قومی

Congress party graph in bihar election: سن1952 سے بہار کے انتخابات میں کانگریس کا زوال، بی جے پی کا مسلسل بڑھتا ووٹ شیئر — اب تک کے سیاسی اتار چڑھاؤ جانیے

بہار انتخابات کے نتائج میں عوام نے معلق اسمبلی کی ہر ممکن قیاس آرائی کو یکسر مسترد کر دیا ہے، حالانکہ چند سیاسی مبصرین نے نتیش حکومت کے خلاف 20 سال کی اینٹی انکمبنسی لہر کا اندازہ لگایا تھا۔ بہار کے ووٹروں نے بھرپور اور غیر معمولی وضاحت کے ساتھ فیصلہ دے دیا ہے کہ ریاست کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں ہوگی۔ بہار انتخابات 2025 میں وزیراعلیٰ نتیش کمار کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کو شاید سب سے مضبوط اور سب سے بڑا مینڈیٹ حاصل ہوا ہے۔

بی جے پی – جے ڈی یو اتحاد کے لیے یہ اب تک کے بہترین اعداد و شمار

دوپہر تک کے نتائج کے رجحانات کے مطابق، یہ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) اور کانگریس کی قیادت والے عظیم اتحادکی سب سے بڑی شکستوں میں سے ایک ہے۔ اس انتخاب کی سب سے اہم بات یہ رہی کہ بی جے پی – جے ڈی یو اتحاد کے لیے یہ اب تک کے بہترین اعداد و شمار ہیں، جہاں رجحانات کے مطابق دونوں جماعتوں نے 80 سے 90 فیصد سے زیادہ کا اسٹرائیک ریٹ برقرار رکھا۔ البتہ ان کے ووٹ، حمایت اور مینڈیٹ میں اضافہ راتوں رات نہیں ہوا بلکہ کئی برسوں کی مسلسل محنت اور سیاسی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ اگر آزادی کے بعد کے انتخابی اعداد و شمار پر نظر دوڑائیں تو 1952 کے انتخابات میں 239 نشستیں جیتنے والی ملک کی سب سے پرانی جماعت کانگریس اس بار سنگل ڈجٹ میں سمٹ گئی ہے۔

بی جے پی کی بہار میں پرواز

2010 کا انتخاب کانگریس کے لیے مزید مایوس کن رہا، کیونکہ اسے صرف 4 نشستیں اور 8 فیصد ووٹ ملے۔ ہندی بیلٹ میں ایک وقت میں ناقابل شکست سمجھی جانے والی یہ جماعت، آر جے ڈی اور جے ڈی یو جیسے علاقائی طاقتوں کے مضبوط ہونے کے ساتھ کمزور پڑتی چلی گئی اور آج ایسے مقام پر کھڑی ہے جہاں اس کی بحالی تقریباً ناممکن نظر آتی ہے۔دوسری طرف، بی جے پی نے 1980 میں 8 فیصد ووٹ شیئر اور 21 نشستوں کے ساتھ اپنی انتخابی مہم کا آغاز کیا تھا، اور گزشتہ  چند برسوں میں مسلسل اس کی پوزیشن مضبوط ہوتی گئی۔ آج بہار بی جے پی کے مضبوط قلعوں میں شمار ہوتا ہے۔اس سے پہلے بھی بہار کے انتخاب میں ایسا ہی غیر معمولی پیٹرن دیکھنے کو ملا تھا، جب 1977 میں ‘جن نائک’ کپور ی ٹھاکر کی قیادت والی جے پی نے 42.68 فیصد ووٹوں کے ساتھ زبردست کامیابی حاصل کی تھی، اور کانگریس صرف 57 نشستوں تک سمٹ گئی تھی اور اسے سخت شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Cyclonic Storm ‘Arnab’ in the Bay of Bengal: خلیج بنگال میں سمندری طوفان ’ارنَب‘، بھارت میں ہائی الرٹ، ان ریاستوں میں دکھائی دے گا اثر

سمندری طوفان کے خطرے کو دیکھتے ہوئے اڈیشہ، مغربی بنگال اور آندھرا پردیش میں قومی…

31 minutes ago

Lula da Silva Wins Brazilian Presidential Election: لولا ڈا سلوا برازیل کے صدارتی انتخابات میں کامیاب، چوتھی بار اقتدار سنبھالنے کے لیے تیار

برازیل کے صدارتی انتخاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی پالیسیاں بھی اہم…

2 hours ago

PM Modi’s road show: بھونیشور میں پی ایم مودی کے روڈ شو کو لے کر جوش و خروش، اوڈیشہ کے لوگوں نے کہا- ریاست کی ترقی کو ملے گی نئی رفتار

وزیر اعظم نریندر مودی کے اوڈیشہ دورے کے دوران بھونیشور میں جشن کا ماحول رہا۔…

11 hours ago