قومی

ستاروں کا تعاقب

چاروی اروڑا

خلائی انجینئر عائشہ بو کے لیے آسمان   کی حیثیت حدفاصل کی نہیں ہے ۔ وہ تو یہ سمجھتی ہیں کہ اگر ستاروں پر کمند ڈالی جاسکتی ہے تو خود کو آسمان ہی تک محددود کیوں رکھا جائے۔

 انہوں نے اپنے تعلیمی سفر کا آغاز ایک کمیونٹی کالج سے کیا اور ایئرو اسپیس اور اسپیس سسٹم انجنیئرنگ میں ڈگریاں حاصل کیں۔ وہ ٹیکنالوجی کمپنی ’اسٹیم بورڈ‘  اور تعلیم کے شعبہ میں سرگرم کمپنی’لِنگو  ‘کی بانی اور سی ای او ہیں۔ بو عسکری تکنالوجی کے ساتھ ساتھ اسٹیم (سائنس، ٹیکنالوجی ، انجینئرنگ  اور ریاضی) شعبہ جات کی ماہرہ بھی  ہیں۔اسٹیم تعلیم اور ٹیکنالوجی کاروباری پیشہ وری میں بو کا کام آئندہ نسلوں کو اہم مہارتوں سے مزین کرنے میں مدد کرنے کے ساتھ امریکہ کی جدت طرازی سے متعلق معیشت کو بھی مستحکم کرنا ہے۔

’نیو شیپرڈ‘ پر ’بلیو اوریجن ‘کے ساتھ پرواز کرنے کی تصدیق کے بعد بو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ خلائی سرحد، کارمین لائن کو عبور کرنے والی ساتویں افریقی نژاد امریکی خاتون کے اعزاز سے سرفراز ہونے والی ہیں۔ واضح رہے کہ  امریکی  کمپنی ’بلو اوریجن‘ نے 25 فروری 2025کو  خلائی سیاحت کو فروغ دینے کی غرض سے  6سیاحوں کو ذیلی خلا کے سفر پر بھیجا۔ ’بلو اوریجن‘ کو جیف بیزوس نے سنہ 2000 میں قائم کیا اور کمپنی  کی حیثیت خلائی شعبہ میں ایک اہم کھلاڑی کی ہے۔ کمپنی نے ’نیو شیپرڈ ‘ نامی مکمل طور پر دوبارہ قابل ِ استعمال کی جاسکنے والی اور ذیلی مدار تک لے جاسکنے والی ایسی گاڑی تیار کی ہے جو خلائی سیاحت کے مد نظر بنائی گئی ہے۔

بونے 2024 میں امریکی محکمہ خارجہ کے اسپیکر پروگرام  کے تحت چنئی، دہلی، کولکاتہ اور ممبئی کا دورہ کیا۔ ان دوروں میں انہوں نے طلبہ اور پیشہ ور افراد کے ساتھ اپنے سفر اوراسٹیم  کے لیے اپنے  جوش و جذبے کا اشتراک کیا۔ خلائی شعبے میں ان کی کامیابیوں اور زندگی میں آگے بڑھنے کی ان کی کوششوں نے خلائی تحقیق اور تکنیکی پیش رفت میں امریکی قیادت کو اجاگر کیا ہے جس سے ملک کی عالمی مسابقتی صلاحیت اور سلامتی کو تقویت ملی ہے۔   پیش ہیں ان سے لیے گئے انٹرویو کے بعض اقتباسات۔

اسٹیم بورڈ اورلِنگو کے آغاز کے پس پردہ مقاصد کی وضاحت کریں؟ آپ کو ان کمپنیوں کو شروع کرنے کی ترغیب کیسے ملی؟

میں نے اپنی کمپنیاں ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے قائم کیں جن کا مجھے بچپن میں سامنا کرنا پڑا۔ ’اسٹیم بورڈ ‘کی ترغیب اسٹیم شعبہ جات  میں اپنی صلاحیت کو ابتدائی طور پر دریافت نہ کرپانے کے میرے تجربے سے ملی۔

میرے خیال میں خود شناسی کےبنا اور دنیا کے وسیع مواقع سے واقفیت کے بغیر کریئرکے انتخاب  کا دباؤ سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک ہے۔میں ایک ایسی زندگی گزارنا چاہتی تھی جو ان توقعات کی نفی کرے۔  چنانچہ استقامت کے ساتھ میں نے ایئرو اسپیس انجنیئرنگ میں انڈرگریجویٹ ڈگری حاصل کی، اسپیس سسٹم انجنیئرنگ میں ماسٹر کی ڈگری لی اور ناسا میں کام کرنے کے اپنے خواب کی تکمیل کی۔ ’اسٹیم بورڈ ‘کے قیام سے لے کر دوسری کمپنی شروع کرنے تک،  مجھے اپنا ہر قدم اس وقت تک ایک دشوار گزار پیش رفت معلوم ہوتا تھا جب تک میں نے اس پر عمل کرنے کا انتخاب نہیں کرلیا۔

سر دست آپ کے خیال میں دلچسپ ترین ٹیکنالوجیاں کیا ہیں اور آپ ان کو  کس طرح مستقبل تشکیل دیتے ہوئے دیکھتی ہیں؟

جب میں نے 11 سال پہلے ’اسٹیم بورڈ ‘ کی بنیاد رکھی تو یہ ڈیٹا سائنس، ڈیٹا اینالیٹکس اور جنریٹو اے آئی (مصنوعی ذہانت) جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر مرکوز ایک انجینئرنگ کمپنی تھی۔ یہ شعبے صنعتوں کو تشکیل  تو دے رہے ہیں مگر پھر بھی  ان تک بہت سارے لوگوں، خاص کر مڈل اور ہائی اسکول کے طلبہ  کی رسائی نہیں ہے۔

دستیاب تعلیم اور صنعتوں کو درکار مہارتوں کے درمیان خلا  کو تسلیم کرتے ہوئے  ہم نے اس بات کا عزم کیا ہے کہ سیکھنے والوں کے لیے ان تکنیکوں کو ہر جگہ دستیاب کروایا جائے، خواہ اسکولوں میں وسائل کی دستیابی کی صورت حال کچھ بھی ہو۔ ہمارییہی عزم لِنگو یعنی ایک ایسے کاروبار کے قیام کی بنیاد بن گیا جو ڈیٹا سائنس، اینالیٹکس اورمصنوعی ذہانت جیسے موضوعات کا احاطہ کرنے والے خود رفتار کِٹس پر مبنی ہے۔ جیسے جیسے معاشرہ تیزی سے ڈیجیٹل ہوتا جا رہا ہے، یہ مہارتیں اس شعبے کو اور بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

اپنے مجوزہ خلائی سفر کے بارے میں آپ سب سے زیادہ پرجوش کس تعلق سے ہیں؟ آپ کے خیال میں آنے والے برسوں میں کاروباری خلائی سفر کی سمت و رفتار کیا ہوگی؟

میں واقعی ان لوگوں کو متاثر کرنے کے بارے میں پرجوش ہوں جو اسے دیکھ کر سوچتے ہیں’’میں بھی اس کا حصہ بننا چاہتی ہوں!‘‘ خواہ وہ نئی ٹیکنالوجیز تیار کرکے ہو یا پھرمریخ پرجانے والا پہلا انسان بن کر۔

کاروباری خلائی پروازنمایاں طور پرترقی کر رہی ہے۔ ہم لوگوں نے محض’ کارمین لائن ‘کو عبور کرنے سے لے کر ناسا کے’ اسپیس ایکس کمرشل کریو پروگرام ‘ جیسے مشنوں تک ترقی کی ہے، جو اب انسانوں کو مدار میں اور بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر بھیجنے کا کام انجام دیتا ہے۔

یہ پیش رفتیں صرف نئی سرحدوں تک پہنچنے کے بارے میں نہیں ہیں بلکہ یہ کائنات کے بعض  ناموافق ترین ماحول میں انسانی بقا ءکے لیے ضروری ٹیکنالوجیز تیار کرنے کے بارے میں بھی ہیں۔ خلا میں پودے اگانے جیسی اختراعات،  دور رس اورتبدیلی آمیز اطلاقات کی  حامل ہوں گی۔

آنے والے برسوں میں آپ اسٹیم شعبہ جات  میں امریکہ۔ہند  تعاون کو کیسے ترقی کرتے ہوئے دیکھتی ہیں؟

ہمیں بہت زیادہ امکانات کی امید ہے۔ بہت سارے ذہین ہند نژاد سی ای او بڑی  امریکی تکنیکی کمپنیوں کی قیادت کر رہے ہیں ، لہذا عالمی تکنیکی منظر نامے میں ہندوستانی  رہنماؤں کا تعاون قابل ذکر ہے۔

ہندوستان کوانٹم کمپیوٹنگ اورمصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں ترقی کو آگے بڑھانے والے سرکردہ تحقیقی اداروں کا مسکن بھی ہے۔ جب ہندوستان  اور امریکہ تعاون کے لیے ساتھ آتے ہیں تو امکانات واقعی لامحدود ہوجاتے ہیں۔ ان کی مہارت، جدت اور مشترکہ تصور کے درمیان ہم آہنگیایک ایسا ماحول پیدا کرتی ہے جہاں انقلابی پیش رفت نہ صرف ممکن ہے بلکہ ناگزیر ہے۔

اسٹیم  شعبہ جات میں خواہشمند کاروباری افراد کو آپ کیا مشورہ دیں گی؟

ہم تاریخ کے ایک منفرد موڑ پر ہیں جہاں ڈیجیٹل حل عالمی معیشت تک بے مثال رسائی فراہم کرتے ہیں۔ یہ خواہشمند کاروباری افراد کے لیے ناقابل یقین مواقع پیدا کرنے کا سبب بھی بنتے ہیں ۔

میری توجہ لوگوں کو چھوٹے پیمانے پر  کاروبار شروع کرنے اور اسے بڑے پیمانے پر ترقی دینے کے لیے بااختیار بنانے پر ہے۔جو کمپنی میں نے 11 سال پہلے قائم کی تھی وہ دراصل میرا تیسرا کاروبار تھا جس کی میں نے کوشش کی تھی۔ میں  کاروباری پیشہ وری کو ایک مہارت کے طور پر دیکھتی ہوں، ایک ایسی مہارت جو مشق کے ساتھ فروغ پاتی ہے۔ آپ جتنا زیادہ اس کی مشق کریں گے، آپ ایک کاروباری رہنما کے طور پر اتنے ہی ماہر اور پراعتماد بنیں گے۔ مقصد فوری کامیابی نہیں بلکہ صرف شروعات ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ آپ وہ تجربات حاصل کریں گے جو آپ کی مطلوبہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہیں۔

بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی

Bharat Express

Recent Posts

Iran shoots down US military drone: ایران کا بڑا دعویٰ، 24 گھنٹے میں آبنائے ہرمز میں 3 امریکی ڈرون مار گرائے

ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…

28 minutes ago

Sepehran Airlines Boeing 737: اڑان کے بعد طیارے کا ٹائر ہوا ٹائر ہوا الگ، مسافروں میں خوف و ہراس

شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…

1 hour ago

Mecca Drone Attack: مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہوا حوثی ڈرون، باغیوں نے مکہ پر حملے سے کیا انکار

یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…

2 hours ago

Delhi Weather Today: دہلی-این سی آر میں آج بونداباندی کے امکانات، جانئے محکمہ موسمیات کا تازہ اپ ڈیٹ

آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…

2 hours ago