نئی دہلی: دہلی-این سی آر میں موسم نے ہلکی سردی کا احساس دلانا شروع کر دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی فضائی آلودگی کا مسئلہ بھی سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ کئی علاقوں میں ایئر کوالٹی انڈیکس یعنی اے کیو آئی 244 سے اوپر پہنچ چکا ہے، جسے ’خراب‘ زمرے میں رکھا جاتا ہے۔ ہوا کا معیار مسلسل بگڑنے کے بعد انتظامیہ نے احتیاطی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ اسی کے تحت گریڈڈ رسپانس ایکشن پلان یعنی GRAP کا پہلا مرحلہ نافذ کر دیا گیا ہے، تاکہ آلودگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔
وزیر ماحولیات نے کیا کہا؟
دہلی کے وزیر ماحولیات منجندر سنگھ سرسا کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں میں یہ پہلا موقع ہے جب موجودہ موسم میں GRAP کو اتنی تاخیر سے نافذ کرنا پڑا ہے۔ ان کے مطابق اس بار آلودگی پر قابو پانے کے لیے کئی انتظامات پہلے ہی فعال کر دیے گئے ہیں۔ حکومت کی توجہ اس بات پر ہے کہ حالات سنگین ہونے سے پہلے ہی ضروری اقدامات کر لیے جائیں۔
Delhi: On air pollution, Minister Manjinder Singh Sirsa says, “The GRAP-I notification has been issued today. Under GRAP-I, stricter measures have been implemented for all dust-mitigation parameters. Instructions have been issued to ensure that mechanical road sweepers cover 100% of roads from today…”
— IANS (@ians_india) October 21, 2026
آخر GRAP کیا ہے؟
GRAP کا پورا نام گریڈڈ رسپانس ایکشن پلان ہے۔ یہ دہلی اور این سی آر کے علاقے میں آلودگی کی مختلف سطحوں کے مطابق نافذ کیا جانے والا ایک خصوصی نظام ہے۔ آسان الفاظ میں، جیسے جیسے اے کیو آئی کی سطح خراب ہوتی جاتی ہے، ویسے ویسے سخت ضابطے اور پابندیاں نافذ کی جاتی ہیں۔ اس پورے نظام کی نگرانی اور نفاذ کی ذمہ داری کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ یعنی CAQM کے پاس ہے۔
اسٹیج I میں کیا کارروائی ہوتی ہے؟
GRAP کا پہلا مرحلہ ابتدائی سطح پر آلودگی کی روک تھام پر مرکوز ہوتا ہے۔ اس دوران سڑکوں کی مشینوں کے ذریعے صفائی اور پانی کے چھڑکاؤ میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ تعمیراتی مقامات پر اڑنے والی دھول کو قابو میں رکھنے کی ہدایات دی جاتی ہیں۔ کچرے کے انتظام کو بہتر بنانا، آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کی سخت جانچ اور ٹریفک کے نظام کو زیادہ مؤثر بنانا بھی اسی مرحلے کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ صنعتوں، بجلی گھروں اور اینٹوں کے بھٹوں سے خارج ہونے والی آلودگی پر بھی خصوصی نظر رکھی جاتی ہے، تاکہ آلودگی کی سطح کو قابو میں رکھا جا سکے۔
گاڑیوں اور پارکنگ کے حوالے سے سخت اقدامات
وزیر ماحولیات کے مطابق جن گاڑیوں کے پاس پالیوشن انڈر کنٹرول یعنی PUC کا درست سرٹیفکیٹ نہیں ہوگا، انہیں ایندھن نہیں دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی میٹرو اسٹیشنوں کی پارکنگ کو چھوڑ کر دہلی کی دیگر پارکنگ سہولتوں کی فیس دوگنی کرنے کی تیاری ہے۔ حکومت کا مقصد نجی گاڑیوں کے استعمال کو کم کرنا ہے۔ اسی وجہ سے دہلی میونسپل کارپوریشن اور سرکاری دفاتر کے لیے کام کے اوقات الگ الگ مقرر کرنے اور بعض معاملات میں گھر سے کام کرنے کا نظام نافذ کرنے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔
دھول اور کھلے میں کچرا جلانے پر سخت نگرانی
آلودگی روکنے کے لیے تعمیرات اور انہدام سے متعلق کاموں پر خصوصی نگرانی رکھی جائے گی۔ کھلے میں کچرا، پتے یا دیگر مواد جلانے پر مکمل پابندی ہوگی۔ دھول پر قابو پانے کے لیے دہلی بھر میں 608 اینٹی اسموگ گن اور 1,150 مسٹ اسپرے یونٹ تعینات کی گئی ہیں۔ تعمیراتی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی آلودگی پر نظر رکھنے کے لیے انٹیگریٹڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (ICCC) قائم کیا گیا ہے۔ وہیں گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں کو کم کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹریفک مینجمنٹ سسٹم استعمال کیا جا رہا ہے۔
اسٹیج II میں مزید سختی
جب آلودگی مزید بڑھتی ہے تو GRAP کا دوسرا مرحلہ نافذ کیا جاتا ہے۔ اس میں کئی ایسے اقدامات شامل ہیں جو پہلے تیسرے مرحلے میں نافذ ہوتے تھے۔ سرکاری دفاتر کے اوقات میں تبدیلی، پارکنگ فیس میں اضافہ اور ٹریفک کو قابو میں رکھنے کے اضافی اقدامات اسی سطح پر نافذ کیے جاتے ہیں۔ ہنگامی خدمات کو چھوڑ کر زیادہ تر ڈیزل جنریٹر بند کرنے کی ہدایات دی جاتی ہیں۔ تعمیراتی مقامات پر دھول کو قابو میں رکھنے کے انتظامات لازمی ہو جاتے ہیں۔ سڑکوں کی باقاعدہ مشینی صفائی، ویکیوم کلیننگ اور اینٹی اسموگ گن سے چھڑکاؤ بھی ضروری قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ڈی ٹی سی بسوں اور میٹرو خدمات کی تعداد بڑھائی جاتی ہے، تاکہ لوگ عوامی ٹرانسپورٹ کا زیادہ استعمال کریں۔ کھلے میں کچرا یا بایوماس جلانے والوں پر مالی جرمانہ بھی عائد کیا جاتا ہے۔
اسٹیج III میں گاڑیوں اور تعمیرات پر بڑی پابندیاں
تیسرے مرحلے میں پابندیاں کافی سخت ہو جاتی ہیں۔ غیر ضروری تعمیراتی اور انہدام سے متعلق کام روک دیے جاتے ہیں۔ بی ایس-III پیٹرول اور بی ایس-IV ڈیزل کی چار پہیہ گاڑیوں کے چلنے پر پابندی عائد کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ غیر ضروری ڈیزل سے چلنے والی درمیانے درجے کی مال بردار گاڑیوں کو چلنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ سی این جی، الیکٹرک یا بی ایس-VI معیار پر پورا نہ اترنے والی بین ریاستی ڈیزل بسوں کے دہلی میں داخلے پر بھی پابندی لگا دی جاتی ہے۔ تاہم میٹرو، ریلوے، ہوائی اڈوں، قومی شاہراہوں، دفاع، صحت اور صفائی جیسے ضروری منصوبے جاری رہ سکتے ہیں۔
اسٹیج IV سب سے سخت مرحلہ
جب آلودگی انتہائی سنگین سطح پر پہنچ جاتی ہے تو GRAP کا چوتھا اور آخری مرحلہ نافذ کیا جاتا ہے۔ اس دوران سڑکوں، فلائی اوور، شاہراہوں، بجلی کی لائنوں، پائپ لائنوں اور ٹیلی کام سے متعلق عوامی منصوبوں سمیت تقریباً ہر قسم کے تعمیراتی اور انہدام کے کام روک دیے جاتے ہیں۔ ضروری خدمات اور لازمی سامان کی ترسیل کرنے والے ٹرکوں کو چھوڑ کر دیگر ٹرکوں کے دہلی میں داخلے پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔ صرف سی این جی، ایل این جی، الیکٹرک اور بی ایس-VI ڈیزل ٹرکوں کو اجازت ملتی ہے۔ دہلی میں رجسٹرڈ بی ایس-IV اور اس سے کم معیار کے ڈیزل کے بھاری ٹرکوں پر بھی پابندی عائد کی جاتی ہے۔ دسمبر 2025 میں اسی مرحلے کے دوران دفاتر میں 50 فیصد ملازمین کے لیے گھر سے کام کرنے کا حکم بھی نافذ کیا گیا تھا۔
عام لوگوں کے لیے بھی ضروری ضابطے
GRAP صرف انتظامی اداروں کے لیے ہی نہیں، بلکہ شہریوں کے لیے بھی ایک طرح کا ’سٹی زن چارٹر‘ سمجھا جاتا ہے۔ CAQM لوگوں سے اپیل کرتا ہے کہ نجی گاڑیوں کا استعمال کم کریں، عوامی ٹرانسپورٹ کو ترجیح دیں، کچرا یا سوکھے پتے نہ جلائیں اور ڈیزل جنریٹر استعمال کرنے سے گریز کریں۔
2025 میں پورے نظام میں تبدیلی کی گئی تھی
21 نومبر 2025 کو CAQM نے GRAP کے ضابطوں کو مزید سخت کر دیا تھا۔ اس کے بعد کئی ایسی پابندیاں، جو پہلے بعد کے مراحل میں نافذ ہوتی تھیں، ابتدائی مراحل میں ہی شامل کر لی گئیں۔ اب مرحلہ دوم کی کئی پابندیاں مرحلہ اول میں، مرحلہ سوم کے بعض انتظامات مرحلہ دوم میں اور مرحلہ چہارم کے کئی ضابطے مرحلہ سوم میں نافذ کیے جا سکتے ہیں۔ اس تبدیلی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہوا کے انتہائی خراب ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے پہلے ہی احتیاطی اقدامات کیے جائیں اور آلودگی کو ابتدائی سطح پر ہی قابو میں کر لیا جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
دہلی پولیس نے سورَو داس اورآشوتوش رانکا کو13 اکتوبرکوحراست میں لیا تھا۔ دونوں پرالزام ہے…
سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ ان دنوں اپنی پیدل یاترا کو لے کر سرخیوں…
سماجوادی پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کے دفتر میں وزیر اعلیٰ…
جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے کہا کہ یہ بات انتہائی…
دیویہ پریم سیوا مشن کے زیر اہتمام 22 سے 28 اکتوبر 2026 تک غازی آباد…
دہلی ہائی کورٹ نے سی جے پی لیڈر سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کو اپنی…