قومی

CMD Upendrra Rai Speech: ’قابل ہی بنیں ڈاکٹر …‘ ممبئی کجری مہوتسو میں سی ایم ڈی اپیندر رائے نے زندگی کے فلسفے اور ریزرویشن پر پیش کی بے باک رائے ، پڑھیں مکمل تقریر

بھارت ایکسپریس نیوز چینل اور بھومیہار جاگرن منچ کے اشتراک   سے  ممبئی کے ملاڈ ایسٹ میں واقع شاردا گیان پیٹھ انٹرنیشنل اسکول میں ’کجری مہوتسو 2026‘ کا شاندار اور باوقار انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر مہمان خصوصی کے طور پر بھارت ایکسپریس کے چیئرمین، مینیجنگ ڈائریکٹر (CMD) اور ایڈیٹر اِن چیف اپیندر رائے نے موجود لوگوں سے خطاب کیا۔اپنے متاثر کن خطاب میں CMD اپیندر رائے نے غازی پور کے اپنے آبائی گاؤں شیرپور سے ممبئی تک کے ابتدائی سفر، جدوجہد کے دنوں، زندگی کے تلخ تجربات، رامائن کے واقعات اور مختلف سماجی مسائل پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

’طبی شعبے میں ریزرویشن نہیں ہونا چاہیے‘

ملک میں ذات پر مبنی ریزرویشن اور قابلیت کے موضوع پر بات کرتے ہوئے اپیندر رائے نے خاص طور پر طبی شعبے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کسی دوسرے شعبے میں ریزرویشن سے اعتراض نہیں ہے، لیکن طب کے شعبے میں انتخاب کا واحد معیار ’قابلیت‘ ہونا چاہیے، کیونکہ یہ براہ راست انسانی زندگی سے جڑا معاملہ ہے۔انہوں نے کہاکہ’’ہمارے ملک میں ذات پات کی بنیاد پر جو ریزرویشن ہے، مجھے کسی دوسرے شعبے میں ریزرویشن سے اعتراض نہیں ہوتا۔ لیکن اگر کوئی ڈاکٹر ہے اور اس کے پاس کامیاب ہونے کے لیے مطلوبہ نمبر بھی نہیں ہیں، پھر بھی کوٹے کی وجہ سے اسے ریزرویشن مل جاتا ہے اور وہ آپ کے گردے، پھیپھڑوں اور ہڈیوں کا علاج کر رہا ہے تو ایسے ڈاکٹروں سے مجھے بہت خوف لگتا ہے۔ کم از کم طب اور ڈاکٹری کے شعبے میں ریزرویشن نہیں ہونا چاہیے۔ یہاں انتخاب کا واحد پیمانہ قابلیت ہی ہونا چاہیے۔‘‘

غازی پور سے ممبئی تک جدوجہد بھرا سفر

خطاب کے دوران اپیندر رائے نے 1999 میں ممبئی پہنچنے کے دن کو یاد کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 6 دسمبر 1999 کو جب وہ ممبئی سینٹرل اسٹیشن پر راجدھانی ایکسپریس سے اترے تو اس شہر میں وہ بالکل اکیلے تھے اور کسی کو نہیں جانتے تھے۔انہوں نے کہاکہ’’میں غازی پور کے شیرپور گاؤں سے آتا ہوں۔ جب 1999 میں ممبئی پہنچا تو ایک صاحب کا نمبر تھا۔ ان سے انکم ٹیکس بھون، میرین لائنز میں ملاقات ہوئی اور وہیں سے میرے سفر کا آغاز ہوا۔ 2003 میں جب اسٹار نیوز میں کام کرتا تھا تو ممبئی میں پہلی مرتبہ ایک فلیٹ دیکھا۔ اس وقت اس فلیٹ کی قیمت 34 لاکھ روپے تھی۔ ہم چار ساتھی گدے بچھا کر نیچے سوتے تھے اور سوچتے تھے کہ کیا کبھی اتنا کما پائیں گے کہ یہ فلیٹ خرید سکیں۔ لیکن ایشور کی ایسی کرپا ہوئی کہ 10 ماہ بعد ہی میں نے وہ گھر خرید لیا۔‘‘

ممبئی کی خوفناک سیلابی رات کا واقعہ

ممبئی میں گزارے مشکل ایام کو یاد کرتے ہوئے اپیندر رائے نے شہر میں آنے والے ایک شدید سیلاب کی رات کا واقعہ بھی سنایا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے سینئر ساتھی شراون کمار اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ ورلی میں ایک ہی کمرے میں پھنس گئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ غازی پور میں گنگا کے کنارے بچپن سے تیرنے کی وجہ سے وہ خود اچھے تیراک تھے۔ اسی لیے انہوں نے سیلاب کے دوران اپنے ساتھیوں اور ان کے اہل خانہ کو محفوظ مقامات تک پہنچایا۔ پوری رات کے بعد جب وہ بحفاظت اپنے گھر پہنچے تو ان کی اہلیہ ان سے لپٹ کر رونے لگی تھیں۔انہوں نے کہا کہ ممبئی میں بم دھماکوں اور خوف کا ماحول بھی دیکھا، لیکن ہمت نہیں ہاری اور اسی لوکل ٹرین سے دفتر جانے کا سلسلہ جاری رکھا۔

’دنیا خراب نہیں ہوئی، یہ سب سے خوبصورت جگہ ہے‘

آج کے دور میں سماج میں آنے والی تبدیلیوں پر بات کرتے ہوئے اپیندر رائے نے کہا کہ لوگ اکثر کہتے ہیں کہ دنیا خراب ہوگئی ہے، لیکن ان کی رائے اس کے بالکل برعکس ہے۔ ان کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ دنیا مزید بہتر اور انسان دوست ہوتی جا رہی ہے۔

رامائن کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا:

’’برے لوگ اور دھوکے باز رام راج کے دور میں بھی موجود تھے۔ جب وشوامتر جی 14-15 سال کے رام اور لکشمن کو اپنے ساتھ جنگلوں میں راکشسوں کے خاتمے کے لیے لے جا رہے تھے تو راجا دشرتھ نے خوفزدہ ہوکر پوچھا تھا کہ آپ اتنے علم والے ہونے کے باوجود دو بچوں کو کیوں لے جا رہے ہیں؟ تب وشوامتر نے کہا تھا کہ راکشسوں کے خاتمے کے لیے اب انہیں بوڑھے جسم کے بجائے جوان خون، جوانی اور نئی توانائی کی ضرورت ہے۔ آج دوسری عالمی جنگ کے بعد کوئی بڑا قتل عام نہیں ہوا، کیونکہ انسانیت پہلے سے زیادہ حساس ہوئی ہے۔‘‘

اسکول کی پرارتھنا اور ملک و سماج کے تئیں فرض

اپنے خطاب کے آخری مرحلے میں CMD اپیندر رائے نے اپنے اسکول ’نرالا ودیا مندر‘ کی پرارتھنا کا ذکر کرتے ہوئے سماج اور ملک کے تئیں وفاداری اور فرض کا پیغام دیا۔

انہوں نے پرارتھنا کی آخری سطریں دہرائیں:

’’وہ شکتی ہمیں دو دیانیدھے، کرتویہ مارگ پر ڈٹ جاویں… جس دیش جات میں جنم لیا، بلی دان اسی پر ہو جاوے۔‘‘

انہوں نے وضاحت کی کہ سماج کی سب سے چھوٹی اکائی خاندان اور ذات ہے، جبکہ سب سے اعلیٰ اکائی ملک ہے۔ ان کے مطابق جو شخص اپنے خاندان کا نہیں ہوسکتا، وہ کسی اور کا بھی نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح ہر فرد کو چھوٹی اکائی سے لے کر ملک تک اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کرنے چاہئیں۔آخر میں CMD اپیندر رائے نے بھومیہار جاگرن منچ کے منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور سماج و ملک کی فلاح کے لیے ہمیشہ تیار رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Eat Biryani Only from Hindu Shop: بریانی ہندوؤں کی دکانوں سے ہی کھائیں، درگا پوجا سے پہلے مغربی بنگال میں پوسٹر تنازع

’ٹائمز آف انڈیا‘ کی رپورٹ کے مطابق، ترنمول کانگریس کے ترجمان اور بیلی گھاٹا کے…

22 minutes ago

Delhi High Court: احتجاجی مظاہروں سے کاروبار کو 2000 کروڑ روپے کا نقصان، تاجروں نے کھٹکھٹایا دہلی ہائی کورٹ کا دروازہ

پیر کو قائم مقام چیف جسٹس نتن سامبرے نے دو عرضیوں کو سماعت کے لیے…

58 minutes ago