قومی

Country will have to decide whether it’s appropriate: آئینی ترمیمی بل لوک سبھا بل مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے سپرد، وزیرجیل میں رہ کر حکومت چلائیں یا نہیں، یہ فیصلہ ملک کو کرنا ہوگا: امت شاہ

نئی دہلی — مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بدھ کے روز کہا کہ اب ملک کے عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا کوئی وزیر، وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم جیل میں رہتے ہوئے حکومت چلا سکتا ہے یا نہیں۔ یہ بیان انہوں نے آئین میں 130ویں ترمیمی بل سمیت تین اہم بلوں کو لوک سبھا میں پیش کرنے اور انہیں مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کے حوالے کرنے کے بعد دیا۔

اہم آئینی عہدوں پر جیل سے حکومت چلانے کی ممانعت

امت شاہ نے ایک پوسٹ میں بتایا کہ اس ترمیمی بل کا مقصد یہ ہے کہ مرکزی یا ریاستی حکومت کے وزیر، وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم جیل میں قید رہتے ہوئے حکومت نہ چلا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ جب آئین بنایا گیا تھا تو آئین بنانے والوں نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ مستقبل میں ایسے سیاسی رہنما ہوں گے جو گرفتاری کے باوجود اخلاقی بنیادوں پر استعفیٰ نہ دیں۔ بل کے مطابق، اگر کوئی گرفتار سیاست دان 30 دن کے اندر عدالت سے ضمانت حاصل نہ کرے تو 31ویں دن خود بخود اپنے عہدے سے برطرف یا نااہل قرار پائے گا۔ اگر بعد میں ضمانت مل جائے تو وہ دوبارہ عہدہ سنبھال سکتا ہے۔

بل کا مقصد: سیاست میں دیانت و اخلاقیات کی بحالی

وزیر داخلہ نے کہا کہ اس بل کا مقصد عوامی زندگی میں گرتی ہوئی اخلاقیات کو بلند کرنا اور سیاست میں دیانت داری واپس لانا ہے۔ ساتھ ہی اس میں ایک شق یہ بھی شامل ہے کہ گرفتار رہنما عدالت سے ضمانت حاصل کرنے کے لیے 30 دن کا وقت رکھتے ہیں۔

ایوان میں شور شرابہ اور اپوزیشن کا احتجاج

بل کی پیشکش کے دوران اپوزیشن اراکین نے سخت مخالفت کی، نعرے بازی کی وجہ سے اسپیکر نے ایوان کی کارروائی دوپہر 3 بجے تک ملتوی کر دی۔ اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسدالدین اویسی نے کہا کہ یہ بل اختیارات کی علیحدگی کے اصول کی خلاف ورزی اور عوام کے حقِ انتخاب کو کمزور کرتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ قانون انتظامیہ کو عدلیہ کا کردار دینے جیسا ہے، جو الزام اور شک کی بنیاد پر کارروائی کر سکے گا۔

وینوگوپال اور امت شاہ میں لفظی تکرار

کانگریس کے کے سی وینوگوپال نے کہا کہ یہ بل آئین کے بنیادی اصولوں کو نقصان پہنچانے کے لیے ہے۔ انہوں نے امت شاہ سے سوال کیا کہ جب وہ گجرات کے وزیر داخلہ تھے اور گرفتار ہوئے تھے، کیا انہوں نے اس وقت اخلاقیات کا لحاظ رکھا تھا؟ جواب میں امت شاہ نے کہا کہ ان پر جھوٹے الزامات لگائے گئے تھے، اور گرفتاری سے قبل انہوں نے استعفیٰ دے دیا تھا اور بے گناہی ثابت ہونے تک کوئی آئینی عہدہ قبول نہیں کیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Relief For Small Traders: چھوٹے تاجروں کے لیے دیوالی سے پہلے خوشخبری! جی ایس ٹی رجسٹریشن سے ریفنڈ تک آسان ہو سکتے ہیں قواعد

جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ میں چھوٹے اور کم خطرے والے کاروباروں کے لیے…

7 minutes ago

Modi 25 Years Public Life: پی ایم مودی کے 25 سالہ عوامی سفر کو وقف خدمت ہفتہ شروع، پٹیالہ میں 400 ضرورت مند خاندانوں کو راشن

وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی سفر اور ان کی سالگرہ کے موقع…

55 minutes ago

Montana Governor praises Modi’s leadership: ’وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت دنیا کے لیے مثال‘، امریکی گورنر نے کی بھرپور ستائش

بھارت کے دورے پر آئے امریکی ریاست مونٹانا کے گورنر گریگ جین فورٹے نے وزیر…

1 hour ago

25Years of Seva: سیوا کے 25 برس: گجرات سے عالمی سطح تک نریندر مودی کا سفر

عوامی زندگی کے 25 برسوں نے ہندوستان کی سیاست، معیشت اور عالمی حیثیت کو نئی…

2 hours ago

Chemistry Nobel Prize 2026: کیمسٹری کا 2026 کا نوبیل انعام ہنری بی کاغن اور کینسو سوئی کے نام، تحقیق نے دکھائی نئی راہ

رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز نے آرگینک کیمسٹری میں اہم دریافت پر دونوں سائنس دانوں…

2 hours ago