قومی

Delhi Riots Case: دہلی فسادات معاملہ: پولیس کو ہائی کورٹ کا نوٹس، یو اے پی اے کے ملزمین کی ضمانت عرضی پر جواب طلب

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے سال 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات سے متعلق یو اے پی اے معاملے میں دو ملزمین کی ضمانت عرضیوں پر دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت دی ہے کہ وہ دو ہفتوں کے اندر اپنی اسٹیٹس رپورٹ داخل کرے اور معاملے میں تفصیلی جواب پیش کرے۔ یہ نوٹس جسٹس پرتبھا ایم سنگھ اور جسٹس مدھو جین پر مشتمل بنچ نے جاری کیا ہے۔ عدالت نے ملزمین اطہر خان اور سلیم ملک کی جانب سے دائر کی گئی ضمانت عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے یہ حکم دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس معاملے میں اگلی سماعت تین مارچ کو ہوگی اور اس دوران ٹرائل کورٹ کی کارروائی پر کوئی روک نہیں لگائی جائے گی۔

سماعت کے دوران سلیم ملک کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل کے خلاف عائد الزامات وہی ہیں جو دیگر شریک ملزمین، جیسے سلیم خان اور شاداب احمد، پر لگائے گئے تھے، جنہیں حال ہی میں سپریم کورٹ سے ضمانت مل چکی ہے۔ وکیل نے دلیل دی کہ مساوی حالات میں سلیم ملک کو بھی ضمانت دی جانی چاہیے۔ وہیں اطہر خان کے وکیل نے بھی عدالت کے سامنے یہی مؤقف رکھا کہ ان کے مؤکل کا کردار دیگر ضمانت یافتہ ملزمین سے مختلف نہیں ہے۔ وکیل نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کی جانب سے ضمانت مسترد کیے جانے کا فیصلہ درست نہیں تھا اور ہائی کورٹ کو اس میں مداخلت کرنی چاہیے۔

دہلی پولیس کی جانب سے پیش ہوئے وکیل دھرو پانڈے نے ان دلائل کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ تمام ملزمین کے کردار یکساں ہیں، مکمل طور پر درست نہیں ہے۔ پولیس کے مطابق ہر ملزم کے خلاف شواہد کی نوعیت مختلف ہے اور اسی بنیاد پر ٹرائل کورٹ نے ضمانت سے انکار کیا تھا۔ عدالت نے معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ نوٹس جاری ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ملزمین کو فوری طور پر کوئی راحت دی جا رہی ہے۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت دی کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اپنی اسٹیٹس رپورٹ داخل کرے۔

یہ پورا معاملہ فروری 2020 میں دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات سے جڑا ہے۔ الزام ہے کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں کی آڑ میں ایک بڑی سازش کے تحت تشدد کو منظم کیا گیا۔ اس کیس میں یو اے پی اے اور بھارتی تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت کئی افراد کو ملزم بنایا گیا ہے۔ اس معاملے میں طاہر حسین، عمر خالد، خالد سیفی، گلفشاں فاطمہ، شاداب احمد، سلیم ملک، محمد سلیم خان، اطہر خان، شرجیل امام اور دیگر افراد شامل ہیں۔ بعض ملزمین کو پہلے ہی مختلف بنیادوں پر ضمانت مل چکی ہے، جبکہ کئی اب بھی عدالتی تحویل میں ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Sibghatullah

Recent Posts

Delhi SIR: اڈوانی سے لے کر جے شنکر اور کیجریوال تک، حتمی ووٹر فہرست میں ہوں گے شامل VVIPs کے نام، الیکشن کمیشن نے وجہ بتائی

بیشتر معاملات میں ووٹروں کا ریکارڈ 2002 میں دہلی میں ہونے والی گزشتہ SIR کی…

2 hours ago

England vs Sri Lanka: انگلینڈکو70 گیندوں پر صرف 67 رنز ، پھر بھی ہار گیا، 99 پر آؤٹ ہوئے مینڈس

کوسل مینڈس 99 رنز کے اسکور پر آؤٹ قرار دیے گئے تھے۔ 31ویں اوور میں…

3 hours ago

Delhi NCRWeather Update: دہلی -این سی آر میں آج گرمی اور حبس کرے گی پریشان، 26 ستمبر سے بارش کے امکانات

آئی ایم ڈی کے مطابق، 25 ستمبر کو دہلی میں کم سے کم درجہ حرارت…

4 hours ago

Seema Kumari Claims Asian Games: ایشین گیمز میں سیما کماری نے 10,000 میٹر دوڑ میں کانسے کا تمغہ جیتا، وزیر اعظم مودی نے سراہا

تقریباً 16 سال بعد اس مقابلے میں ہندوستان کو ملا تمغہ، سیما کماری نے 32:50.05…

13 hours ago