قومی

Connecting Research and Strategy in Semiconductors: سیمی کنڈکٹرس میں تحقیق و حکمت عملی کی ہم آہنگی

تحریر:ظہور حسین بٹ

اسمارٹ فون اور  طبّی آلات سے لے کر ڈیٹا سینٹرس اور دفاعی نظام تک ، سیمی کنڈکٹر جدید معیشتوں کی بنیاد ہیں۔  جیسے جیسے پوری دنیا میں ان کی مانگ بڑھ رہی ہےاور رسد فراہمی کی کمزوریاں دور ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں ، امریکہ اور ہندوستان اس بات کا نئے سرے سے جائزہ لے رہے ہیں کہ وہ جدید چِپس کو کیسے ڈئزائن کریں اور اس کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

اسی مشترکہ توجہ کے پیشِ نظر پرڈیو یونیورسٹی اور آئی آئی ٹی حیدرآباد نے’امریکہ۔ہند مرکزِ فضیلت برائے سیمی کنڈکٹرس‘ قائم کیا ہے۔ یہ اقدام دونوں ممالک میں سیمی کنڈکٹر کے وسیع تر قومی ترجیحات کے فروغ کے لیے تحقیق، افرادی قوت کی ترقی اور صنعتی تعاون کو ایک دوسرے سے منسلک کرتا  ہے۔

پرڈیو یونیورسٹی کے وائس پریزیڈنٹ اور ہندوستان کے لیے یونیورسٹی کے سفیر، پروفیسر وجے رگھوناتھَن بتاتے ہیں ’’امریکہ سیمی کنڈکٹرس کی جدید تحقیق اور اختراع میں قائدانہ حیثیت رکھتا ہے، جبکہ ہندوستان کے پاس  پیداوار کے شعبے میں بڑے پیمانے پر کام کرنے کی صلاحیت ، با صلاحیت افرادی قوت اور بلند عزائم موجود ہیں۔ ‘‘

یہ مرکز انہیں  تکمیلی صلاحیتوں کو باہم  مربوط کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ امریکی اداروں کے لیے یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو باصلاحیت افراد کے ایک وسیع اور توسیع پذیر ذخیرے کے ساتھ تحقیقی تعاون اور افرادی قوت کی ترقی کو وسعت دینے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ ہندوستان کے لیے یہ مرکز محض چِپ  ڈیزائننگ تک محدود رہنے کے بجائے پیداوار  اور جدید پیکیجنگ میں بھرپور شرکت کی کوششوں کو تقویت دیتا ہے۔

طویل مدتی بصیرت

رگھوناتھَن کے مطابق سیمی کنڈکٹر قیادت اب صرف ٹرانزسٹر اسکیلنگ (یعنی ٹرانزسٹر کو چھوٹا کر کے ایک چپ میں زیادہ اجزا سمونے کا عمل) پر نہیں بلکہ اس بات پر بھی منحصر ہے کہ مربوط نظام کیسے ڈیزائن اور تیار کیے جاتے ہیں۔ اس تبدیلی سے ڈیزائن، مواد، پیکیجنگ اور  نظام کو مربوط کرنے کے درمیان ہم آہنگی کی اہمیت بڑھ جاتی ہے  —ایسے شعبے جہاں اداروں اور سرحدوں سے ماورا  تعاون نہایت اہم ہو جاتا ہے۔

آئی آئی ٹی حیدرآباد کے ڈائریکٹر پروفیسر بی ایس مورتی افرادی قوت  کے ذخیرے کو مستحکم کرنے میں اس مرکز کے کردار پر زور دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’’اس  مرکزِ فضیلت کو ہنر مند افراد کی نشوونما اور ہندوستانی اور امریکی  تدریسی حلقے اور صنعت کے درمیان اشتراک کے لیے ایک جامع حل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ‘‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ دنیا کی سیمی کنڈکٹر ڈیزائن کرنے والی افرادی قوت  کا تقریباً 20 فی صد  حصہ ہندوستان فراہم کرتا ہے، جبکہ امریکہ نے  جدید سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی میں قائدانہ حیثیت  کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے ’’یہ مرکز ان صلاحیتوں کو ایک منظم انداز میں یکجا کرتا ہے‘‘ اور یہ ایک ایسے  کنزورٹیم کے طور پر کام کرتا ہے جو دونوں  ملکوں کی یونیورسٹیوں ، صنعتی شراکت داروں اور حکومت کے متعلقہ افراد کو آپس میں مربوط کرتا ہے۔

گذشتہ چند برسوں میں آئی آئی ٹی حیدرآباد نے چِپ ڈیزائن ، پیداوار، پیکجنگ اورمواد کے شعبوں میں خصوصی پروگرام تیار کیے ہیں جن کا مقصدانجینئروں کو سیمی کنڈکٹر ویلیو چین (سیمی کنڈکٹر کی تخلیق سے صارف تک رسائی کا جامع عمل)کے مختلف مراحل کے لیے تیار کرنا ہے۔

نتائج پر مبنی تربیت

مرکزِ فضیلت  کے قیام سے پہلے، آئی آئی ٹی حیدرآباد نے ہندوستان کی وزارتِ تعلیم کےتعلیمی اور تحقیقی اشتراک کے فروغ کی اسکیم(اسپارک )کے تحت پرڈیو یونیورسٹی کے ساتھ مل کر ایک بین الاقوامی افراد ی قوت کو فروغ دینے والا پروگرام چلایا۔

تین مرحلوں پر مشتمل  یہ پروگرام ایک بنیادی ورکشاپ سے شروع ہوا، پھر آئی آئی ٹی حیدرآباد میں عملی تربیت ہوئی، اور آخر میں پرڈیو کے برک نینو ٹیکنالوجی سینٹر میں اعلیٰ سطحی سیشنکے ساتھ اس کی تکمیل ہوئی ۔ دو مرحلوں میں مجموعی طور پر 39 طلبہ نے پروگرام میں حصہ لے کر اس کی تکمیل کی۔ ان میں سے کئی سیمی کنڈکٹر صنعت میں شامل ہو گئے، جبکہ کچھ نے اعلیٰ تعلیم کا رخ کیا۔

رگھوناتھَن اور مورتی دونوں اس پہل کی کامیابی کو مرکز کے وسیع تر مشن کی بنیاد سمجھتے ہیں: ہنرمند افراد  کی تیاری کو بڑے پیمانے پر بڑھانا اور اسے تحقیق اور صنعت کی ضروریات سے مزید قریب کرنا ۔

پرڈیو یونیورسٹی نے اپنی سیمی کنڈکٹر افرادی قوت  والی پہل کو پالیسی اور نظم و نسق کے موضوعات تک بھی وسعت دی ہے، جیسے ایکسپورٹ کنٹرولس، دانشورانہ املاک کا تحفظ، اور ذمہ دار ٹیکنالوجی استعمال، یعنی ایسے پہلو جو مرکز کے مشن کو  تقویت فراہم کرتے ہیں ۔

رگھوناتھن کا کہنا ہے ’’امریکی محکمہ خارجہ کی گرانٹ کے تعاون سے تیار کردہ یہ کورسسیمی کنڈکٹر انجینئرس اور صنعتی رہنماؤں کو عالمی تناظر میں ضوابط کی تعمیل  اور ذمہ دارانہ ٹیکنالوجی کی ترقی کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔‘‘

صنعت اور پالیسی کا انضمام

صنعتی اشتراک اس مرکز کے اس اسٹریٹجک ہدف کے حصول میں مددگار ہے جو امریکہ اور ہندوستان کے درمیان سیمی کنڈکٹر کی تحقیق اور افرادی قوت کے اقدامات کو ہم آہنگ کرنے کی بات کرتا ہے ۔ انٹیل، کوالکوم، این ویڈیا، اے ایم ڈی اور سائن آپسس جیسی معروف امریکی سیمی کنڈکٹر اور ڈیزائن آٹومیشن کمپنیاں ہندوستان میں تحقیق و ترقی کے مراکز چلا رہی ہیں جن میں سے بیشتر حیدرآباد میں واقع ہیں۔

رگھوناتھَن کہتے ہیں’’مرکز  ان کمپنیوں کے ساتھ قریبی تعاون کا خواہاں ہے تاکہ تحقیق،  افرادی قوت کی تربیت اور خیالات کو عملی شکل دینے کی کوششوں کو ہم آہنگ کیا جا سکے۔ ‘‘

مورتی کے مطابق کنزورٹیم ماڈل تحقیق، نمونہ سازی (پروٹو ٹائپنگ) اور حتمی مصنوعات کی تیاری کے درمیان ایک مربوط اور مسلسل راستہ فراہم کرتا ہے، جس سے عالمی سیمی کنڈکٹر نظام میں امریکہ۔ہند تعاون کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔

رگھوناتھَن مزید کہتے ہیں’’حکومتِ ہند کے سیمی کنڈکٹر مشن کے ساتھ پرڈیو  یونیورسٹی کی شراکت داری قدرتی طور پر اس مرکز کے ذریعے آگے بڑھتی ہے۔ جب ایسے تعاون مؤثر انداز میں کیے جائیں تو وقت کے ساتھ انہیں برقرار رکھنا آسان ہو جاتا ہے، اور یہی ایک وسیع تر امریکہ۔ہند سیمی کنڈکٹر شراکت داری کی بنیاد بنتے ہیں۔‘‘

بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی

Bharat Express

Recent Posts

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026، وزیر اعظم نریندر مودی نے روشیبینا دیوی، ستنم سنگھ اور سلمان خان کو دی مبارکباد

ووشو میں روشیبینا دیوی نے سلور جبکہ روئنگ کے مینز ڈبل اسکلز مقابلے میں ستنم…

31 minutes ago

Adani Group Plans: دو ہزار بستروں والے غیر منافع بخش اسپتال کے سنگِ بنیاد پر گوتم اڈانی کا بڑا اعلان، ’یہ بنگال کے طبی مستقبل کو بہتر بنائے گا‘

’اڈانی آروگیہ مندر‘ میں جدید میڈیکل کالج، جدید تحقیق اور طبی نگہداشت کی سہولیات ہوں…

48 minutes ago

PHDCCI Seminar: نئے لیبر کوڈز سے آسان ہوگی تعمیل، روزگار اور سماجی تحفظ کے مواقع بڑھیں گے: لیبر سکریٹری

پی ایچ ڈی سی سی آئی کے سیمینار میں لیبر کوڈز کے عملی نفاذ، اجرت،…

51 minutes ago

Gyanesh kumar Arresting Issue: کیا سی ای سی گیانیش کمار گرفتار ہو سکتے ہیں؟ گرفتاری کے مطالبے کے درمیان جانیے کیا کہتا ہے قانون

اپوزیشن کی جانب سے گرفتاری کا مطالبہ، 2023 کے قانون کی دفعہ 16 میں انتخابی…

1 hour ago

Bigg Boss 20: بگ باس 20، منوج تیواری کی بیٹی ریتی نے قاضی توقیر کو دی گالی، کیمرے کے سامنے گلوکار نے والد سے کی شکایت

’ڈِس بیٹل‘ کے دوران ریتی تیواری اور قاضی توقیر کے درمیان شدید جھڑپ، ریتی کی…

2 hours ago