دہلی اسمبلی انتخابات میں ووٹنگ کے بعد آج ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور ابتدائی رجحانات بھی آنے لگے ہیں ،لیکن شروعات کے دو گھنٹے تک آنے والے رجحانات کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہوتی ،چونکہ یہ ابھی بہت ہی شروعاتی رجحانات ہوتے ہیں ،البتہ10-11بجے کے بعد جو رجحانات آتے ہیں انہیں کچھ حد تک ایک پیٹرن کے طور پر تسلیم کیا جانے لگتا ہے ،جبکہ 12 بجے تک جو رجحانات آتے ہیں ،قریب قریب وہی نتائج کی تصویر واضح کرتے ہیں ،حالانکہ الیکشن کمیشن کی طرف سے شام چھ بجے نتائج کا اعلان کیا جاتا ہے ،البتہ دوپہر تک تصویر واضح ہوجاتی ہے کہ کس پارٹی کی حکومت بننے والی ہے۔دہلی میں بھی کچھ ایسا ہی ہونے والا ہے۔
دہلی میں بیلٹ پیپر کی گنتی کے بعد ای وی ایم کھل چکا ہے اور کئی راونڈ کی جگہ پر گنتی بھی پوری ہوچکی ہے۔ البتہ کل 70 سیٹوں کے ابتدائی رجحانات میں بی جے پی کو اپنے دم پر اکثریت ملتی نظرآرہی ہے۔ بی جے پی فی الحال 50 سیٹوں پر آگے نظرآرہی ہے اور 19 سیٹوں پر عام آدمی پارٹی کے امیدوار آگے چل رہے ہیں ،جبکہ صرف ایک سیٹ پرکانگریس کے امیدوار آگے ہیں ۔ کمال کی بات یہ ہے کہ اوکھلا جیسے مسلم اکثریتی سیٹ سے بھی بی جے پی کے امیدوار آگے چل رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…
بس میں اسکولی بچے سوار تھے، جو واٹر پارک میں تفریح کے بعد اپنے گھروں…
امریکی عہدیدار نے کہا کہ سب سے بڑے مسائل پہلے ہی حل کیے جا چکے…
عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…
دہلی کی ایک عدالت نے جمعہ کو 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق ایک معاملے…
سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…