قومی

Nirav Modi Case: برطانوی سپریم کورٹ کی درخواست پر دہلی ہائی کورٹ سخت، مرکزی حکومت کو نوٹس جاری، جانئے کیا ہے پورا معاملہ؟

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے ہیرا تاجر نیرو مودی سے جڑے بینک آف انڈیا معاملے میں برطانیہ کی انگلینڈ اینڈ ویلز سپریم کورٹ کی درخواست پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ہے اور اس معاملے میں جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ برطانوی عدالت کی جانب سے گواہی سے متعلق بھیجے گئے عدالتی تعاون کے مطالبے پر حکومت ہند اپنی رائے پیش کرے۔ یہ معاملہ انگلینڈ اور ویلز کی سپریم کورٹ کی اس درخواست سے متعلق ہے جس میں دہلی کے رہائشی انیمیش بروا کی گواہی حاصل کرنے کی اجازت مانگی گئی ہے۔ جسٹس سی ہری شنکر نے اس درخواست پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا اور اس معاملے میں عدالتی تعاون کے پہلوؤں پر وضاحت طلب کی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس نوٹس کا مقصد بین الاقوامی عدالتی معاونت کے قانونی دائرے کو سمجھنا ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے اس کیس میں نیرو مودی سمیت دیگر فریقین کو بھی رسمی طور پر شامل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ تاہم عدالت نے یہ بھی صاف کیا کہ انہیں صرف سہولت کی خاطر فریق بنایا جا رہا ہے اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ اصل مقدمہ دہلی ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ یہ کیس ہیرا تاجر نیرو مودی اور اس کی کمپنی فائر اسٹار ڈائمنڈ سے جڑے مقدمات سے متعلق ہے، جو اس وقت برطانوی عدالتوں میں زیر غور ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ 54 سالہ نیرو مودی بھارت میں پنجاب نیشنل بینک کے تقریباً دو ارب ڈالر کے مبینہ گھوٹالے میں مطلوب ہے۔ وہ گزشتہ چھ برس سے برطانیہ کی جیل میں قید ہے اور بھارت اس کے حوالگی کے لیے قانونی کوششیں کر رہا ہے۔ برطانیہ میں بینک آف انڈیا کی جانب سے بیرسٹر ٹام بیسلی عدالت میں دلائل پیش کر رہے ہیں۔

بینک آف انڈیا نے برطانوی عدالت میں موقف اختیار کیا ہے کہ نیرو مودی نے دبئی کی کمپنی فائر اسٹار ڈائمنڈ ایف زیڈ ای کو دیے گئے قرض کی ذاتی ضمانت فراہم کی تھی، جس پر اب قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ بیسلی نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ اگر نیرو مودی کو بھارت کے حوالے کیا جاتا ہے تو وہ حراست میں رہے گا اور مختلف ٹائم زونز کے باعث قانونی کارروائی متاثر ہو سکتی ہے۔ بینک نے نیرو مودی کے مالی تنگی کے دعوے پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

دوسری جانب نیرو مودی کی جانب سے پیش ہونے والے وکلا نے دلیل دی ہے کہ اس کی ذہنی حالت، ڈپریشن اور خودکشی کے خیالات کے پیش نظر حوالگی یورپی کنونشن برائے انسانی حقوق کے آرٹیکل تین کے تحت جابرانہ اور غیر انسانی سلوک کے زمرے میں آ سکتی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ اب اس معاملے میں مرکزی حکومت کے جواب کا انتظار کر رہی ہے، جس کے بعد آئندہ کارروائی طے کی جائے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو

Sibghatullah

Recent Posts

Pezeshkian Hits Back At Trump: ’ہم دہشت گرد نہیں، خود دہشت گردی کا شکار ہیں‘، یو این جی اے میں ایرانی صدر کا ٹرمپ پر جوابی حملہ

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…

16 minutes ago

Gyanesh Kumar SIR Controversy: ’گیانیش کمار کو گرفتار کرو‘، ایس آئی آر تنازع کے درمیان سنجے راؤت کا بڑا مطالبہ

خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…

44 minutes ago

CJP Noida School Visit: گریٹر نوئیڈا میں سی جے پی ترجمان سورَو داس کی مخالفت، اسکول کے معائنے پر گاؤں والوں نے روکا

گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…

1 hour ago

PM Modi Cabinet: ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کام آئے گا افسران کا تجربہ، پی ایم مودی کے نئے انتظامی فارمولوں نے کھینچی توجہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…

2 hours ago

PM Modi Chintan Shivir: سیوا تیرتھ میں وزرا کا ’مہامنتھن‘، پی ایم مودی کا 4 روزہ چنتن شِور شروع

وزیر اعظم نریندر مودی نے سیوا تیرتھ میں وزرا کے لیے چنتن شِور شروع کیا…

3 hours ago