ریاست چھتیس گڑھ کے بلرام پور ضلع میں پولیس نے مویشی اسمگلنگ کے ایک بڑے اور منظم نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے چار ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے کارروائی کے دوران دو پک اَپ گاڑیاں اور ایک لگژری کار بھی ضبط کی ہے، جبکہ اس پورے سنڈیکیٹ سے جڑے ڈیجیٹل نیٹ ورک اور مالی لین دین کے شواہد بھی حاصل کر لیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید گرفتاریاں بھی ممکن ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ منظم گروہ طویل عرصے سے علاقے میں سرگرم تھا اور مویشیوں کی غیر قانونی اسمگلنگ کو منظم انداز میں انجام دے رہا تھا۔ اطلاع ملنے پر پولیس نے خصوصی حکمت عملی کے تحت کارروائی کرتے ہوئے اس نیٹ ورک کو بے نقاب کیا۔ ابتدائی جانچ میں معلوم ہوا ہے کہ گروہ ریاستی سرحدوں کے ذریعے مویشیوں کو غیر قانونی طور پر دوسرے علاقوں میں منتقل کرنے میں ملوث تھا۔
پولیس کو کافی عرصے سے اطلاع مل رہی تھی کہ رگھوناتھ نگر اور بلنگی چوکی کا علاقہ مویشی اسمگلنگ کے لیے محفوظ راہداری کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ قابل اعتماد مخبر سے اطلاع ملنے کے بعد ایس ڈی او پی وڈرف نگر کی قیادت میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔ ٹیم نے دیر رات علاقے میں خفیہ نگرانی کے بعد حکمت عملی کے تحت ناکہ بندی کی۔ کارروائی کے دوران مشتبہ گاڑیوں کو رکنے کا اشارہ دیا گیا تو اسمگلروں نے فرار ہونے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے گاڑیوں کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، لیکن پولیس نے موقع سے ایک اہم ملزم کو گرفتار کر لیا۔ بعد ازاں پوچھ گچھ کے دوران دیگر ملزمان تک بھی پولیس کی رسائی ہو گئی۔
پولیس نے کارروائی کے دوران دو پک اَپ گاڑیوں کے ساتھ ایک لگژری ماروتی سوزوکی گرینڈ وٹارا کار بھی ضبط کی ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ لگژری کار کا استعمال اسمگلنگ میں شامل گاڑیوں کو پائلٹ کرنے اور پولیس کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے کیا جا رہا تھا۔ ضبط شدہ پک اَپ گاڑیوں میں سات سات مویشیوں کو بے دردی سے بھرا گیا تھا، جنہیں غیر قانونی طور پر ریاست سے باہر لے جانے کی تیاری تھی۔ پولیس کے مطابق ضبط شدہ گاڑیوں اور مویشیوں کی مجموعی مالیت لاکھوں روپے بتائی جا رہی ہے۔ اس کارروائی کے بعد پولیس نے گرفتار ملزمان سے سخت پوچھ گچھ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں مزید افراد کے نام سامنے آئے ہیں۔ گرفتار ہونے والوں میں جتیندر جیسوال، مانک چند سونوانی، دیپک سونوانی اور دیومتی سونوانی شامل ہیں۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق مرکزی ملزم جتیندر جیسوال پہلے بھی مویشی اسمگلنگ کے کئی مقدمات میں ملوث رہ چکا ہے اور اس سے قبل بھی گرفتار ہو کر جیل جا چکا ہے۔
پولیس نے ملزمان کے خلاف مویشیوں کے ساتھ ظلم و ستم سے متعلق قوانین اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تمام گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں مزید تحقیقات جاری ہیں اور فرار ملزمان کی تلاش تیز کر دی گئی ہے۔ تحقیقات کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ یہ گروہ جدید ڈیجیٹل ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے اپنا نیٹ ورک چلا رہا تھا۔ مویشیوں کی خرید و فروخت، نقل و حمل اور ادائیگیوں کا پورا نظام آن لائن پلیٹ فارمز اور واٹس ایپ گروپس کے ذریعے چلایا جا رہا تھا۔ پولیس نے ملزمان کے موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل آلات ضبط کر لیے ہیں، جن کی جانچ جاری ہے۔ پولیس حکام کے مطابق اس نیٹ ورک سے جڑے بینک کھاتوں اور کال ریکارڈز کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے تاکہ سنڈیکیٹ کے تمام ارکان تک پہنچا جا سکے۔ افسران نے واضح کیا کہ اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہر فرد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور ایسے جرائم کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص رہا۔ اس خاص…
سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…
سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…
17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک ’سیوا سنکلپ ابھیان‘، وارانسی سے وڈ نگر اور وڈ…
بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…
شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…