آپریشن “سندور” کے بعد بھارت کے دفاعی حصص میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا، جس سے یہ بحث چھڑ گئی کہ آیا یہ وقتی اضافہ ہے یا ایک طویل مدتی رجحان کی شروعات۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تیزی کی بنیاد صرف فوجی فتح نہیں، بلکہ ملک کی دفاعی صنعت کی مضبوطی اور خود انحصاری پر ہے، جس نے دنیا کی توجہ حاصل کر لی ہے۔
بھارت کی دفاعی برآمدات 2013-14 میں محض 686 کروڑ روپے تھیں، جو 2024-25 میں بڑھ کر 23,622 کروڑ روپے ہو گئیں — یعنی 34 گنا اضافہ۔ اس کے ساتھ ہی دفاعی شعبے سے منسلک کمپنیوں جیسے کوچین شپ یارڈ، پارس ڈیفنس، مظگون ڈاک شپ بلڈرز، بھارت ڈائنامکس، بھارت الیکٹرانکس اور ہندستان ایروناٹکس کے شیئرز میں 11 فیصد تک کا اضافہ دیکھا گیا۔
مقامی ٹیکنالوجی، عالمی اعتماد
آپریشن “سندور” کے دوران ڈرون وارفیئر، لیئرڈ ایئر ڈیفنس، اور الیکٹرانک وارفیئر سمیت جدید مقامی ٹیکنالوجیز کا مؤثر استعمال ہوا، جس نے دنیا کو بھارت کی دفاعی صلاحیت کا یقین دلایا۔ اس نے “میک ان انڈیا” اور “آتم نربھر بھارت” جیسے نعروں کو حقیقت میں بدلنے میں مدد دی۔
اسٹاک مارکیٹ اور دفاعی شعبے کا نیا اتحاد
تجزیہ کاروں کے مطابق، بھارت کی دفاعی کمپنیوں کے حصص اپنی اصل مالیت کے قریب ہیں، کیونکہ ان کی مصنوعات کی قابلیت اور مؤثریت عالمی سطح پر تسلیم کی جا چکی ہے۔ بڑھتے ہوئے برآمدی آرڈرز، عالمی مانگ، اور پالیسی میں تسلسل نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھایا ہے۔ دفاعی صنعت اب محض سیکیورٹی کا نہیں، بلکہ اقتصادی ترقی کا بھی ستون بنتی جا رہی ہے — جیسا کہ امریکا میں ہوا۔
دفاعی پیداوار کا نیا منظرنامہ
روس، فرانس، اسرائیل اور بھارت کے مابین دفاعی اشتراک میں تیزی آئی ہے۔ بھارت میں کئی دفاعی صنعتی ہب بن چکے ہیں، اور کئی عالمی ادارے مقامی کمپنیوں کے ساتھ اشتراک کر رہے ہیں۔ وزارت دفاع کے مطابق، بھارت نے 2024-25 میں تقریباً 80 ممالک کو اسلحہ، گولہ بارود، سسٹمز اور پرزے برآمد کیے۔
سرمایہ کاروں کے لیے مواقع
نیشنل اسٹاک ایکسچینج کا “نِفٹی انڈیا ڈیفنس انڈیکس” پچھلے تین ماہ میں 30 فیصد بڑھ چکا ہے، جو بڑھتے ہوئے سرمایہ کار اعتماد کا ثبوت ہے۔ آنے والے برسوں میں بھارت کی دفاعی برآمدات کے لیے 50,000 کروڑ روپے سالانہ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جو اس صنعت کی ترقی کا واضح اشارہ ہے۔
نیا دفاعی ماڈل، نیا بھارت
دفاعی صنعت میں موجودہ رجحان صرف جنگ یا وقتی واقعات کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ بھارت کے معاشی و تکنیکی ارتقاء اور پالیسی کے استحکام کا مظہر ہے۔ دنیا میں اسلحہ خریدنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، اور بھارت اس ابھرتی ہوئی منڈی میں ایک بڑے حصے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ صرف ایک “ریلی” نہیں، بلکہ ایک “نئی حقیقت” ہے — جہاں بھارت نہ صرف خود کو محفوظ رکھے گا، بلکہ دنیا کے لیے ایک قابل اعتماد دفاعی شراکت دار بھی بنے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بوکارو میں میچ کے دوران 37 سالہ کھلاڑی کجرا مرمو دوسرے کھلاڑی سے ٹکرانے کے…
کیرالہ کے سابق چیف سیکریٹری جیجی تھامسن کے دعوے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل…
سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی مجوزہ عوامی ریلی سے قبل سیاسی کشیدگی دیکھنے کو…
ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں آندھی اور بارش نے کئی برسوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔…
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا- ہم اپنی پارٹی کے وفادار ہیں، اتحاد پر فیصلہ پارٹی…
چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار سے متعلق جاری تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن نے…