نئی دہلی: دہلی میں انٹلی جنس بیورو(آئی بی) افسرانکت شرما قتل سانحہ میں کڑکڑڈوما کورٹ نے پیرکے روزبڑا فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے عام آدمی پارٹی کے سابق کونسلراورآل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) لیڈرطاہرحسین کوقصوروارقراردیا ہے۔ طاہرحسین کے ساتھ ناظم، جاوید، قاسم اورانس کوبھی قصوروارقراردیا گیا ہے۔ کڑکڑڈوما کورٹ کے ایڈیشنل سیشنس جج پروین سنگھ نے یہ حکم سنایا ہے۔
سال 2020 میں فسادات کے دوران انکت شرما کا قتل کردیا گیا تھا۔ اس معاملے میں کل 11 ملزمین ٹرائل کا سامنا کررہے تھے، جن میں سے 6 ملزمین کوعدالت نے بری کردیا۔ عدالت نے سبھی ملزمین پرآئی پی سی کی دفعہ 302, 365, 188, 153 اے، 147, 148 اور149 کے تحت قصوروارقراردیا۔ حالانکہ مجرمانہ سازش کرنے (120 بی) کے الزام سے 6 ملزمین کو بری کیا ہے۔ بری ہونے والوں میں شعیب عالم (طاہرحسین کا بھائی) گلفام، سمیرخان، حسین عرف ملّاجی، فیروزاورمنتظم عرف موسیٰ شامل ہیں۔
سزا پربحث کی تاریخ طے نہیں
وہیں سزا پربحث کی تاریخ ابھی عدالت نے طے نہیں کی ہے۔ منگل (14 جولائی) کوتحریری حکم آنے کے بعد عدالت جرح کی تاریخ طے کرے گی۔ کڑکڑڈوما کورٹ کے اس فیصلے کوسال 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق اہم معاملوں میں سے ایک مانا جا رہا ہے۔ اب عدالت قصوروارٹھہرائے گئے ملزمین کی سزا پرسماعت کرے گی، جس کے بعد آگے کا قانونی عمل طے ہوگا۔ عدالت نے حالانکہ مجرمانہ سازش کے الزام سے بری کیا ہے۔ آپ کوبتا دیں کہ آئی بی افسرانکت شرما کا قتل فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی کے فسادات کے دوران ہوا تھا۔ ان کی لاش ایک نالے سے برآمد کی گئی تھی۔ اس معاملے میں سابق ایم سی ڈی کونسلرطاہرحسین اور10 دیگرملزم ہیں۔ انکت شرما کے والد کی شکایت پردیال پورپولیس اسٹیشن میں ایف آئی آردرج کی گئی تھی۔ اس معاملے میں پولیس نے آئی پی سی کی دفعہ 109, 114, 147, 148, 149, 436, 153 اے، 365, 302, 201, 120بی، 34 کے تحت چارج شیٹ داخل کی ہے۔
مجرمانہ سازش، فساد اورقتل کی کوشش کے تحت لگائی گئی تھیں دفعات
مجرمانہ سازش، ہنگامہ آرائی اورقتل کی کوشش کی دفعات لگائی گئیں۔ دہلی پولیس کی تحقیقات میں کئی افراد کوملزم نامزد کیا گیا، جن میں ایم سی ڈی کے سابق کونسلرطاہرحسین بھی شامل ہیں۔ پولیس نے اس کیس میں تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی مختلف دفعات کے تحت چارج شیٹ داخل کی، جس میں قتل، مجرمانہ سازش، فسادات، قتل کی کوشش، ثبوت کوتباہ کرنے اوردیگرسنگین الزامات شامل ہیں۔ تفتیشی ایجنسی نے الزام لگایا کہ ملزمان فسادات کے دوران منصوبہ بندی اورتشدد کوانجام دینے میں ملوث تھے۔ عدالت میں کافی دیرسے سماعت جاری تھی۔ استغاثہ نے گواہوں، دستاویزات اوردیگرشواہد کی بنیاد پرملزم کے خلاف اپنے دلائل پیش کئے جبکہ دفاع نے الزامات کومسترد کردیا۔
بھارت ایکسپریس اردو-
قاضی توقیر سے گفتگو کے دوران گلّو نے اپنی زندگی کے اس مشکل دور کو…
۔شعیب جمائی نے دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے…
بھارت اور ایران کے درمیان مقابلے کے پہلے ہاف میں زبردست کشمکش دیکھنے کو ملی۔…
وزیر اعظم نے کہا کہ اس اسکیم نے علاج کے اخراجات میں ریکارڈ بچت کو…
امت شاہ نے ’’ویژن ڈاکیومنٹ 2026-2029‘‘ کو منشیات کے خطرے کے خلاف جنگ میں شامل…
25 ستمبر سے موسم میں معمولی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ…