نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے نئی دہلی میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران نیشنل سائبر کرائم ہیلپ لائن 1930 کے کام کاج کا جائزہ لیا اور اسے مزید مؤثر بنانے کے لیے کئی اہم ہدایات جاری کیں۔ اجلاس میں شہریوں کو سائبر جرائم، خصوصاً مالیاتی سائبر دھوکہ دہی کے معاملات میں فوری راحت فراہم کرنے کے لیے قائم مختلف عوامی خدمات کا بھی جائزہ لیا گیا۔امت شاہ نے کہا کہ نیشنل سائبر کرائم ہیلپ لائن 1930 سائبر جرائم، بالخصوص مالیاتی فراڈ سے متعلق شکایات کے اندراج کے لیے ایک اہم اور مؤثر پلیٹ فارم بن کر ابھری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہیلپ لائن پر مدد کے لیے رابطہ کرنے والے ہر شہری کو بروقت سہولت فراہم کی جائے اور کوئی بھی شکایت نظر انداز یا زیر التوا نہ رہے۔
ہیلپ لائن کی جدید کاری پر زور
مرکزی وزیر داخلہ نے ہدایت دی کہ 1930 ہیلپ لائن نظام کی جامع جدید کاری کی جائے اور مصنوعی ذہانت (AI) سمیت جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال سے اس کی کارکردگی، فوری ردعمل کی صلاحیت اور خدمات کے معیار کو بہتر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نیا نظام شکایات کے فوری اندراج، ذہین کال روٹنگ اور شہری شکایات کے مؤثر انتظام میں معاون ثابت ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت ایک محفوظ، ٹیکنالوجی پر مبنی اور شہریوں پر مرکوز سائبر کرائم روک تھام اور ردعمل کے نظام کی تعمیر کے لیے پُرعزم ہے۔
ریاستی کال سینٹروں کو مضبوط بنانے کی ہدایت
امت شاہ نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں قائم 1930 کال سینٹروں کو تکنیکی اور بنیادی ڈھانچے کے لحاظ سے مزید مضبوط بنانے کی ہدایت دی۔ وزارت داخلہ ان مراکز کے ہارڈویئر اور تکنیکی اپ گریڈیشن کے لیے ضروری تعاون فراہم کرے گی، جبکہ ریاستی حکومتوں سے مناسب انسانی وسائل کی فراہمی کی درخواست کی جائے گی تاکہ ہر شکایت کا بروقت ازالہ ممکن بنایا جا سکے۔انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ تمام ریاستی سطح کے 1930 کال سینٹروں کو جدید انٹرایکٹو وائس رسپانس (IVR) نظام سے لیس کیا جائے، تاکہ کالز کا مؤثر انتظام اور درست سطح پر فوری منتقلی یقینی بنائی جا سکے۔
قومی سطح کے 1930 کال سینٹر کے قیام کا فیصلہ
قومی سائبر کرائم ردعمل کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے امت شاہ نے مناسب افرادی قوت اور کال ہینڈلنگ صلاحیت سے آراستہ قومی سطح کے 1930 کال سینٹر کے قیام کی بھی ہدایت دی۔ یہ مرکز ریاستوں میں موصول ہونے والی وہ کالز سنبھالے گا جن کا جواب نہ دیا جا سکا ہو، تاکہ ہر متاثرہ شہری کو بروقت مدد اور شکایت کے فوری اندراج کی سہولت حاصل ہو۔
اجلاس میں شہری مالیاتی سائبر فراڈ رپورٹنگ و مینجمنٹ سسٹم (CFCFRMS) کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ یہ نظام بینکاری نیٹ ورک کے ذریعے مشتبہ مالی لین دین کو فوری طور پر روکنے میں مدد دیتا ہے، جس سے متاثرین کی رقم محفوظ رکھنے اور اسے واپس حاصل کرنے کے امکانات میں اضافہ ہوتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
اب دونوں طریقوں کا موازنہ کریں تو دیے گئے اندازوں کے مطابق، 25,000 روپے کی…
دہلی میں فضائی آلودگی کی سطح بھی تشویش بڑھا رہی ہے۔ 25 اکتوبر کو دستیاب…
اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے ہفتے کی شام سوشل میڈیا کے ذریعے ان…
کامن ویلتھ کبڈی چیمپئن شپ 2026 کے دوسرے دن بھارتی مردوں اور خواتین کی ٹیموں…
یوپی اسپیشل ٹی ای ٹی 2026 کا امتحان 3 نومبر کو دو شفٹوں میں ہوگا۔…
ہریدوار کے دیویہ پریم سیوا مشن کے فلاحی منصوبوں کے لیے وقف اور چھترپتی شیواجی…