کرناٹک کی سیاست میں ایک بار پھر لفظی جنگ تیز ہو گئی ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ اور ریاستی کانگریس کے صدر ڈی کے شیوکمار کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر بی جے پی کے ریاستی صدر اور رکن اسمبلی بی وائی وجیندر نے جمعرات کو سخت جوابی حملہ کیا۔ وجیندر نے نہ صرف شیوکمار کے بیانات کو مسترد کیا بلکہ کانگریس کی قیادت والی ریاستی حکومت پر بدعنوانی، جبر اور انتظامی ناکامیوں کے سنگین الزامات بھی عائد کیے۔
مجھے ڈرانے کی کوشش نہ کریں: وجیندر
دراصل، ڈی کے شیوکمار نے حال ہی میں بی وائی وجیندر کو ’کلیکشن کنگ‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی وجہ سے ان کے والد اور سابق وزیر اعلیٰ بی ایس یدی یورپا کی شبیہ کو نقصان پہنچا ہے۔ اس پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے وجیندر نے میڈیا سے سوال کیا کہ آیا ریاستی حکومت کا خزانہ خالی ہو چکا ہے یا نہیں۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ انہیں ڈرانے یا دبانے کی کوشش نہ کی جائے۔ وجیندر نے مزید کہا کہ وہ عوام کے منتخب نمائندے ہیں اور ایک قومی پارٹی کے ریاستی صدر بھی ہیں۔ بی جے پی لیڈر نے شیوکمار کو بدعنوانی جیسے معاملات پر بیان دینے سے پہلے خود احتسابی کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کرناٹک کی سیاست میں بدعنوانی کے ’سرغنہ‘ کی بات ہوگی تو کانگریس لیڈروں کو اپنی ہی پارٹی کی طرف اشارہ کرنا پڑے گا۔ وجیندر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ آنے والے دنوں میں وہ اپنے والد بی ایس یدی یورپا کے خلاف رچی گئی مبینہ سازشوں کو بے نقاب کریں گے۔
کانگریس حکومت کی کارکردگی پر سوال
وجیندر نے نائب وزیر اعلیٰ کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان میں ہمت ہے تو وہ اسمبلی میں آ کر اپوزیشن کے سوالات کے جواب دیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شیوکمار کو ان کے بارے میں بیان دیتے وقت ضبط و تحمل سے کام لینا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے کانگریس حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ آٹھ ماہ سے مانڈیا ضلع کے مجاہدینِ آزادی کو ان کا وظیفہ نہیں دیا گیا، جو نہایت ہی افسوسناک ہے۔ بی جے پی لیڈر نے کانگریس حکومت پر ہیٹ اسپیچ ریگولیشن بل کے ذریعے اپوزیشن اور میڈیا کی آواز دبانے کا الزام بھی لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کا استعمال صحافیوں اور عام شہریوں کی اظہارِ رائے کی آزادی کو محدود کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ وجیندر کے مطابق سوشل میڈیا پر رائے رکھنے والوں کو ڈرایا جا رہا ہے اور سات سے آٹھ سال کی سزا کی شق جمہوریت کے خلاف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بی جے پی اس ’غیر جمہوری‘ قدم کی مخالفت کرے گی۔
ووٹروں کی توہین کا الزام
وجیندر نے اسمبلی اسپیکر یو ٹی کھادر کے طرزِ عمل پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ ایوان کو غیر جمہوری طریقے سے چلا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے شہری ترقی کے وزیر بیراتھی سریش پر ساحلی علاقوں کے ووٹروں کی توہین کا الزام لگایا اور کہا کہ جیسے ہی اسمبلی کی کارروائی شروع ہوگی، بی جے پی اس بل پر بحث کا مطالبہ کرے گی۔ وجیندر نے کانگریس حکومت کا موازنہ 1975 کی ایمرجنسی سے کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں ویسا ہی ماحول بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ڈھائی سال گزرنے کے باوجود ریاست میں تقریباً ڈھائی لاکھ سرکاری آسامیاں خالی ہیں اور کوئی ٹھوس بھرتی نہیں ہوئی۔ بے روزگاری کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے داونگیرے ضلع کے جگلور تعلقہ میں ایک بے روزگار نوجوان کی خودکشی کا بھی ذکر کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
منیشا کیر، نیرو اور آشِما اہلاوت کی تین رکنی ٹیم نے خواتین کے ٹریپ ٹیم…
وزیر اعظم کے دفتر (PMO) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر مبارکباد دیتے ہوئے…
CAQM نے 29 ستمبر کو جاری کیا نیا گریڈیڈ رسپانس ایکشن پلان، آلودگی بڑھنے سے…
پنجاب کے تمام 117 اسمبلی حلقوں سے گزری ’نشہ مُکت پنجاب یاترا‘، بی جے پی…
بسولی میں ڈیوٹی تبدیل کرنے کے دوران بحث کے بعد 2009 بیچ کے ہیڈ کانسٹیبل…
جاپانی بروکریج کمپنی نومورا نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ ریزرو بینک اکتوبر اور دسمبر…