کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے وقف قانون کو مسترد کرنے کی اپیل کی۔
نئی دہلی: پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان میں انسانوں کے امنڈتے ہوئے سیلاب نے مرکزی حکومت کے نئے قانون وقف کویکسرمسترد کرتے ہوئے کہا کہ جب تک حکومت اس قانون کوواپس نہیں لے لیتی، ہماری تحریک مستقل مظبوطی کے ساتھ جاری رہے گی کیونکہ یہ وقف ایکٹ غیر دستور ی، اقلیت دشمن اور آڑ ٹیکل 13؍14؍25؍26 اور 300 اے کے خلاف ہے۔ 29 جون کو’’وقف بچاؤ دستوربچاؤ کانفرنس‘‘پٹنہ کے گاندھی میں منعقد ہوا، جس میں رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی بھی شامل ہوئے۔ عوامی جم غفیرسے خطاب کرتے ہوئے عمران پرتاپ گڑھی نے کہا ’’آپ کوایک چیزذہن میں رکھنا ہوگا کہ یہ وقف قانون جو لوک سبھا میں آیا، اس کی حمایت میں اگر288 ووٹ پڑے، لیکن اس بل کی مخالفت میں لوک سبھا میں ہی 232 ووٹ پڑے۔ لوک سبھا میں مسلم ممبرپارلیمنٹ صرف 24 ہیں تو200 سے زائد ووٹ اس ملک کے ہندو، دلت، سکھ بھائیوں نے اس بل کے خلاف ووٹ کیے تھے۔ تمام ممبران پارلیمنٹ کہہ رہے تھے کہ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہی ہمارے ملک ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب ہے۔
ڈاکٹرامبیڈکر کی کتاب سے چلے گا ملک
ممبر پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے مزید کہا کہ یہ ملک صرف نریندرمودی کی جاگیرنہیں ہے، یہ ملک ہندوستان کے ہرانسان کا ہے۔ ہم اپنے آبا واجداد کی زمینوں، خانقاہوں، عبادت گاہوں اورقبرستان کو بچانے کے لئے جوقربانی ضروری ہوگی وہ قربانی دیں گے۔ چاہے اس کیلئے ہم سبھی کوسڑکوں پربیٹھنے کی ضرورت پڑے گی تو سڑکوں پر بھی بیٹھیں گے۔ ممبر پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ میں حکومت سے کہنا چاہتا ہوں کہ جمہوریت اکڑسے نہیں چلتی، جمہوریت قانون کی کتاب سے چلتی ہے یہ جو قانون ہے جس کوڈاکٹربھیم راؤ امبیڈکرصاحب نے اپنے خون پسینے سے لکھا تھا اس کتاب سے ملک چلے گا، کسی کی اکڑ اورضد سے نہیں چلے گا مودی جی۔ آپ کویہ سمجھنا پڑے گا کہ آپ ہماری حمایت میں جو بل لے کرآئے ہیں، ہمیں پتہ ہے وہ ہماری حمایت میں نہیں ہماری بربادی کا سامان لے کرآئے ہیں، آپ کی شازش، منشا کوہم سمجھتے ہیں، اس لئے ہم اس بل کے خلاف کھڑے ہیں۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی تجویز پر امارت شرعیہ نے بلائی کانفرنس
آپ کوبتادیں کہ آل انڈ یا مسلم پرسنل لا بورڈ کی تجویزاورتمام ملی جماعتوں کے مشترکہ تعاون سے امارت شرعیہ بہاراوڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال کی قیادت میں29 جون کو’’وقف بچاؤ، دستوربچاؤ کانفرنس‘‘ پٹنہ کے گاندھی میدان میں منعقد ہوئی، جوحسب توقع پوری طرح کامیاب رہی۔ اس میں بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ اورمغربی بنگال کے مسلمانوں نے بالعموم اورملک بھرکے عوام نے حصہ لیا، جس میں ہرطبقہ اورہرجماعت کے افراد شامل تھے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ مجمع لاکھوں کا رہا ہوگا، پٹنہ کا گاندھی میدان اپنی تمام تروسعت کے باوجود مسلمانوں کے امنڈتے ہوئے سیلاب کے سامنے تنگ دامنی کا شکوہ کرتا نظرآیا۔
مختلف سیاسی پارٹیوں کے لیڈران نے کی شرکت
اس تاریخ سازعظیم الشان کانفرنس سے ملک کےممتاز ملی قائدین مختلف مکاتب و فکر و خیال کے اصحاب فکرودانش اورسیکولراتحادی پارٹیوں کے قدآورسیاسی لیڈران و و ممبران پارلیمان نے اپنے بیانات میں واضح کیا کہ ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا دور آیا ہوجیسا کہ آج ہے جب سے مرکزمیں بی جے پی برسر اقتدارآئی ہے، اس وقت سے تمام اقلیتی طبقے شدید اضطراب میں مبتلا ہیں، یہ حکومت ہندوستان سے اعلیٰ انسانی واخلاقی اقدارکومٹانے اور یہاں کی تہذیبی اورثقافتی ورثے کو ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ دراصل وہ اس راہ سے ملک کے دستوری ڈھانچے کوختم کرنا اوریہاں کے آئین کوبدلنا چاہتی ہے، لہٰذ اگرہم سب مل جل کرایک بن کررہیں اورمل کرکام کریں توبی جے پی کواس کے مقاصد میں کبھی کامیابی نہیں ملے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو-
مودی کی عوامی زندگی کے 25 سال مکمل ہونے پر ’مودی اسٹوری‘ نامی ایکس ہینڈل…
نیِم کرولی بابا کی زندگی اور ان کی مذہبی تعلیمات پر مبنی فلم ’ہنومان انش‘…
مرکزی وزیر برائے ریل اشونی ویشنو نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی…
اردو زبان کی ترویج اور اس کے فروغ کے لیے خدمات اور خصوصی تعاون پر…
اتر پردیش کو 4 حصوں میں تقسیم کرنے کے اوم پرکاش راج بھر کے بیان…
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ…