ممبئی: دھاراوی ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ نے زمینی سطح پر عمل درآمد کی جانب ایک اور اہم قدم اٹھا لیا ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے شاہو نگر کے رہائشیوں کو اپنے مکانات خالی کرنے کے نوٹس جاری کرنا شروع کر دیے ہیں تاکہ تعمیر نو اور بحالی کے کام کو تیز کیا جا سکے۔ سرکاری بیان کے مطابق، گزشتہ ماہ دھاراوی ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ (ڈی آر پی) اور سلَم ری ہیبلیٹیشن اتھارٹی (ایس آر اے) نے سیکٹر-6 کے رہائشیوں کو بھی اسی نوعیت کے نوٹس جاری کیے تھے۔ حکومت کا مقصد دھاراوی کے اندر زمین کو خالی کرا کے تعمیراتی سرگرمیوں کو تیز کرنا ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو جلد از جلد مستقل مکانات فراہم کیے جا سکیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مہاراشٹر حکومت اور متعلقہ اداروں کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ منصوبے کو محض منصوبہ بندی سے نکال کر عملی مرحلے میں داخل کیا جائے۔
رہائشیوں کے حقوق رہیں گے محفوظ
حالیہ پیش رفت کو وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس کی اس ہدایت کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے جس میں 2028 تک 10 ہزار مکانات فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ شاہو نگر میں مقیم تقریباً 900 بی ایم سی کرایہ دار خاندانوں کو عارضی طور پر منتقل ہونا ہوگا۔ سرکاری افسران کے مطابق جو خاندان ٹرانزٹ رہائش اختیار کریں گے، انہیں دھاراوی کے سیکٹر-5 میں واقع مہاڈا (MHADA) کی عمارتوں میں رہائش دی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے تقریباً 500 رہائشی یونٹس پہلے ہی تیار کیے جا چکے ہیں، جبکہ دیگر خاندان کرایہ کی رہائش اختیار کر سکیں گے۔ حکام کے مطابق مکانات خالی کرنے سے پہلے رہائشیوں کے ساتھ ایک باضابطہ معاہدہ کیا جائے گا جس میں عارضی منتقلی کی شرائط اور بحالی کے حقوق واضح طور پر درج ہوں گے۔ افسران نے یقین دہانی کرائی ہے کہ شاہو نگر کے مکینوں کو تعمیراتی کام شروع ہونے کے پانچ سال کے اندر اسی علاقے میں مستقل مکانات فراہم کیے جائیں گے۔
بہتر معیار کی عارضی رہائش
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرانزٹ ہاؤسنگ کے تحت فراہم کیے جانے والے فلیٹ موجودہ بیشتر رہائشی یونٹس کے مقابلے میں زیادہ کشادہ اور بہتر معیار کے ہوں گے۔ ان کی دیکھ بھال دھاراوی ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ اور این ایم ڈی پی ایل کے ذریعے کی جائے گی تاکہ رہائشیوں کو محفوظ اور آرام دہ ماحول میسر آ سکے۔ منتقلی پیکیج کے تحت 275 مربع فٹ تک کے گھروں میں رہنے والے خاندانوں کو ماہانہ 22 ہزار روپے کرایہ امداد دی جائے گی، جبکہ 375 مربع فٹ کے مکانات میں رہنے والوں کو 30 ہزار روپے ماہانہ ملیں گے۔ حکام کے مطابق اس امداد میں ہر سال 5 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ہر خاندان کو ایک مرتبہ 15 ہزار روپے بطور منتقلی الاؤنس بھی دیا جائے گا، چاہے وہ کرایہ کی رہائش اختیار کرے یا ٹرانزٹ ہاؤسنگ میں منتقل ہو۔
نئے گھروں کا رقبہ زیادہ ہوگا
دھاراوی ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے تحت شاہو نگر کے رہائشی کم از کم 500 مربع فٹ کارپٹ ایریا پر مشتمل نئے مکانات حاصل کرنے کے حقدار ہوں گے۔ اگر موجودہ مکان کا رقبہ زیادہ بنتا ہے تو انہیں موجودہ کارپٹ ایریا سے 1.35 گنا بڑا گھر فراہم کیا جائے گا۔ سرکاری افسران کے مطابق منتقلی کے پورے عمل کو رہائشیوں کے لیے سہل اور دوستانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ کم سے کم مشکلات پیش آئیں۔ منصوبے کا بنیادی مقصد مرحلہ وار تعمیراتی سرگرمیوں کا آغاز اور مستقل بحالی و تجدیدی مکانات کی جلد فراہمی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…
فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان…
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…