چینی وزیر خارجہ وانگ یی، ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹیو جان لی، پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سوئس وزیر خارجہ اگنازیو کیسس سمیت شرکا کی انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار ثالثی (IOMed) کے قیام سے متعلق کنونشن پر دستخط کی تقریب کے بعد کی تصویر۔
چین نے جمعہ کے روز باضابطہ طور پر ایک نیا بین الاقوامی تنازعات کے حل کا ادارہ قائم کیا ہے، جسے بین الاقوامی تنظیم برائے ثالثی Internationa Organisation for Mediation (IOMed) کا نام دیا ہے۔ یہ ادارہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (ICJ) اور پرمانینٹ کورٹ آف آربیٹریشن جیسے روایتی اداروں کے عالمی متبادل کے طور پر قائم کیا گیا ہے۔
چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے IOMed کو ’’ثالثی کے ذریعے بین الاقوامی تنازعات کو حل کرنے کے لیے وقف دنیا کی پہلی بین الحکومتی بین الاقوامی قانونی تنظیم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ’’ثالثی پر مبنی تنازعات کے حل پر مرکوز میکانزم کے ایک اہم خلا کو پُر کرے گا۔‘‘ خبر کے مطابق اس تنظیم کا دفتر ہانگ کانگ ہوگا۔
صرف ثالثی پر مبنی حل پیش کرے گا یہ ادارہ
اس ادارے کے قیام کے لیے ہانگ کانگ میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی معاہدے پر دستخط کی تقریب میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے بین الاقوامی تنظیم برائے ثالثی (IOMed) کے قیام کے کنونشن کی باضابطہ منظوری کی صدارت کی۔ اس کے بانی ممبران کے طور پر انڈونیشیا، پاکستان، بیلاروس، کیوبا اور کمبوڈیا سمیت 30 سے زائد ممالک نے اس تقریب میں شرکت کی۔ اس کے علاوہ تقریباً 50 ممالک اور اقوام متحدہ سمیت 20 بین الاقوامی تنظیموں کے مندوبین بھی تقریب میں موجود تھے۔
چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق ہانگ کانگ میں ہیڈ کوارٹر رکھنے والی IOMed پہلی بین حکومتی بین الاقوامی قانونی تنظیم ہے جو بین الاقوامی تنازعات کو صرف ثالثی کے ذریعے حل کرنے کے لیے وقف ہے۔ اس کا مقصد ریاستوں کے درمیان تنازعات، ریاست اور دوسرے ملک کے شہریوں کے درمیان تنازعات اور بین الاقوامی تجارتی اختلافات کو سنبھالنا ہے، جو ثالثی کے لیے زیادہ لچک دار متبادل پیش کرتا ہے۔
اس دوران چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے تصادم کے بجائے مذاکرات اور اتفاق رائے سے بین الاقوامی مسائل کے حل کے لیے چین کے دیرینہ عزم پر زور دیتے ہوئے کہا ’’بین الاقوامی تنظیم برائے ثالثی کا قیام ’آپ ہارے، میں جیتا‘ کی ذہنیت سے آگے بڑھنے میں مدد کرتا ہے اور چینی سفارتی اقدار اور تنازعات کے زیادہ ہم آہنگ حل کے لیے عالمی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔‘‘
گلوبل ساؤتھ میں چین کے اثر و رسوخ میں اضافہ کرے گا IOMed
مغرب کے ساتھ چین کے کشیدہ تعلقات کے درمیان بہت سے ترقی پذیر ممالک کی جانب سے اس کی حمایت کے ساتھ، یہ اقدام گلوبل ساؤتھ میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ میں اضافہ کرتا ہے۔ چین نے ہانگ کانگ کی بین الاقوامی حیثیت کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے بھی اس اقدام سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ تاہم ابھی IOMed کی بہت سی آپریشنل تفصیلات ابھی غیر واضح ہیں۔ حالاں کہ اس کی غیرجانبداری اور شفافیت پر بھی سوالات برقرار ہیں، لیکن بیجنگ کا اصرار ہے کہ یہ نیا ادارہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی پاسداری کرے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو
امریکی سفارت خانے نے کہا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے سعودی عرب…
وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پائل مہتا کے انتقال پر…
اس پہل کا آغاز اس مقصد سے کیا گیا کہ پی او پی سے بنی…
وائرل ویڈیو میں خاتون سیٹی گنڈکی ندی پر بنے ایک پل پر کھڑی نظر آ…
گنیش مورتیوں کے وسرجن پر سختی کی ایک بڑی وجہ ان کی تیاری اور سجاوٹ…
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی شہری نے بتایا…