قومی

Congress doesn’t allow its young MPs to speak: ’’سنسد میں کانگریس اپنے نوجوان اراکین پارلیمنٹ کو بولنے نہیں دیتی، ان کا کیریئر ختم ہو رہا ہے‘‘: وزیراعظم نریندر مودی

 

وزیراعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز کانگریس کی داخلی کشمکش پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس میں نوجوان اراکین پارلیمنٹ کو سنسد میں بولنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ شکایت متعدد نوجوان اراکین نے خود ان سے کی ہے۔ ہفتے کے روز سورت میں ایک عوامی خطاب کے دوران وزیراعظم نے کہا، ’’کانگریس کا پورا نوجوان طبقہ، جو پہلی بار پارلیمنٹ آیا ہے، اپنے مستقبل کو لے کر پریشان ہے۔ جب کانگریس اور انڈیا اتحاد کے نوجوان ایم پی ہم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم کیا کریں؟ ہمارا کیریئر ختم ہو رہا ہے۔ ہمیں پارلیمنٹ میں بولنے کا موقع نہیں ملتا۔ ہر بار یہی کہا جاتا ہے کہ پارلیمنٹ کو تالا لگا دو۔‘‘

پارلیمنٹ میں رکاوٹوں اور احتجاج کی سیاست پر گفتگو

وزیراعظم نے مزید کہا ’’ایسے نوجوان ایم پی اپنے حلقوں میں جواب نہیں دے پا رہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب اپنے علاقے کے مسائل پارلیمنٹ میں نہیں اٹھا سکتے تو ہمیں دوبارہ کون موقع دے گا؟ ایسے میں ہماری ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ ہم ترقی کی نئی بلندیوں کو چھوئیں۔‘‘ سی پی آئی (ایم) کے راجیہ سبھا رکن جان بریٹاس نے بھی پارلیمنٹ کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ راہل گاندھی نے انہیں پارلیمنٹ کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے کہا اور بولنے سے روکا تھا۔

راہل گاندھی پر کیرالہ کے مسائل اٹھانے سے روکنے کا الزام

مئی 2025 میں ایک پوڈکاسٹ کے دوران جان بریٹاس نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ’انڈیا‘ اتحاد کی میٹنگوں میں راہل گاندھی سے درخواست کی تھی کہ روزانہ پارلیمنٹ میں ہنگامہ نہ کیا جائے، کیونکہ وہ کیرالہ کے متعلقہ مسائل اٹھانا چاہتے تھے۔ کئی اراکین نے ان کی حمایت بھی کی، لیکن راہل گاندھی نے انکار کر دیا۔ انہوں نے بتایا ’’میں نے ایک میٹنگ میں ان (راہل گاندھی) کے رویے پر تنقید کی۔ میں نے کہا کہ روز پارلیمنٹ روکنا درست نہیں۔ آپ کو کچھ نئے طریقے اپنانے ہوں گے، تخلیقی انداز میں احتجاج کرنا ہوگا۔ انہیں یہ بات کچھ ناگوار گزری اور دیکھیے، وہ سوالیہ وقفہ، زیرو آور، بحث اور ڈبیٹ سب بند کر رہے ہیں۔‘‘

آئندہ اجلاس میں بھی کشیدگی کے امکانات

گزشتہ پارلیمانی اجلاس مکمل طور پر ہنگامہ آرائی میں گزر گیا تھا۔ بہار میں ایس آئی آر کارروائی کے خلاف اپوزیشن جماعتوں نے مانسون سیشن میں لگاتار تعطل پیدا کیا۔ فی الحال 12 ریاستوں میں ایس آئی آر کی کارروائی جاری ہے اور یکم دسمبر سے پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس شروع ہونے والا ہے۔ امکان ہے کہ اس بار بھی پارلیمنٹ میں ایس آئی آر اور مبینہ ووٹ چوری جیسے موضوعات پر شدید ہنگامہ ہوسکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

JNU Students on Indefinite Hunger Strike: جے این یو میں طلبہ کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال، یہ ہیں اہم مطالبات

طلبہ کا الزام ہے کہ بھوک ہڑتال کے دوران JNU کے وائس چانسلر نے چیف…

1 hour ago

Jantar Mantar Protest: جنتر منتر پر اپوزیشن کے احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی سخت، دفعہ 163نافذ

سکیورٹی انتظامات کے تحت جنتر منتر کے آس پاس کے حساس مقامات پر اضافی پولیس…

2 hours ago

Navi Mumbai Airport: نوی ممبئی ایئرپورٹ سے اب سفر ہوگا انتہائی آسان، اڈانی گروپ نے شروع کیں ای-شیوائی بسیں

موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…

12 hours ago