قومی

Centre Seeks States’: گھریلو کچن میں ایل پی جی سے پی این جی منتقلی تیز کرنے کے لیے مرکز نے ریاستوں سے مانگا تعاون

مرکزی حکومت نے گھریلو کچن میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) سے پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) کی طرف منتقلی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ریاستی حکومتوں سے تعاون مانگا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ گھروں تک پائپ کے ذریعے قدرتی گیس کی فراہمی بڑھانے سے صاف ایندھن کے استعمال کو فروغ ملے گا اور شہری علاقوں میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط کیا جا سکے گا۔

ایل پی جی کے متبادل کے طور پر پی این جی

پی این جی کو گھریلو صارفین کے لیے قدرتی گیس کی ایک اہم شکل سمجھا جاتا ہے۔ اس میں گیس براہِ راست پائپ لائن کے ذریعے گھروں تک پہنچائی جاتی ہے، جن سے صارفین کو سلنڈر کی بکنگ، ترسیل اور ذخیرہ کرنے کی ضرورت کم ہو جاتی ہے۔ مرکز کا زور ایسے علاقوں میں پی این جی نیٹ ورک کی توسیع پر ہے جہاں پائپ لائن کے ذریعے گیس کی فراہمی کے لیے بنیادی ڈھانچہ دستیاب ہے یا اسے تیزی سے تیار کیا جا سکتا ہے۔

ریاستوں کا تعاون کیوں ضروری؟

مرکزی حکومت کے مطابق پی این جی نیٹ ورک کی توسیع میں ریاستی حکومتوں کا تعاون انتہائی اہم ہے۔ پائپ لائن بچھانے، سڑکوں کی کھدائی، مقامی اجازت ناموں اور دیگر انتظامی امور کے لیے ریاستی اداروں کے ساتھ مؤثر تال میل ضروری ہوتا ہے۔ریاستوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ضروری منظوریوں کے عمل کو آسان اور تیز بنائیں تاکہ گیس تقسیم کرنے والی کمپنیوں کو بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے میں غیر ضروری تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

صاف توانائی کے استعمال پر زور

گھریلو سطح پر پی این جی کے استعمال کو بڑھانا حکومت کی صاف اور نسبتاً کم آلودگی والے ایندھن کے استعمال کو فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ قدرتی گیس کوئلے اور بعض دیگر روایتی ایندھن کے مقابلے میں کم اخراج والا ایندھن سمجھا جاتا ہے۔مرکز کا خیال ہے کہ زیادہ سے زیادہ گھروں کو پائپڈ گیس نیٹ ورک سے جوڑنے سے شہری علاقوں میں توانائی کی فراہمی کے نظام کو مزید منظم اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

صارفین کے لیے کیا بدلے گا؟

اگر ایل پی جی سے پی این جی منتقلی کا عمل تیز ہوتا ہے تو ان علاقوں کے گھریلو صارفین کو براہِ راست پائپ لائن کے ذریعے گیس دستیاب ہو سکے گی جہاں یہ سہولت فراہم کی جائے گی۔ اس سے سلنڈر پر انحصار کم ہونے کے ساتھ گیس کی مسلسل فراہمی کی سہولت بھی حاصل ہو سکتی ہے۔مرکزی حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس مقصد کے حصول کے لیے مرکز، ریاستی حکومتوں اور گیس تقسیم کرنے والی کمپنیوں کے درمیان بہتر تال میل ضروری ہے۔ اسی تعاون کے ذریعے ملک میں پی این جی نیٹ ورک کو تیزی سے وسعت دینے اور زیادہ سے زیادہ گھروں تک صاف ایندھن پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Navi Mumbai Airport: نوی ممبئی ایئرپورٹ سے اب سفر ہوگا انتہائی آسان، اڈانی گروپ نے شروع کیں ای-شیوائی بسیں

موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…

9 hours ago

British Airways Emergency: برٹش ایئرویز کی پرواز میں اچانک ایمرجنسی، 37 ہزار سے 9 ہزار فٹ تک نیچے آیا بوئنگ 777، لندن ڈائیورٹ

لندن ہیتھرو سے شکاگو جا رہی برٹش ایئرویز کی BA295 پرواز نے آئرلینڈ کے اوپر…

9 hours ago

Lucknow Floods: لکھنؤ میں سیلاب کا مستقل حل، فیض اللہ گنج سے نیمیش تک گرین کوریڈور کی طرز پر بنے گا پشتہ، سی ایم یوگی نے کیا بڑا اعلان

گومتی میں بڑھتی آبی سطح اور حالیہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر وزیر اعلیٰ یوگی…

10 hours ago

EC Fact-Checks Rahul Gandhi’s Claim: راہل گاندھی کے الزام پر الیکشن کمیشن کا فیکٹ چیک، فارم-6 میں تبدیلی کے دعوے کو بتایا گمراہ کن، جانیں کیا کہا؟

راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر فارم-6 میں غیر قانونی اور یکطرفہ…

10 hours ago