قومی

Congress spokesperson Supriya Shrinate: سپریہ شرینت نے کہا- دہلی اور ملک کے مسلمانوں کے خلاف سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز  پرنفرت انگیز مواد کو فروغ دیا جا رہا ہے، جو نہایت تشویشناک

نئی دہلی: کانگریس کی رہنما سپریہ شرینت نے ملک بھر، خصوصاً دارالحکومت دہلی سمیت مختلف مقامات پر مسلمانوں کے خلاف پھیلائے جا رہے نفرت انگیز اور اشتعال انگیز ویڈیوز کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر کھلے عام گالم گلوچ اور تشدد کے لیے اکسانے والے مواد کو فروغ دیا جا رہا ہے، جو نہایت تشویشناک ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ ان واقعات پر پولیس، انتظامیہ اور عدالتی اداروں کی خاموشی افسوسناک ہے۔ ان کے مطابق ایسے حساس معاملات میں فوری کارروائی نہ ہونا نہ صرف قانون کی عملداری پر سوال اٹھاتا ہے، بلکہ معاشرے میں خوف اور بے چینی کو بھی بڑھاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نفرت انگیزی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

سپریہ شرینت نے خبردار کیا کہ بڑھتی ہوئی مذہبی نفرت ملک کی سماجی ہم آہنگی اور اتحاد کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف برادریوں کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچانا کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے، اور اس طرح کے رجحانات کو جڑ سے ختم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

سپریہ شرینت نے عوام سے اپیل کی کہ وہ نفرت کے خلاف کھل کر آواز اٹھائیں اور ان لوگوں کا ساتھ دیں، جو اس کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ان کے مطابق خاموش رہنا مسئلے کو مزید بڑھا سکتا ہے، اس لیے ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن، بھائی چارے اور رواداری کو فروغ دے۔کانگریس رہنما نے کہا کہ ہندوستان کی پہچان ہمیشہ اس کی گنگا جمنی تہذیب اور کثرت میں وحدت رہی ہے، جسے برقرار رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو نفرت کی سیاست سے بچانے کے لیے سب کو متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔

انہوں نے ‘وسودھیو کٹمبکم’ کے اصول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا ایک خاندان ہے، اور اسی سوچ کے تحت ہمیں ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر معاشرے میں محبت، برداشت اور یکجہتی کو فروغ دیا جائے تو نفرت خود بخود ختم ہو سکتی ہے۔آخر میں سپریہ شرینت نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مل کر ایسے عناصر کے خلاف کھڑے ہوں جو معاشرے میں تقسیم پیدا کر رہے ہیں، تاکہ ملک میں امن و استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔

دہلی کے اتم نگر میں ہولی کے تہوار کے دوران 26 سالہ نوجوان ترون کمار کے قتل کے بعد فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ الزام ہے کہ بعض گروہ اس واقعہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور عید کے موقع پر تشدد کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

سپریہ شرینت نے سوال کیا کہ جب ایسے ہجوم نفرت پھیلاتے ہیں تو پولیس اور عدالتیں خاموش کیوں رہتی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ بے لگام نفرت سماجی ہم آہنگی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Air India Flight Suspension: سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ایئر انڈیا کی سعودی عرب آنے اور جانے والی پروازیں 14 نومبر تک معطل

یہ تازہ ایڈوائزری اس اعلان کے صرف چھ دن بعد سامنے آئی ہے، جس میں…

20 minutes ago

The BJP’s New Balance in UP: یوگی کی زمین، مودی کا آسمان: یوپی میں بی جے پی کا نیا سیاسی توازن

امت شاہ کے لکھنؤ دورے اور ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد 2027 اور…

43 minutes ago

CM Yogi’s leadership in UP: کیا امت شاہ نے یوپی میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت پر مہر لگا دی؟ 2027 اور 2029 کے سیاسی فارمولے کا پورا حساب

لکھنؤ میں بی جے پی کی ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد قیاس آرائیاں…

1 hour ago

Supreme Court on UP SIR: اتر پردیش ایس آئی آر معاملے میں سپریم کورٹ سخت، الیکشن کمیشن کو تحقیقات کی ہدایت

سپریم کورٹ نے اتر پردیش میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کرانے کے لیے بڑی…

1 hour ago