قومی

West Bengal Elections: ’’مغربی بنگال میں کانگریس کا کھاتہ بھی نہیں کھلے گا، ’دیدی‘ کی حالت مزید خراب ہوگی‘‘ وزیرداخلہ امت شاہ کی بی جے پی حکومت بنانے کی اپیل

کولکاتا: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بدھ کے روز مغربی بنگال کے ضلع نارتھ 24 پرگنہ میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی حکومت اور کانگریس پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں کانگریس اپنا کھاتہ بھی نہیں کھول پائے گی جبکہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی قیادت والی حکومت کی صورتحال مزید خراب ہونے والی ہے۔

دراندازی اور سکیورٹی کا مسئلہ

امت شاہ نے کہا کہ بنگال میں دراندازوں کی موجودگی ریاست کے لیے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ ان کے مطابق یہ درانداز نوجوانوں کی نوکریاں چھین رہے ہیں، غریبوں کا راشن ہڑپ کر رہے ہیں اور قومی سلامتی کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ بی جے پی کو اقتدار میں لائیں تاکہ ہر درانداز کی شناخت کرکے اسے ملک سے باہر نکالا جا سکے۔ انہوں نے ترنمول کانگریس پر ’’سنڈیکیٹ راج‘‘ چلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں عام لوگوں کو بنیادی اشیاء خریدنے کے لیے بھی مبینہ طور پر دباؤ اور بھتہ دینا پڑتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ 5 مئی کے بعد ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

خواتین کی سلامتی اور فلاحی وعدے

مرکزی وزیر داخلہ نے خواتین کی سلامتی کے معاملے پر بھی ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت بننے پر خواتین کسی بھی وقت بلاخوف باہر نکل سکیں گی۔ اس کے علاوہ انہوں نے وعدہ کیا کہ خواتین اور بے روزگار نوجوانوں کو ماہانہ 3,000 روپے مالی امداد دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حاملہ خواتین کو مالی مدد فراہم کی جائے گی اور خواتین کے لیے بس سفر مفت کیا جائے گا۔ ساتھ ہی بے روزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے لیے شفاف نظام کے تحت تقرریاں کی جائیں گی۔

دہشت گردی اور قومی سلامتی پر بیان

امت شاہ نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک نے دہشت گردی کے خلاف سخت کارروائیاں کی ہیں، جن میں سرجیکل اسٹرائیک اور فضائی حملے شامل ہیں۔ انہوں نے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی زبان نامناسب ہے۔  انہوں نے دعویٰ کیا کہ راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس کو تمل ناڈو، پڈوچیری، آسام اور مغربی بنگال میں بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ بنگال کے ووٹرز اب تبدیلی چاہتے ہیں اور بی جے پی ریاست میں ’’سونار بنگلہ‘‘ کا خواب پورا کرے گی۔ مغربی بنگال کی 294 رکنی اسمبلی کے لیے انتخابات دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو ہوں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ ریاست میں برسرِ اقتدار ترنمول کانگریس اور بی جے پی کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

PM Modi and Swiss President to Meet Today: بھارت-سوئٹزرلینڈ تعلقات میں نئے باب کا آغاز، پی ایم مودی اور سوئس صدر کے درمیان آج ہوگی اہم ملاقات

اعلیٰ سطحی ملاقات کا اہم ایجنڈا دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں…

57 minutes ago

Jantar Mantar Protest: دہلی کے جنتر منتر پرخاتون سے مبینہ بدسلوکی کے خلاف پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے کے باہر احتجاج

روزی نے بتایا کہ اس وقت ان کے ساتھ دیگر خاتون صحافی بھی موجود تھیں۔…

2 hours ago

SIR Row Escalates: ایس آئی آر پر بڑھا تنازع، گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ, سپریم کورٹ میں آج سماعت

نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، عرضیوں میں چیف الیکشن کمشنر کی…

3 hours ago