قومی

CBI Excise Policy Case: دہلی شراب پالیسی معاملے میں ہائی کورٹ نے اروند کیجریوال، منیش سسودیا اور درگیش پاٹھک کو جواب داخل کرنے کا دیا آخری موقع

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے مبینہ شراب پالیسی معاملے میں سابق وزیراعلیٰ اروند کیجریوال، سابق نائب وزیراعلیٰ منیش سسودیا اور عام آدمی پارٹی کے لیڈر درگیش پاٹھک کو سی بی آئی کی نظرثانی درخواست پر اپنا جواب داخل کرنے کے لیے آخری اور حتمی موقع فراہم کر دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس کے بعد مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ جسٹس منوج جین کی بنچ نے سماعت کے دوران نوٹ کیا کہ کیجریوال، سسودیا اور درگیش پاٹھک سمیت کسی بھی فریق کی جانب سے کوئی وکیل عدالت میں حاضر نہیں ہوا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ متعدد مواقع دیے جانے کے باوجود صرف انہی تین فریقوں نے اب تک اپنا جواب داخل نہیں کیا ہے۔ اس تاخیر کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے انہیں آخری موقع دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت سے پہلے اپنا جواب ریکارڈ پر پیش کریں۔

17 اور 18 اگست کو ہوگی اگلی سماعت

عدالت نے اس معاملے کی آئندہ سماعت کے لیے 17 اور 18 اگست کی تاریخ مقرر کی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی حکم دیا کہ اس مقدمے میں جاری عبوری حکم اگلی سماعت تک برقرار رہے گا۔ سی بی آئی کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا اور ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ڈی پی سنگھ نے عدالت سے درخواست کی کہ اس معاملے کی سماعت جولائی کے آخری ہفتے میں مقرر کی جائے، کیونکہ مقدمہ جلد فیصلے کا متقاضی ہے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ وہ سماعت کی تاریخ آگے بڑھانے کے امکان پر غور کرے گی، تاہم موجودہ عدالتی شیڈول کے پیش نظر ایسا کرنا فی الحال ’’کافی مشکل‘‘ دکھائی دیتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر عدالتی فہرست (بورڈ) نے اجازت دی تو تاریخ تبدیل کرنے پر دوبارہ غور کیا جا سکتا ہے۔

سی بی آئی نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا

سی بی آئی نے 27 فروری کو ٹرائل کورٹ کی جانب سے اروند کیجریوال، منیش سسودیا، درگیش پاٹھک سمیت تمام ملزمان کو بری کیے جانے کے فیصلے کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ تحقیقی ایجنسی کا موقف ہے کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ قانونی طور پر برقرار نہیں رہ سکتا، کیونکہ مقدمے میں ایسے کافی شواہد موجود ہیں جن کی بنیاد پر ملزمان کے خلاف کارروائی جاری رہنی چاہیے۔

مقدمہ منتقلی کے بعد نوٹس جاری کرنے کی ہدایت

اس سے قبل یہ مقدمہ جسٹس سورن کانت شرما سے منتقل ہو کر جسٹس منوج جین کی عدالت میں آیا تھا۔ اس موقع پر ہائی کورٹ نے سی بی آئی کو ہدایت دی تھی کہ وہ اروند کیجریوال، منیش سسودیا اور درگیش پاٹھک کو مقدمہ منتقل ہونے کی باضابطہ اطلاع دے، تاکہ تمام فریق موجودہ بنچ کے سامنے پیش ہو سکیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ اگرچہ مقدمے کی منتقلی میڈیا میں نمایاں طور پر رپورٹ ہو چکی ہے، تاہم قانونی تقاضوں کے مطابق باضابطہ اطلاع دینا ضروری ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Prime Minister Narendra Modi: خدمت کا جذبہ دنیا کی سب سے بڑی نیکی ہے: وزیر اعظم مودی نے مہابھارت کا ایک شلوک کیا شیئر

وزیر اعظم کی جانب سے شیئر کیا گیا یہ سنسکرت شلوک مہابھارت کے شانتی پرب…

45 minutes ago

Tears in his eyes: آنکھوں میں آنسو، میسی کا ارجنٹینا کی جرسی میں الوداعی میچ کو دیا گیا دی لاسٹ ٹینگوکا نام

لیونل میسی نے ارجنٹینا کے لیے مجموعی طور پر 208 میچ کھیلے۔ اس دوران انہوں…

1 hour ago

Triple Murder in Dehradun: دہرادون میں ٹرپل مرڈر، بزرگ جوڑے اور ملازمہ کے قتل سے سنسنی، پولیس نے ایک مشتبہ شخص گرفتار

پولیس کے مطابق، موقع پر پہنچی فورنسک ٹیم نے تمام شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔…

2 hours ago