دارالحکومت دہلی کی سڑکوں پر حال ہی میں ہونے والے ایک بڑے احتجاج اور اس کے بعد پولیس کی تیزی سے کی گئی کارروائی نے ملک بھر کے لوگوں کی توجہ اپنی جانب کھینچی ہے۔ اس پورے واقعے کے دوران ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر قانونی اصطلاحات کا ایسا سلسلہ سامنے آیا کہ عام لوگوں کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوگیا کہ آخر ان سب کا مطلب کیا ہے۔ کہیں کسی سماجی کارکن کو گھر سے حراست میں لیے جانے کی خبر آئی، تو کہیں کچھ لوگوں کو موقع پر ہی گرفتار کرلیا گیا۔ اس کے بعد گرفتار رہنماؤں کو عدالت کی جانب سے عدالتی حراست میں بھیجنے کی خبریں سامنے آئیں۔
جب قانون اور پولیس کی کارروائی سے متعلق ایسی خبریں سامنے آتی ہیں تو ہر عام شہری کے ذہن میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ ان تمام اصطلاحات کے درمیان بنیادی فرق کیا ہے؟ پولیس بغیر وارنٹ کسی کو کیسے حراست میں لے سکتی ہے؟ حراست اور گرفتاری میں کیا فرق ہوتا ہے؟ آئیے، نئے فوجداری قوانین یعنی بھارتی شہری تحفظ سنہتا (بی این ایس ایس)، 2023 کی روشنی میں ان قانونی اصطلاحات اور طریقہ کار کو آسان زبان میں سمجھتے ہیں۔
حراست: صرف احتیاطی اقدام
جب پولیس کو اندیشہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص اشتعال انگیز تقریر یا احتجاج کے ذریعے امن و امان کی صورت حال خراب کرسکتا ہے تو جرم ہونے سے پہلے ہی اسے روک لیا جاتا ہے۔ اسے حراست میں لینا یا ڈیٹین کرنا کہتے ہیں۔ حالیہ واقعات میں کئی معروف شخصیات کو احتجاج کی جگہ پر پہنچنے سے پہلے ہی اسی طرح روک دیا گیا۔
قواعد اور حدود: اس عمل میں ضروری نہیں کہ متعلقہ شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔ پولیس احتیاطی اقدام کے طور پر کسی کو بغیر وارنٹ حراست میں لے سکتی ہے، لیکن قانون کے مطابق اسے کسی بھی شہری کو 24 گھنٹے سے زیادہ اپنی تحویل میں رکھنے کا اختیار نہیں ہے۔ 24 گھنٹے کے اندر یا تو اسے رہا کرنا ہوگا یا مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازمی ہوگا۔
گرفتاری: جب معاملہ سنگین جرم کا ہو
حراست سے بالکل مختلف کارروائی گرفتاری ہے۔ جب کوئی شخص فساد بھڑکانے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے یا پولیس پر حملہ کرنے جیسے سنگین اور قابلِ دست اندازی جرائم کا ارتکاب کرتا ہے تو پولیس اسے براہ راست گرفتار کرسکتی ہے۔ ایسے معاملات میں عدالت کے حکم یا گرفتاری کے وارنٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اہم قواعد: نئے قانون، بی این ایس ایس کی دفعہ 35 کے تحت اگر ملزم کی عمر 60 سال سے زیادہ ہو یا وہ شدید بیمار ہو اور معاملہ ایسے جرم کا ہو جس میں تین سال سے کم سزا کی گنجائش ہو تو پولیس اسے براہ راست گرفتار نہیں کرسکتی۔ اس کے لیے پولیس کو پہلے ڈی ایس پی سطح کے افسر سے تحریری اجازت لینی ہوتی ہے۔ دوسری طرف، معمولی یا غیر سنگین معاملات میں پولیس کو پہلے مجسٹریٹ سے گرفتاری کا وارنٹ حاصل کرنا پڑتا ہے۔
پولیس ریمانڈ اور عدالتی حراست میں کیا فرق ہے؟
اکثر لوگ پولیس کی تحویل اور جیل بھیجے جانے کو ایک ہی سمجھ لیتے ہیں، لیکن قانونی طور پر دونوں میں بڑا فرق ہے۔
پولیس ریمانڈ: جب کسی شخص کو گرفتار کیا جاتا ہے تو پوچھ گچھ اور شواہد جمع کرنے کے لیے اسے تھانے کی حوالات میں رکھا جاسکتا ہے۔ مجسٹریٹ کی اجازت سے پولیس کی تحویل زیادہ سے زیادہ 15 دن تک ہوسکتی ہے۔ اس دوران پولیس کو پوچھ گچھ کا اختیار ہوتا ہے، لیکن مارپیٹ یا تھرڈ ڈگری تشدد قانوناً جرم ہے۔
عدالتی حراست: جب پولیس کی پوچھ گچھ مکمل ہوجاتی ہے یا عدالت کو لگتا ہے کہ ملزم کو مزید پولیس کی تحویل میں رکھنا مناسب نہیں، تو اسے جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ حالیہ معاملات میں بھی ملزمان کو تہاڑ جیسی جیلوں میں بھیجے جانے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ عدالتی حراست میں ملزم پولیس کے بجائے عدالت کے اختیار میں ہوتا ہے۔ سنگین معاملات میں یہ مدت 90 دن تک ہوسکتی ہے، جس کے اندر پولیس کو عدالت میں چارج شیٹ داخل کرنی ہوتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
یونیورسٹی کے 10 فیکلٹیز کے طلبہ کو مجموعی طور پر 2,320 ڈگریاں دی گئیں، جن…
ہندوستان کی ثابت شدہ ٹیکنالوجی اب دنیا تک پہنچنے کے لیے تیار، ترقی یافتہ ممالک…
پرشانت بھوشن کے اقتدار کی تبدیلی سے متعلق بیان پر وجیتا دہیا نے کہا، ’’انہوں…
منیشا کوئرالا نے خواتین سمیت سبھی لوگوں سے صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کی اپیل…
ڈاکٹر شالنی علی کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کو خواتین کے ریزرویشن اور حد بندی…
ایچ ڈی ایف سی بینک کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر کائیزاد بھروچا 31 دسمبر 2026 کو…