قومی

CJP Saurav Das Meets JP Nadda: جے پی نڈا سے ملاقات کے بعد سی جے پی کے سوربھ داس نے کیا دعویٰ، کہا- ’’وزیرنے ہمیں دلایا بھروسہ…‘‘

نئی دہلی: جنترمنترسے لے کرپارلیمنٹ تک زبردست احتجاج اورپولیس کی لاٹھی چارج کے بعد مرکزی وزیرجے پی نڈا سے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے لیڈران کی ملاقات ہوئی۔ سی جے پی کے سوربھ داس نے کہا کہ وزیرنے ہمیں بھروسہ دلایا ہے کہ وہ اس معاملے پرمناسب سطح پر بات چیت کریں گے۔ حالانکہ ابھی تک کوئی یقینی وعدہ نہیں کیا گیا ہے۔ پُرامن مظاہرین جب تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں کر لئے جاتے۔

سی جے پی کے سوربھ داس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرلکھا، ’’آشوتوش رانکا اورمیں دوپہر 12 بجے مرکزی وزیر جے پی نڈا کے گھرپرہیں۔ ہم نے اپنے مطالبات ان کے سامنے رکھ دی ہیں، جن میں دھرمیندر پردھان کو فوراً استعفیٰ یا انہیں عہدے سے ہٹانا شامل ہے۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ مرکزی وزیرنے ہمیں یقین دہانی کرائی ہے۔ حالانکہ ابھی تک کوئی یقینی وعدہ نہیں کیا گیا۔ جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کرلئے جاتے، جب تک مظاہرین سکون سے نہیں بیٹھیں گے۔

ملاقات کے بعد سوربھ داس نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے آگے بات چیت جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پربتایا کہ تقریباً 2 گھنٹے انتظارکے بعد انہیں نڈا سے 10 منٹ ملاقات کا موقع ملا. انہوں نے اپنی تمام مطالبات تحریری طورپرمرکزی وزیرکوسونپ دیئے۔ اس کے بعد سوربھ داس نے یہ بھی الزام لگایا کہ پولیس نے پارٹی لیڈرابھیجیت دیپکے کوحراست میں لے لیا ہے اورپُرامن مظاہرین کے ساتھ سختی برتی جا رہی ہے۔ حالانکہ کچھ دیرکے بعد سی جے پی نے اپڈیٹ دیا کہ ابھیجیت دیپکے حراست میں نہیں ہیں۔

جنترمنترسے لے کرپارلیمنٹ تک گہما گہمی کا ماحول

دہلی میں جنترمنترسے لے کرپارلیمنٹ تک کافی گہما گہمی کا ماحول ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے کارکنان اوراسٹوڈنٹس نے آج جنترمنترسے پارلیمنٹ تک مارچ کیا۔ اس دوران مظاہرین اورپولیس کے درمیان دھکا مکی اورنوک جھونک بھی ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس دوران پولیس نے مظاہرین پرلاٹھی چارج کردیا، جس کے بعد حالات کافی خراب ہوگئے۔ سی جے پی کے کارکنان اوراسٹوڈنٹس پیچھے ہٹنے کے لئے تیارنہیں ہیں۔ وہیں پولیس انہیں روکنے کے لئے طاقت کا استعمال کررہی ہے۔ پارلیمنٹ کے باہرسکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں اورہزاروں کی تعداد میں پولیس اہلکارتعینات کئے گئے ہیں۔ پولیس کی لاٹھی چارج کے بعد سماجوادی پارٹی کے کئی لیڈران اوراراکین پارلیمنٹ بھی طلبا کی حمایت میں آگئے ہیں۔ وہیں راہل گاندھی اوراکھلیش یادوکے درمیان بھی اس پورے معاملے پربات ہوئی ہے۔ کانگریس، سماجوادی پارٹی، ٹی ایم سی، آرجے ڈی سمیت کچھ دیگرپارٹیاں سی جے پی کارکنان اور اسٹوڈنٹس کے ساتھ کھڑی نظرآرہی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Bihar Politics: موکاما کے ’چھوٹے سرکار‘ اننت سنگھ کی رکنیت پر خطرہ، 7 دن میں جواب دینے کا نوٹس

پارٹی مخالف سرگرمیوں اور ایم ایل سی انتخابات میں باغیانہ رویہ اختیار کرنے کے الزامات…

1 hour ago

Ramdas Athawale Slams Rahul Gandhi: وزیر مملکت رام داس اٹھاولے نے راہل گاندھی کو بتایا وزیر اعظم مودی کو اقتدار سے ہٹانے کا راستہ

مرکزی وزیر مملکت رام داس اٹھاولے نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور انڈیا اتحاد پر…

3 hours ago