دہلی حکومت نے کاریگروں اور روایتی محنت کشوں کے لیے ایک نئی اور اہم پہل شروع کی ہے۔ حکومت نے’ مکھیہ منتری کوشل وکاس یوجنا ‘ کو منظوری دے دی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد کھادی، ہینڈلوم، کوٹیج انڈسٹری اور غیر منظم شعبے سے وابستہ افراد کو تربیت اور مالی سہارا فراہم کرنا ہے۔ یہ اسکیم خاص طور پر ان کاریگروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی جو اپنی مہارت کے بل بوتے پر کام تو کرتے ہیں، لیکن وسائل اور بازار کی کمی کے باعث آگے نہیں بڑھ پاتے۔
اس اسکیم کے تحت سال -262025 میں 3,728 کاریگروں کو تربیت دی جائے گی، جس کے لیے 8.95 کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں۔ جبکہ -272026کے لیے 57.50 کروڑ روپے کا بجٹ تجویز کیا گیا ہے۔ اس سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت آنے والے وقت میں اس اسکیم کو بڑے پیمانے پر نافذ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
12 دن کی تربیت
تربیتی پروگرام کی مدت کل 12 دن یعنی 96 گھنٹے ہوگی۔ اس میں 2 دن انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ پروگرام کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں، تاکہ کاریگر صرف ہنر ہی نہ سیکھیں بلکہ اپنے کاروبار کو بہتر طریقے سے چلانے کی سمجھ بھی حاصل کر سکیں۔ ہر مستفید کو 400 روپے یومیہ کے حساب سے مجموعی طور پر 4,800 روپے کا وظیفہ دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کھانے کے لیے 100 روپے یومیہ علیحدہ فراہم کیے جائیں گے۔ تربیت مکمل ہونے کے بعد ضرورت کے مطابق ٹول کِٹ اور پیر سے چلنے والی سلائی مشین بھی دی جائے گی۔
اس اسکیم کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ کاریگروں کو او این ڈی سی (ONDC) پلیٹ فارم سے جوڑا جائے گا۔ ہر کاریگر کا ای-کیٹلاگ تیار کر کے اس ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کیا جائے گا، جس سے ان کی مصنوعات نہ صرف ملک بلکہ بیرونِ ملک بھی فروخت کے لیے دستیاب ہو سکیں گی۔ یہ قدم کاریگروں کو بڑے بازار سے جوڑنے اور ان کی آمدنی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
روایتی کاریگروں کے تجربے کو ’ری کگنیشن آف پریئر لرننگ‘ (RPL) کے تحت تسلیم کیا جائے گا۔ انہیں وزیر اعلیٰ کا سرٹیفکیٹ اور شناختی کارڈ بھی فراہم کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایم ایس ایم ای رجسٹریشن، برانڈنگ اور قرض حاصل کرنے میں بھی مدد دی جائے گی۔
ان باتوں کا رکھیں خیال
اس اسکیم سے فائدہ صرف 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد ہی اٹھا سکیں گے۔
ایک خاندان سے صرف ایک رکن اس کے لیے اہل ہوگا۔
سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ اس اسکیم میں شامل نہیں ہوں گے۔
آدھار سے تصدیق لازمی ہوگی۔
ابتدا میں 18,000 ای-شرم رجسٹرڈ درزیوں کو ترجیح دی جائے گی، بعد میں دیگر روایتی پیشوں کو بھی اس میں شامل کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے اسے خود کفیل مستقبل کی سمت ایک بڑا قدم قرار دیا ہے، جبکہ صنعتوں کے وزیر منجندر سنگھ سرسا کے مطابق یہ اسکیم ہزاروں خاندانوں کو مضبوط اور خود کفیل بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی نے کہا کہ محض سیاسی…
مرکزی وزیر اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر جینت چودھری نے جمعہ…
پرتگال 24 ستمبر کو گھریلو میدان پر ویلز کے خلاف نیشنز لیگ مہم کا آغاز…
ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…
جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے زمین سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی روکنے کی درخواست…
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…