قومی

Congress Welcomes Ceasefire: کانگریس نے مغربی ایشیا میں جنگ بندی کا کیا خیرمقدم، امن اور سفارت کاری کی بحالی پر زور

کانگریس کی جانب سے جاری قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ریاستی سربراہان کا قتل، بین الاقوامی قانون سے ہٹ کر جنگ چھیڑنا، اور شہریوں و شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے انسانیت اور اصولوں پر مبنی عالمی نظام کے خلاف سنگین جرائم ہیں۔ کوئی بھی بامعنی حل جنیوا کنونشنز، شہری و سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدہ، پیرس معاہدہ اور اقوام متحدہ کا چارٹر کے اصولوں پر مبنی ہونا چاہیے—خصوصاً کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کے استعمال کی ممانعت (آرٹیکل 2(4)) اور تنازعات کے پرامن حل (آرٹیکل 2(3)) کے تحت۔

1947 سے اب تک کی حکومتوں نے ان عالمی اصولوں کی پیروی کی ہے

قرارداد میں کہا گیا کہ 1947 سے اب تک کی حکومتوں نے ان عالمی اصولوں کی پیروی کی ہے، جو  مہاتما گاندھی کے عدم تشدد کے اصول، اور پنڈت جواہر لال نہرو کی غیر وابستگی کی پالیسی پر مبنی خارجہ پالیسی روایت سے متاثر رہی ہے۔ یہ عزم آئین کے آرٹیکل 51 میں بھی درج ہے جو بین الاقوامی قانون اور معاہداتی ذمہ داریوں کے احترام کی ہدایت دیتا ہے۔ اسی ورثے کے تحت بھارت نے جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خلاف جدوجہد، کوریا جنگ کے دوران نیوٹرل نیشنز ریپٹری ایشن کمیشن، ایشیا و افریقہ میں نوآبادیاتی مخالف تحریکوں کی حمایت، غیر وابستہ تحریک اور عالمی جنوب کی ایک اصولی آواز کے طور پر کردار ادا کیا ہے۔یہ کردار ہنگری، مصر، ویتنام، عراق اور افغانستان جیسے تنازعات میں مسلسل سفارتی کوششوں، انسانی امداد اور اقوام متحدہ کے امن مشنز میں شراکت کی صورت میں بھی نظر آتا ہے۔

حالیہ عرصے میں بھارت کی توانائی سلامتی متاثر ہوئی

یہ جنگ بندی بھارت کے لیے اپنے اخراجات اور اثرات کا جائزہ لینے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔ حالیہ عرصے میں بھارت کی توانائی سلامتی متاثر ہوئی ہے، وسیع تر اسٹریٹجک خطے میں تعلقات پر دباؤ آیا ہے، بحیرۂ ہند میں ایک نیٹ سکیورٹی فراہم کنندہ کے طور پر کردار کمزور ہوا ہے، اور عالمی جنوب میں اخلاقی قیادت بھی متاثر ہوئی ہے۔کانگریس نے کہا کہ اس کے براہِ راست اثرات عوام پر بھی پڑے ہیں—گھریلو گیس اور کھاد جیسی ضروری اشیا کی کمی، مغربی ایشیا میں بھارتی تارکین وطن کے لیے غیر یقینی صورتحال، اور بدلتے ہوئے اسٹریٹجک حالات سے پیدا ہونے والی بڑھتی ہوئی غیر محفوظ کیفیت۔ بدقسمتی سے، اس نئی جغرافیائی و سیاسی حقیقت کے معاشی اور سیاسی اثرات مزید بڑھنے کا خطرہ رکھتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Plea on Delhi Pollution: دہلی میں فضائی آلودگی پر سپریم کورٹ کا طنزیہ تبصرہ، کہا-’’امید ہے آپ موسم کا لطف اٹھا رہے ہوں گے‘‘

عدالت عالیہ نے آلودگی کے لیے صرف پرالی جلانے کو ذمہ دار ٹھہرانے پر سوال…

20 minutes ago

Amit Shah launches Mission Uttarakhand: امت شاہ نے ’مشن اتراکھنڈ‘ کا کیا آغاز، مسلسل تیسری بار بی جے پی حکومت بنانے کے لیے 65 سے زیادہ سیٹوں کا ہدف

اتراکھنڈ یومِ تاسیس کی تقریب میں کانگریس اور راہل گاندھی پر سخت تنقید کرتے ہوئے…

47 minutes ago

PM Modi meets Suryakumar Yadav: وزیراعظم مودی سے سابق بھارتی ٹی-20 کپتان سوریہ کمار یادو اور ان کے اہل خانہ کی ملاقات

سوریہ کمار اپنے اہل خانہ کے ساتھ نئی دہلی میں وزیر اعظم سے ملاقات کی۔…

54 minutes ago

Supreme Court refuses suspend Tarun Tejpal 10 Year Sentence: ترون تیج پال کو سپریم کورٹ سے ایک اور جھٹکا، 10 سال کی سزا پر روک لگانے سے انکار

وہیں گوا حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹرجنرل تشارمہتا نے ترون تیج پال کی…

1 hour ago