نئی دہلی : اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے منگل کو امریکی عدالت کی جانب سے ان کے اور ان کے بھتیجے ساگر اڈانی کے خلاف فوجداری الزامات خارج کیے جانے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے عدالتی عمل کے تئیں گہرے احترام کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مشکل دور کے باوجود سچائی، انصاف اور قانون کی حکمرانی پر ان کا اعتماد کبھی متزلزل نہیں ہوا۔گوتم اڈانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اس پورے چیلنجنگ دور میں ان کا یقین سچ، انصاف اور قانون کی حکمرانی پر قائم رہا۔ انہوں نے امریکی عدالت کے فیصلے کو عدالتی عمل کے احترام اور قانون کی بالادستی کی اہم مثال قرار دیا۔
As US judge dismisses criminal case against Gautam Adani, Adani Group Chairman Gautam Adani tweets, “I welcome the US court’s decision with humility and deep respect for the judicial process. Throughout this challenging period, our faith in truth, fairness and the rule of law… pic.twitter.com/bbMFbtqu03
— ANI (@ANI) August 10, 2026
امریکی عدالت نے کیا فیصلہ دیا؟
رائٹرز کے مطابق، پیر کو نیویارک کے مشرقی ضلع کی امریکی ضلعی عدالت کے جج نکولس گاروفیس نے گوتم اڈانی اور ساگر اڈانی کے خلاف فوجداری الزامات خارج کر دیے۔ یہ فیصلہ وفاقی استغاثہ کو مقدمہ واپس لینے کی اجازت دیے جانے کے بعد سامنے آیا۔ جج نے اس سے قبل استغاثہ سے الزامات واپس لینے کی وجوہات کے بارے میں وضاحت طلب کی تھی۔الزامات خارج کرتے ہوئے جج گاروفیس نے کہا کہ وہ اس بات سے مطمئن ہیں کہ اڈانی گروپ کی مبینہ سرمایہ کاری کی یقین دہانی نے امریکی محکمہ انصاف کے فیصلے کو متاثر نہیں کیا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وفاقی استغاثہ کی جانب سے مقدمات ختم کرنے کے فیصلوں کا جائزہ لینے میں ججوں کا کردار محدود ہوتا ہے۔
الزامات کس بنیاد پر لگائے گئے تھے؟
گوتم اڈانی اور دیگر افراد پر بھارت میں شمسی توانائی کے معاہدوں سے متعلق مبینہ رشوت خوری کی اسکیم میں ملوث ہونے اور امریکی سرمایہ کاروں کو گمراہ کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ تاہم، رواں سال مئی میں امریکی محکمہ انصاف (DoJ) نے عدالت سے ان الزامات کو خارج کرنے کی درخواست کی تھی۔اس کے بعد نیویارک کے مشرقی ضلع کی عدالت نے محکمہ انصاف سے مزید وضاحت طلب کی۔ امریکی حکام کے جواب کے بعد قانونی ماہرین کا خیال تھا کہ عدالت محکمہ انصاف کے مؤقف کی حمایت کر سکتی ہے۔
DoJ نے مقدمہ ختم کرنے کی کیا وجہ بتائی؟
4 جولائی کو امریکی محکمہ انصاف نے عدالت کو بتایا تھا کہ گوتم اڈانی اور دیگر ملزمان کے خلاف یہ فوجداری مقدمہ ’’شروع ہی نہیں کیا جانا چاہیے تھا‘‘۔ محکمہ نے عدالت سے تمام الزامات مستقل طور پر خارج کرنے کی درخواست کی تھی۔DoJ کا مؤقف تھا کہ مقدمہ قانونی طور پر کمزور تھا، اس کا بنیادی تعلق بھارت سے تھا اور موجودہ حالات میں اس کی پیروی کرنا انصاف کے مفاد میں نہیں تھا۔ محکمہ انصاف نے کہا کہ وسیع جائزے کے بعد مقدمہ خارج کرنے کا فیصلہ واضح ہو گیا تھا۔محکمہ نے یہ بھی کہا کہ مبینہ سرگرمیاں تقریباً مکمل طور پر بھارت میں ہوئی تھیں اور امریکی سیکیورٹیز قوانین کے تحت اس معاملے کو اہم دائرہ اختیار سے متعلق رکاوٹوں کا سامنا تھا۔
اڈانی گروپ کی امریکی سرمایہ کاری سے تعلق کی تردید
امریکی محکمہ انصاف نے ان میڈیا رپورٹس کو بھی مسترد کیا جن میں کہا گیا تھا کہ مقدمہ خارج کرنے کا فیصلہ اڈانی گروپ کی امریکا میں مجوزہ سرمایہ کاری سے منسلک ہو سکتا ہے۔ پرنسپل ایسوسی ایٹ ڈپٹی اٹارنی جنرل آر ٹرینٹ میک کوٹر نے کہا کہ سرمایہ کاری کا کوئی ذکر نہ بھی ہوتا تو وہ سیکیورٹیز سے متعلق الزامات ختم کرنے کی درخواست کرتے۔ ان کے مطابق ممکنہ سرمایہ کاری نے فیصلے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…