادآبادی

اجلاس کے دوسرے صدر معروف صحافی معصوم مرادآبادی نے تحریری صدارتی خطبہ پیش کیا، جس میں ہلکے پھلکے اندازمیں جدید ٹیکنالوجی وڈیجیٹل میڈیا کے نقصانات وفوائد بیان کئے۔ انھوں نے اس خطبے میں بتایا کہ ڈیجیٹل میڈیا اورجدید ٹکنالوجی کو ہیجانی میڈیا کہنا درست نہیں ہے یا قبل ازوقت ہے، جبکہ اس کے فائدے اورانسان کی معاونت میں اس کا کردارناقابل فراموش ہے۔ پہلے اجلاس میں کل 7 مقالے پڑھے گئے جن میں ڈاکٹرمحمدرکن الدین (اردو کے آن لائن رسالے)، ڈاکٹرامتیازرومی (یورپ میں اردو پورٹلس مواقع و امکانات)، ڈاکٹررضی شہاب (صحافت میں مصنوعی ذہانت: مواقع اورچیلنجزاورامکانات)، معروف صحافی شاہد لطیف (آن لائن ادبی تبصرے: نوعیت وافادیت )، معروف صحافی سہیل انجم (زبانوں کی بقا اورڈیجیٹل میڈیا)، ڈاکٹرشکیل اختر(ڈیجیٹل میڈیا: ریڈیواوربچوں کا پروگرام) اورڈاکٹرعبد الحئی (ڈیجیٹل میڈیا پرادب وتنقید کا معیار اوررجحانات)  کے اسمائے گرامی شامل ہیں جبکہ اجلاس کی نظامت کے فرائض ڈاکٹرامیرحمزہ نے نہایت عالمانہ اورمحققانہ اندازمیں انجام دیئے۔

دونوں سیشن میں پیش کئے گئے 14 مقالے
سمینارکا دوسرا اجلاس معروف صحافی شاہد لطیف اورایڈوکیٹ ناصرعزیزکی صدارت میں ہوا، جس کی نظامت کے فرائض نوید رضا نے انجام دیئے۔ اس اجلاس میں کل 7 مقالے پڑھے گئے، جن میں پروفیسردانش اقبال (ڈیجیٹل ایجوکیشنل پورٹل)، ڈاکٹررضوان الحق (اردومیں ای کنٹینٹ )، ڈاکٹرمحمد قاسم انصاری (اردو صحافت اورڈیجیٹل میڈیا)، ڈاکٹرلیاقت علی (اردو تعلیم میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا کردار)، ڈاکٹرمظہرحسنین (اردواورسوشل میڈیا)، ڈاکٹرتالیف حیدر(ڈیجیٹل میڈیا اوراردو زبان)، ڈاکٹرسفینہ بیگم (اردومیں ای۔لرننگ کے پلیٹ فارمس) شامل ہیں۔

ڈیجیٹل میڈیا نے ہماری ادبی اور سماجی زندگی کو متاثر کیا ہے: ناصرعزیز
اجلاس کے صدارتی خطبے میں ناصرعزیز نے کہا کہ گزشتہ 10-15 برسوں میں ڈیجیٹل میڈیا نے ہماری ادبی اور سماجی زندگی کو متاثر کیا ہے، جس پرہمارے مقالہ نگاروں نے بھی توجہ دی ہے اوراس موضوع پرشاندارمقالات پیش کیے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ مقالے یقیناً ڈیجیٹل ورلڈ اورمیڈیا سے ہماری رہنمائی کریں گے۔ اجلاس کے دوسرے صدر شاہد لطیف نے فرداً فرداً تمام مقالوں پراظہارخیال کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل عہد میں ہمیں ہرگزیہ فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ ہمارے بچے کتابوں سے دورہوجائیں اورآنے والے چند برسوں میں ایسا ماحول بنے کہ وہ کتاب نام کی کسی چیزسے واقف نہ ہوں۔ انھوں نے کہا کہ ڈیجیٹل عہد میں ہمیں ضرورچیلنجزکا سامنا ہے، لہٰذا مناسب ہوگا کہ ہم سوشل میڈیا کا استعمال بقدرضرورت ہی کریں۔ انھوں نے جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت پرزوردیتے ہوئے کہا کہ ہمیں جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی سے اس لئے واقف ہونا ضروری ہے، تاکہ ہم کسی سے پیچھے نہ رہ جائیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

قدیمی مسجد ہٹانے کے مرکز کے حلف نامہ پربرہم ہوئے عمران مسعود، کہا- آج مسجد ہٹاوگے، کل مندروں کا کیا کروگے؟

دہلی کی 100 سال پرانی قدیمی مسجد ہٹانے کے مرکز کے حلف نامہ پر تنازعہ…

1 hour ago

World Bank India Poverty Reduction: غربت کی لکیر سے باہر آئے 49.6 کروڑ افراد، عالمی بینک کی رپورٹ میں بھارت کی بدلی ہوئی تصویر

عالمی بینک کی اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق، 2011 سے 2023 کے درمیان بھارت…

1 hour ago

Agniveer Agnipath Scheme: اگنی ویروں کو مودی حکومت نے دیا بڑا تحفہ، 2 سال کی توسیع، 75 فیصد کی فوج میں ہوگی بھرتی

مرکزی کابینہ نے اگنی ویروں کے حوالے سے بڑا اعلان کیا ہے۔ اب 75 فیصد…

2 hours ago