کانگریس پارٹی اور اس کے سینئر وجونیئرلیڈران وپارٹی کارکنان مرکزی حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاج کررہے ہیں۔ یہ احتجاج ای ڈی (انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ) کے دفاتر اور مختلف اضلاع میں مرکزی حکومت کے دفاتر کے سامنے منعقد کیا گیا۔ کانگریس کا الزام ہے کہ مرکزی حکومت سیاسی انتقام اور ناانصافی کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے، جس کے خلاف پارٹی نے یہ مظاہرہ منظم کیا۔ دہلی میں پارٹی ہیڈکوارٹر کے باہر بھاری سیکیورٹی تعینات کی گئی تھی، لیکن کارکنوں نے پرجوش انداز میں اپنا احتجاج جاری رکھا۔
بتادیں کہ یہ احتجاج نیشنل ہیرالڈ کیس سے جڑے تنازعات کے تناظر میں کیا گیا،جہاں ای ڈی نے اپنا جارج شیٹ داخل کیا ہے، جس میں کانگریس کے سینئر رہنما سونیا گاندھی اور راہل گاندھی بھی شامل ہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ای ڈی کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات سیاسی طور پر محرک ہیں اور اس کا مقصد کانگریس کو کمزور کرنا ہے۔ کانگریس رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت اپوزیشن کے خلاف اداروں کا غلط استعمال کر رہی ہے، جس سے جمہوری اقدار کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس احتجاج کو پارٹی نے اپنی آواز بلند کرنے اور کارکنوں کو متحد کرنے کی حکمت عملی کے طور پر دیکھا۔
دہلی میں مظاہرے کی صورتحال
دہلی کے اکبر روڈ پر واقع کانگریس کے صدر دفتر کے باہر کارکنوں نے نعرے بازی کی اور مرکزی حکومت کے خلاف بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے۔ مظاہرین نے نیشنل ہیرالڈ کیس کو “سیاسی بدلہ” قرار دیتے ہوئے ای ڈی کی کارروائیوں کی مذمت کی۔ پولیس نے علاقے میں سخت سیکیورٹی انتظامات کیے، لیکن مظاہرہ پرامن رہا۔ کانگریس کے ترجمان نے کہا کہ یہ احتجاج صرف دہلی تک محدود نہیں بلکہ ملک بھر کے ہر ضلع اور ریاستی دارالحکومت میں منعقد کیا جا رہا ہے۔کانگریس کے مطابق، یہ احتجاج ملک کے تمام بڑے شہروں اور اضلاع میں منظم کیا گیا، جہاں پارٹی کارکنوں نے ای ڈی کے دفاتر اور مرکزی حکومت کے مقامی دفاتر کے سامنے مظاہرے کیے۔ کارکنوں نے نہ صرف نیشنل ہیرالڈ کیس بلکہ وقف (ترمیمی) بل 2025 اور دیگر متنازع پالیسیوں کے خلاف بھی آواز اٹھائی۔ کانگریس رہنماؤں نے اسے “جمہوریت بچاؤ” مہم کا حصہ قرار دیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ ان کے ساتھ شامل ہوں۔ اس احتجاج نے سوشل میڈیا پر بھی زور پکڑا، جہاں #CongressProtest جیسے ہیش ٹیگز ٹرینڈ کرتے رہے۔
ادھربی جے پی نے کانگریس کے اس احتجاج کو “سیاسی ڈرامہ” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ بی جے پی کے ترجمان نے کہا کہ ای ڈی ایک آزاد ادارہ ہے اور وہ قانون کے مطابق اپنا کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے احتجاج کا سہارا لے رہی ہے۔ دوسری جانب، کانگریس کے اتحادیوں، جیسے کہ ڈی ایم کے اور آر جے ڈی، نے اس احتجاج کی حمایت کی اور مرکزی حکومت پر جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔وہیں کانگریس نے اعلان کیا کہ یہ احتجاج ایک طویل جدوجہد کا حصہ ہے اور وہ مرکزی حکومت کی “ظالمانہ پالیسیوں” کے خلاف اپنی مہم جاری رکھے گی۔
بھارت ایکسپریس۔
منشیات کی اسمگلنگ، منظم جرائم اور آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے درمیان مرکزی وزیر…
جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے اپنے ایک بیان میں کہا…
مدھیہ پردیش کے گوالیار میں شیٹلا ماتا مندر کے قریب ٹرک کی زد میں آکر…
جے این یو میں آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا کے عمر…
کولکاتا کے چورباگان درگا پوجا پنڈال میں بھگدڑ کے بعد مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ…
اڈانی گروپ اور گوگل کے مجوزہ اے آئی ڈیٹا سینٹر میں پانی کے استعمال پر…