نئی دہلی : دہلی کے منڈی ہاؤس واقع شری رام سینٹر میں 22 ستمبر کو میوزیکل ڈراما امر بلیدان پیش کیا گیا۔ یہ پروگرام گرو تیغ بہادر جی کی 350ویں شہادت کی برسی کے موقع پر منعقد کیا گیا، جس میں موسیقی اور تھیٹر کے ذریعے نویں سکھ گرو کی زندگی اور عظیم قربانی کو پیش کیا گیا۔گاندھی اسمرتی اینڈ درشن سمیتی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے اس ڈرامے نے ناظرین کو جذباتی طور پر متاثر کیا۔ ڈرامے میں گرو تیغ بہادر جی کی زندگی، ان کے اصولوں اور ان کی قربانی کو ڈرامائی انداز میں پیش کیا گیا۔
سکھ روایات کا خاص خیال
کملیش کمار کی تحریر کردہ اس پیش کش میں گروپ کے دیگر ارکان نے بھی تعاون کیا، جبکہ تھیٹر ڈائریکٹر راج اپادھیائے نے اس کی ہدایت کاری کی۔ ڈرامے میں گرو تیغ بہادر جی کی زندگی کو پیش کرتے ہوئے سکھ مذہبی روایات اور عقائد کا خصوصی خیال رکھا گیا۔تاریخی اور مذہبی شخصیات پر مبنی ڈراموں میں سب سے بڑا چیلنج ان مقدس شخصیات کے احترام اور تقدس کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ سکھ روایت کے مطابق کسی اداکار کو براہ راست گرو صاحب کا کردار ادا کرنے یا گرو کا لباس پہننے کی اجازت نہیں ہے۔اسی وجہ سے ’امر بلی دان‘ میں ایک منفرد تھیٹر تکنیک اپنائی گئی۔ گرو تیغ بہادر جی کو اسٹیج پر براہ راست پیش نہیں کیا گیا، بلکہ راوی، موسیقی اور مختلف ڈرامائی مناظر کے ذریعے ان کی موجودگی، شخصیت اور وقار کو اجاگر کیا گیا۔
40 فنکاروں نے مغلیہ دور کی منظرکشی کی
22 सितंबर 2026 को मंडी हाउस के श्री राम सेंटर में ‘अमर बलिदान’ का भव्य मंचन हुआ। गुरु तेग बहादुर जी के 350वें शहादत वर्ष पर करीब 50 कलाकारों ने उनके अटूट विश्वास, निष्ठा और अमूल्य बलिदान की गाथा जीवंत की।#GandhiSmriti #GandhiDarshan #MinistryOfCulture pic.twitter.com/ztnkWgKQN8
— Gandhi Smriti and Darshan Samiti, New Delhi (@gsdsnewdelhi) September 23, 2026
تقریباً 40 فنکاروں کی ٹیم نے اپنی پرفارمنس اور مکالموں کے ذریعے مغلیہ دور کے ماحول کو اسٹیج پر زندہ کر دیا۔ راوی اور موسیقی پر مبنی پیش کش کے ذریعے کہانی کو آگے بڑھایا گیا۔ڈرامے کا آغاز مغلیہ افواج اور کشمیری پنڈتوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے مناظر سے ہوا۔ اس کے بعد گرو تیغ بہادر جی کے اس فیصلے کو نمایاں کیا گیا جس کے تحت انہوں نے کشمیری پنڈتوں کے دفاع میں مغل بادشاہ اورنگ زیب کی پالیسیوں کے خلاف کھڑے ہونے کا عزم کیا۔
بھائی مَتی داس، بھائی سَتی داس اور بھائی دیالہ جی کی قربانی بھی پیش
ڈرامے میں گرو تیغ بہادر جی کے قریبی ساتھی بھائی مَتی داس، بھائی سَتی داس اور بھائی دیالہ جی پر ہونے والے مظالم کو بھی پیش کیا گیا۔ شدید اذیت اور تشدد کے باوجود ان کے اپنے اصولوں اور عقیدے پر ثابت قدم رہنے کو ڈرامے کا اہم حصہ بنایا گیا۔ڈرامے میں چاندنی چوک میں گرو تیغ بہادر جی کی شہادت کو ہمت، اصول پسندی اور مذہبی آزادی کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔
تاریخی درستگی کے لیے مذہبی ماہرین سے مشاورت
ڈرامے کی تیاری کے دوران تاریخی حقائق کی درستگی اور سکھ روایات کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے مذہبی ماہرین سے بھی مشاورت کی گئی۔ روشنیوں اور موسیقی کے مؤثر استعمال نے ڈرامے کے مختلف مناظر میں مزید گہرائی پیدا کی اور ناظرین کو اس تاریخی داستان سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے…
گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے والا یہ بین الاقوامی ٹریڈ شو محض ایک نمائش نہیں…
دوسرا زمرہ، 50 فیصد فیس معافی: جن خاندانوں کی سالانہ آمدنی 4.1 لاکھ روپے سے…
کانگریس آج ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے دفاتر تک احتجاجی مارچ نکالے گی۔ وہیں…
حکام کے مطابق، سڑکوں کے کئی حصے اب بھی متاثر ہیں، جس کی وجہ سے…
بیشتر معاملات میں ووٹروں کا ریکارڈ 2002 میں دہلی میں ہونے والی گزشتہ SIR کی…