قومی

2020 Delhi riots: عدالت نے 2020 دہلی فسادات کے دوران دو افراد کے قتل سے متعلق مقدمے میں 12 ملزمین کو کیا بری

دہلی کی ایک عدالت نے فروری 2020 میں قومی دارالحکومت میں ہونے والے فسادات کے دوران دو افراد کے قتل کے الزام میں 12 افراد کو بری کر دیا ہے۔ کڑکڑڈوما کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج پلستیہ پرماچل نے جمعہ کو کہا کہ ریکارڈ پر ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ ملزمین میں سے کوئی بھی اس ہجوم کا حصہ تھا جس پر دو افراد کو قتل کرنے کا الزام ہے۔

پرماچلا نے مزید کہا کہ اس کیس کے ایک ملزم لوکیش کمار سولنکی کا میسجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ پر چیٹس میں مبینہ طور پر ان دونوں قتلوں کا اعتراف کرنا ’’مضبوط ثبوت‘‘ نہیں۔ واضح رہے کہ شمال مشرقی دہلی میں فروری 2020 میں ہونے والے فسادات میں 53 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ موجودہ مقدمہ فسادات کے دوران دو افراد امین اور بھورے علی کے مبینہ قتل سے متعلق ہے۔ اس معاملے میں گوکل پوری پولیس اسٹیشن میں فسادات، قتل، غیر قانونی اجتماع، برادریوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے اور ثبوتوں کو تباہ کرنے سمیت کئی الزامات کے تحت پہلی اطلاعاتی رپورٹ درج کی گئی تھی۔

دی نیو انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق ایف آئی آر میں سے ایک میں اپنی چارج شیٹ داخل کرتے ہوئے پولیس نے کہا کہ 1 مارچ 2020 کو شہر کے بھاگیرتھی وہار میں ایک نالے میں ایک لاش کی اطلاع ملی تھی۔ لاش بھورے علی نامی شخص کی تھی۔ دوسرے معاملے میں امین کو مبینہ طور پر فسادیوں نے 25 فروری 2020 کو برج پوری پلیا کے قریب رات 9.30 بجے کے قریب قتل کر دیا تھا۔ اس کی لاش بھی علاقے کے ایک نالے سے ملی تھی۔

واٹس چیٹ پر مجرم کا اعترافِ جرم ٹھوس ثبوت نہیں: عدالت

جمعہ کو اپنے حکم میں دہلی کی عدالت نے کہا کہ پراسیکیوشن کی طرف سے پیش کیا گیا ثبوت جس میں سولنکی کے ایک واٹس ایپ گروپ پر میسج کو نشان زد کیا گیا ہے، اسے ٹھوس یا بنیادی ثبوت کے طور پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ جج نے کہا ’’اس طرح کی پوسٹیں گروپ میں صرف اس لیے بھی ڈالی جا سکتی ہیں تاکہ وہ گروپ کے دوسرے ممبروں کی نظر میں ہیرو بن جائے۔ یہ سچائی کے بغیر صرف فخر کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔ لہٰذا واٹس ایپ چیٹ پر ہونے والی بات چیت یہ ظاہر کرنے کے لیے ٹھوس ثبوت نہیں ہو سکتی کہ ملزم لوکیش سولنکی نے واقعتاً دو مسلمان افراد کو قتل کیا تھا۔‘‘ جج نے مزید کہا کہ چیٹس کو زیادہ سے زیادہ تصدیقی ثبوت کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

جج نے کہا کہ اگرچہ قتل کا جرم ثابت ہو گیا، لیکن وقت اور جگہ سمیت جرم کی تفصیلات ثابت نہیں ہوئیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایک اور سوال جس کا جواب نہیں دیا گیا وہ یہ تھا کہ کیا یہ جرم پانچ یا اس سے زیادہ افراد پر مشتمل غیر قانونی اجتماع کے ذریعے کیا گیا تھا۔ پی ٹی آئی کے مطابق جج نے کہا ’’ریکارڈ پر کوئی ثبوت نہیں ہے جو یہ ظاہر کرے کہ کوئی بھی ملزم مجرم ہجوم کا حصہ تھا۔ مجھے لگتا ہے کہ ملزمان کے خلاف لگائے گئے الزامات بالکل ثابت نہیں ہوئے ہیں۔‘‘ سولنکی کے علاوہ اس معاملے میں پنکج شرما، انکت چودھری، پرنس، جتن شرما، ہمانشو ٹھاکر، وویک پنچال، رشبھ چودھری، سمیت چودھری، ٹنکو اروڑہ، سندیپ اور ساحل کو بری کیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Ghulam Mohammad

Recent Posts

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026، پوجا نے ہائی جمپ میں رقم کی تاریخ، 24 سال بعد بھارت کو دلایا کانسی کا تمغہ

19 سالہ پوجا نے خواتین کے ہائی جمپ فائنل میں 1.84 میٹر کی چھلانگ لگا…

30 minutes ago