قومی

Lucknow Teacher MLC Election 2026: اتر پردیش قانون ساز کونسل کی 11 نشستوں پر انتخابات، لکھنؤ ٹیچر حلقے سے سماج وادی پارٹی کے امید وار سشیل کمار پٹیل ،26 سال سے شعبہ تعلیم سے وابستہ

نئی دہلی :اتر پردیش قانون ساز کونسل کے ٹیچر اور گریجویٹ انتخابی حلقوں کی 11 نشستوں پر ہونے والے انتخابات کو لے کر سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ سماج وادی پارٹی نے لکھنؤ ٹیچر انتخابی حلقے سے سشیل کمار پٹیل کو ایم ایل سی امیدوار بنایا ہے۔ پارٹی نے 23 ستمبر کو تمام 11 نشستوں کے لیے اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا تھا۔ وہیں لکھنؤ ٹیچر نشست پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے موجودہ ایم ایل سی امیش دویدی کو ایک بار پھر امیدوار بنایا ہے۔

26 سال سے شعبہ تعلیم سے وابستہ

سشیل کمار پٹیل کی جانب سے جاری تعارفی خط میں انہیں شعبہ تعلیم سے وابستہ شخصیت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ وہ گزشتہ 26 برسوں سے شعبہ تعلیم میں کام کر رہے ہیں اور نئے تجربات کے ذریعے نئی راہیں بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ خط میں لکھنؤ پبلک اسکولز اینڈ کالجز کے بانی چیئرمین اور ماہر تعلیم ڈاکٹر ایس پی سنگھ کے وژن کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔اپنے میسج میں سشیل کمار پٹیل نے ٹیچر الیکشن 2026 کو محض ذاتی انتخاب نہیں بلکہ اساتذہ کے معاشرے کی آواز اور ان کے حقوق کو قانون ساز کونسل تک پہنچانے کا موقع قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر انہیں کونسل میں خدمت کا موقع ملتا ہے تو وہ اساتذہ کے حقوق اور احترام سے متعلق مسائل کو اٹھانے کی کوشش کریں گے۔

اساتذہ کے مفاد سے جڑے کئی مسائل شامل

سشیل کمار پٹیل کے عزم نامے میں اساتذہ کے مفادات سے متعلق کئی مطالبات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں منظور شدہ غیر امدادی اسکولوں کو گرانٹ اِن ایڈ کے دائرے میں شامل کرنا، امداد یافتہ تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سال کرنا اور غیر امدادی اداروں کے اساتذہ کے لیے کم از کم اعزازیہ یقینی بنانا شامل ہے۔اس کے علاوہ امتحانی مراکز کی تقسیم میں مساوات، غیر امدادی اسکولوں کے اساتذہ کے لیے پنشن کا نظام، پرانی پنشن اسکیم یعنی او پی ایس کی بحالی، برسوں سے کام کر رہے عارضی اساتذہ کو مستقل کرنا اور اسکولوں میں کمپیوٹر اساتذہ کی مستقل تقرری جیسے مسائل بھی ان کے عزم نامے میں شامل ہیں۔انہوں نے سرکاری اسکولوں کی طرح غیر امدادی اسکولوں کو بھی ترقیاتی فنڈ فراہم کرنے، اساتذہ کے لیے رہائشی اسکیموں میں ریزرویشن، حق تعلیم قانون کے دفعات پر عمل درآمد اور اسکولوں کی منظوری کے لیے یکساں معیار طے کرنے کی بات بھی کہی ہے۔ طلبہ کی تعداد کو متوازن رکھنے کی تجویز بھی ان کے عزم میں شامل ہے، تاکہ تعلیم کے معیار پر اثر نہ پڑے۔

23 اکتوبر کو ہوگی ووٹنگ

لکھنؤ ٹیچر انتخابی حلقے میں سشیل کمار پٹیل اور بی جے پی کے امیش دویدی کے درمیان مقابلہ ہے۔ اتر پردیش کی 11 قانون ساز کونسل نشستوں کے لیے 23 اکتوبر 2026 کو ووٹنگ اور 27 اکتوبر کو ووٹوں کی گنتی کی تجویز ہے۔ نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 6 اکتوبر جبکہ نامزدگی کے کاغذات کی جانچ 7 اکتوبر کو ہوگی۔سشیل کمار پٹیل کے انتخابی منشور میں اساتذہ کے مفادات، غیر امدادی اسکولوں سے متعلق مسائل اور تعلیمی نظام میں مساوات سے متعلق مطالبات کو نمایاں جگہ دی گئی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

From Small-Town India To Lord’s: چھوٹے شہر سے لارڈز تک، کرانتی گوڑ اور یستیکا بھاٹیا نے کرکٹ میں رقم کردی تاریخ

کرانتی نے انگلینڈ کی پہلی اننگز میں پانچ وکٹ حاصل کرکے لارڈز میں ٹیسٹ کرکٹ…

37 minutes ago

INDIA alliance meeting: انڈیا الائنس کی میٹنگ میں کون کون ہوئے شامل؟ کانگریس نے جاری کی مکمل فہرست

رپورٹ کے مطابق انڈیا الائنس سے دو جماعتیں الگ ہو چکی ہیں۔ پہلے اس اتحاد…

1 hour ago

SP’s Bold Move in Rajya Sabha Fray: راجیہ سبھا کے میدان میں ایس پی کا بڑا داؤ، رام گوپال کے ساتھ دھن راج ناتھوانی نے کیا نامزدگی داخل

دھن راج ناتھوانی ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ میں گروپ صدر ہیں۔ ان کی پروفائل کے مطابق…

2 hours ago

Drug-Free Punjab: وزیر داخلہ امت شاہ آج جالندھر میں نشہ مکت پنجاب یاترا کو دکھائیں گے ہری جھنڈی

ریلی میں پنجاب کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں بی جے پی کارکنوں کے…

3 hours ago