نئی دہلی: راجیہ سبھا سے سبکدوش ہونے والے اور حال ہی میں ریٹائر ہونے والے اراکین پارلیمنٹ کے اعزاز میں ایک الوداعی تقریب منعقد ہوئی، جس میں سی پی رادھا کرشنن اور وزیر اعظم نریندر مودی نے شرکت کی۔ اس موقع پر لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا، متعدد مرکزی وزراء اور دیگر اراکین پارلیمنٹ بھی موجود تھے۔واضح رہے کہ اس سال اپریل سے جولائی کے درمیان راجیہ سبھا کے کل 59 اراکین اپنی مدت مکمل ہونے پر سبکدوش ہو رہے ہیں، جن میں 9 خواتین اراکین بھی شامل ہیں اور یہ اراکین ملک کی 20 ریاستوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔چیئرمین راجیہ سبھا سی پی رادھا کرشنن نے ایوان میں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ہم آج اپنے معزز ساتھیوں کو رخصت کر رہے ہیں، جنہوں نے اپنی خدمات کے ذریعے ایوان کی کارروائی کو مضبوط بنایا۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق ہر دو سال بعد ایوان کے ایک تہائی اراکین سبکدوش ہوتے ہیں، جس سے ایوان میں تسلسل بھی برقرار رہتا ہے اور نئے اراکین کو شامل ہونے کا موقع بھی ملتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ نظام نہ صرف جمہوری عمل کو مستحکم کرتا ہے، بلکہ نئے خیالات اور تجربات کو ایوان میں لانے کا ذریعہ بھی بنتا ہے، جس سے یہ ادارہ ملک کے تنوع کی حقیقی عکاسی کرتا ہے۔
چیئرمین نے سبکدوش ہونے والے اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ریٹائرمنٹ کو اختتام نہیں بلکہ نئی ذمہ داریوں کے آغاز کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نئے اراکین تازہ توانائی اور نئے خیالات کے ساتھ اس ادارے کی روایت کو آگے بڑھائیں گے، جبکہ سبکدوش ہونے والے اراکین کا تجربہ آنے والی نسلوں کی رہنمائی کرتا رہے گا۔انہوں نے سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑاکا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موجودگی نے ایوان کے وقار میں اضافہ کیا۔ کسانوں اور دیہی معاشرے کے لیے ان کی وابستگی اور طویل سیاسی تجربہ ایوان کی بحثوں میں اہم نقطہ نظر فراہم کرتا رہا ہے۔اسی طرح اپوزیشن لیڈر ملکا رجن کھرگے کی قیادت اور تجربے کو بھی سراہا گیا۔ چیئرمین نے کہا کہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں میں ان کا طویل پارلیمانی سفر جمہوریت کی مضبوط آواز رہا ہے۔
چیئرمین نے نائب چیئرمین ہری ونش جی کا بھی خصوصی ذکر کیا، جن کی مدت 9 اپریل 2026 کو مکمل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہری ونش نے ایوان کی کارروائی کو وقار، غیر جانبداری اور ذمہ داری کے ساتھ چلایا اور اپنی صحافتی و عوامی خدمات کے تجربے کو ایوان کے فائدے کے لیے استعمال کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہری ونش کی قیادت میں ایوان کو صبر، توازن اور دانشمندی کے ساتھ چلایا گیا، جس کے باعث تمام جماعتوں کے اراکین کا اعتماد حاصل ہوا۔ انہوں نے بین الاقوامی اور قومی پارلیمانی فورمز میں بھی اہم کردار ادا کیا، جن میں انٹر پارلیمانی یونین، کامن ویلتھ پارلیمانی ایسوسی ایشن، برکس پارلیمانی فورم اور پی-20 اسپیکرز سمٹ شامل ہیں۔آخر میں چیئرمین نے نائب چیئرمین کے پینل کے سبکدوش ہونے والے اراکین کی بھی تعریف کی اور کہا کہ انہوں نے ایوان کی کارروائی کو مؤثر انداز میں چلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام اراکین کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور ملک کی ترقی میں ان کا کردار قابلِ قدر ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…