قومی

Dewas Spurious Liquor Tragedy: مدھیہ پردیش کے دیواس میں مشتبہ زہریلی شراب سے 13 اموات، چار دوستوں کی ایک ساتھ موت سے مچی سنسنی

مدھیہ پردیش کے دیواس ضلع میں غیر قانونی اور مشتبہ شراب کے کاروبار کو لے کر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ضلع کے چاندانا اور بنجانا گاؤں میں 27 ستمبر سے 16 اکتوبر کے درمیان محض 20 دن میں 13 افراد کی مشتبہ حالات میں موت ہو گئی۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں سوگ اور خوف کا ماحول ہے، جبکہ سیاسی جماعتوں نے بھی ریاستی حکومت کو گھیرنا شروع کر دیا ہے۔

چار دوستوں کی ایک ساتھ موت کا دعویٰ

متاثرہ خاندانوں اور مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ یہ اموات زہریلی اور ملاوٹ شدہ شراب پینے کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ دیہاتیوں کے مطابق، علاقے میں مبینہ طور پر ’ڈائری سسٹم‘ کے ذریعے غیر قانونی شراب کا کاروبار کھلے عام چل رہا ہے۔ سب سے زیادہ تشویش ناک معاملہ 15 اکتوبر کا بتایا جا رہا ہے، جب چاندانا گاؤں کے چار دوست دیپک راوت (28)، جتیندر (35)، اوم پرکاش (35) اور بھیما (55) نے ایک ساتھ بیٹھ کر شراب پی تھی۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اگلے ہی دن چاروں کی موت ہو گئی۔ اس کے علاوہ کئی دیگر افراد کو الٹی، چکر آنے اور آنکھوں کی روشنی کم ہونے جیسی سنگین شکایات بھی ہوئیں۔ ان میں سے بعض افراد کا اسپتالوں میں علاج جاری ہے۔ تاہم، ان اموات کی اصل وجہ کی تصدیق تفتیش اور طبی رپورٹوں کے بعد ہی ہو سکے گی۔

انتظامیہ نے زہریلی شراب سے اموات کے دعووں کو مسترد کیا

ایک طرف مقامی لوگ اور متاثرہ خاندان محکمہ آبکاری اور شراب کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث افراد پر سوال اٹھا رہے ہیں، تو دوسری طرف ضلع انتظامیہ نے زہریلی شراب سے اجتماعی اموات کی خبروں کو مسترد کیا ہے۔ دیواس کے ضلع مجسٹریٹ رِتوراج سنگھ اور ایس ڈی ایم ابھیشیک شرما کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی زہریلی شراب سے اجتماعی اموات کی خبریں غلط اور گمراہ کن ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق، ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کسی زہریلے مادے سے موت کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ اس طرح ایک جانب متاثرہ خاندان شراب کو اموات کی وجہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب انتظامیہ نے ان دعووں کی تردید کی ہے۔ ایسے میں اموات کی اصل وجہ جاننے کے لیے غیر جانب دارانہ اور تفصیلی تحقیقات اہم ہیں۔

سابق مرکزی وزیر ارون یادو نے حکومت پر اٹھائے سوالات

اس واقعے کے بعد مدھیہ پردیش کی سیاست میں بھی ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔ سابق مرکزی وزیر ارون یادو نے وزیر اعلیٰ موہن یادو کی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا کہ ساگر واقعے کے بعد بھی غیر قانونی شراب کے کاروبار پر قابو کیوں نہیں پایا جا رہا ہے۔ دیواس میں ہونے والی اموات نے ایک بار پھر غیر قانونی شراب کی فروخت، نگرانی کے نظام اور متعلقہ محکموں کی ذمہ داریوں پر بحث چھیڑ دی ہے۔ تاہم، متاثرہ خاندانوں کے الزامات اور انتظامیہ کے دعووں کے درمیان اصل حقیقت تفصیلی اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

INDIA Alliance Mega Rally: ایس آئی آر کے معاملے پر سنجے دت نے کھولا محاذ، یکم نومبر کو دہلی میں ’ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ‘ ریلی

کانگریس کے ہریانہ انچارج نے الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور بیلٹ پیپر کے…

2 hours ago

India vs New Zealand: تلک ورما بنے ٹیم انڈیا کے ہیرو، بھارت نے پھر کیا کمال، نیوزی لینڈ کو ہرا کر سیریز میں 2-0 کی برتری حاصل

کرائسٹ چرچ میں کھیلے گئے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں بھارت نے نیوزی لینڈ کو…

2 hours ago

Delhi School Incident: دہلی کے اسکول میں دردناک واقعہ، بارہویں جماعت کی طالبہ نے اسکول کیمپس میں لگائی آگ، موقع پر ہی موت

دہلی کے کرشنا نگر میں واقع سروودیہ بال ایوم بالیکا ودیالیہ میں بارہویں جماعت کی…

3 hours ago

Priti Adani Calls For Skilled Talent: بھارت کے سیمی کنڈکٹر مشن کو مضبوط بنانے کے لیے ہنرمند افرادی قوت ضروری: پریتی اڈانی

اڈانی یونیورسٹی کی صدر نے صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان اشتراک بڑھانے پر زور…

3 hours ago