قومی

’’ڈراہا-دھمکایا اور چھاپہ مارا…‘‘ جنتر منتر پرطلبا کو کھانا کھلانے والے جنید نے سپریم کورٹ میں پولیس کے خلاف داخل کی عرضی، الزامات کی لمبی فہرست

نئی دہلی: دہلی میں حالیہ دنوں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج کے دوران مظاہرین کے لیے کھانے پینے کا انتظام کرنے والے جُنید ملک نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ دہلی پولیس نے انہیں غیر قانونی طورپرحراست میں لیا، ہراساں کیا اور قانونی کارروائی کے بغیرسنسان مقام پرچھوڑدیا۔ جُنید ملک نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے انہیں غیرقانونی طریقے سے دہلی سے اٹھایا اورتقریباً 5 سے 6 گھنٹے تک ایک گاڑی میں بٹھائے رکھا۔ اس دوران انہیں مسلسل دھمکیاں دی گئیں اورخوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ بعد ازاں انہیں دہرہ دون روڈ پرایک ویران مقام پرچھوڑدیا گیا، جہاں سے وہ ٹیکسی کے ذریعے واپس دہلی پہنچے۔

اہلِ خانہ کو بھی ہراساں کرنے کا الزام

درخواست میں جُنید ملک نے الزام لگایا ہے کہ پولیس نے ان کے اہلِ خانہ کو بھی ہراساں کیا۔ ان کے مطابق غازی آباد پولیس نے ان کے والد کو حراست میں لیا اور ان کے گھر پر چھاپہ مارا، جبکہ میرٹھ میں ان کی شادی شدہ بہن کے گھر بھی پولیس پہنچی اور ان کے سسر اور دیور کو حراست میں لے لیا۔ بعد میں ان تمام افراد کو رہا کر دیا گیا۔

سپریم کورٹ سے مداخلت کی اپیل

جُنید ملک کا کہنا ہے کہ پولیس کی یہ تمام کارروائیاں کسی قانونی کارروائی یا تحریری دستاویز کے بغیر انجام دی گئیں، جو قانون کے منافی ہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ ان کے اہلِ خانہ کے خلاف مبینہ پولیس کارروائی کو روکا جائے اور اگر کسی قسم کی تحقیقات کی جائیں تو وہ مکمل طور پر قانونی ضابطوں کے مطابق ہوں۔

آر ایم ایل اسپتال سے واپسی کے دوران حراست کا دعویٰ

درخواست کے مطابق 24 جولائی کی آدھی رات کو جُنید ملک اینٹی ریبیز انجیکشن لگوا کر رام منوہر لوہیا اسپتال سے واپس آ رہے تھے، اسی دوران دہلی پولیس نے انہیں راستے میں روک کر اپنی تحویل میں لے لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ تقریباً پانچ سے چھ گھنٹے تک انہیں گاڑی میں رکھا گیا اور اس دوران مسلسل دھمکایا جاتا رہا۔

فنڈنگ سے متعلق پوچھ گچھ کا الزام

جُنید ملک نے یہ بھی الزام لگایا کہ پولیس نے ان کا موبائل فون زبردستی اپنے قبضے میں لے کر اسے ان لاک کرایا اور اس کا معائنہ کیا۔ ان کے مطابق پولیس نے ان سے احتجاج کے لیے فنڈنگ کے ذرائع، کھانے پینے کے انتظامات کے اخراجات اور مالی معاونت فراہم کرنے والوں کے بارے میں سوالات کیے۔ یہ درخواست منوج کمار جھا کی جانب سے دائر اس رِٹ درخواست میں داخل کی گئی ہے، جس میں سی جے پی احتجاج کے دوران مبینہ پولیس تشدد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ جُنید ملک کی یہ عرضی ایڈووکیٹ آن ریکارڈ نہا راٹھی کے ذریعے سپریم کورٹ میں پیش کی گئی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Netan Yahu Crisis: اسرائیل میں نیتن یاہو کی کرسی پر خطرہ؟ عرب جماعتیں گادی آئزنکوٹ کی حمایت کے لیے تیار، لیکن رکھی بڑی شرط

اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔…

46 minutes ago

Prime Minister Narendra Modi: وزیر اعظم مودی نے مہابھارت کا خاص شلوک کیا شیئر، بتایا زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کا منتر

تپسیا کا مطلب: اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مسلسل محنت کرنا، مشکلات کا…

2 hours ago

Delhi-NCR Air Pollution: دہلی-این سی آر میں آلودگی کا قہر، کئی علاقوں میں اے کیو آئی 400 سے تجاوز، جہانگیرپوری میں 499 ریکارڈ

دہلی کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس 331 درج کیا گیا، بگڑتے حالات کے پیش نظر…

2 hours ago

دہلی-این سی آرمیں کھلے عام فروخت ہورہے ہیں پٹاخے؟ سپریم کورٹ نے حکومت سے پوچھا سخت سوال

جسٹس ایم ایم سندریش نے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (اے ایس جی) ایشوریہ بھاٹی سے اخبار…

2 hours ago