قومی

CBSE Board Exam 2026 Guidelines: سی بی ایس ای بورڈ کے امتحانات 3 اہم تبدیلیوں کے ساتھ شروع ، کچھ اسکولوں کے لیے نئی ہدایات

نئی دہلی :سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کے بورڈ امتحانات کا آغاز آج منگل سے بھارت سمیت 26 ممالک میں ہو گئے ہیں ۔ اس سال 43 لاکھ 67 ہزار 870 سے زائد طلبہ دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات میں شریک ہو رہے ہیں۔ پہلے دن دسویں جماعت کے طلبہ ریاضی (اسٹینڈرڈ اور بیسک) جب کہ بارہویں جماعت کے طلبہ بایوٹیکنالوجی اور انٹرپرینیورشپ کا پرچہ دے رہے ہیں۔بورڈ کے مطابق اس سال دسویں جماعت کے طلبہ کی تعداد بارہویں جماعت کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ 25 لاکھ سے زائد طلبہ دسویں کے امتحان میں شریک ہیں، جبکہ بارہویں جماعت میں 18 لاکھ 59 ہزار 551 امیدوار امتحان دے رہے ہیں۔ امتحانات صبح 10 بج کر 30 منٹ پر شروع ہوئے، قابل ذکر بات  یہ ہے کہ طلبہ کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ہر صورت صبح 10 بجے تک امتحانی مراکز پر پہنچ جائیں۔ 10 بجے کے بعد کسی کو بھی داخلے کی اجازت نہیں دی گئی، اسی وجہ سے بیشتر طلبہ آدھا گھنٹہ یا اس سے پہلے ہی مراکز پر پہنچ گئے تھے۔ امتحان دوپہر ڈیڑھ بجے تک جاری رہے گا۔

پہلے ہی دن ریاضی کا پرچہ ہونے کی وجہ سے دسویں جماعت کے کئی طلبہ اسے ایک بڑے چیلنج کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ نئی دہلی کے ایک امتحانی مرکز پر موجود طالب علم ونیت جیسوال نے بتایا کہ انہوں نے مکمل تیاری کی ہے اور اسکول میں ریویژن اور پری بورڈ امتحانات بھی اچھے رہے، لیکن پہلے دن ریاضی کا پرچہ دینا یقیناً ایک مشکل آغاز ہے۔ایک اور طالبہ دیپتی سکسینہ کا کہنا تھا کہ پہلے دن ریاضی کا امتحان کسی آزمائش سے کم نہیں، تاہم اس کا فائدہ یہ ہے کہ سب سے مشکل پرچہ ابتدا میں ہی ختم ہو جائے گا اور آئندہ امتحانات کے لیے ذہنی دباؤ کم ہو جائے گا۔ مشرقی دہلی کے ایک اور مرکز پر موجود گورانگ نے بتایا کہ وہ اس امتحان کو لے کر پُرجوش ہیں اور اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے تیار ہیں۔

سی بی ایس ای نے نہ صرف طلبہ بلکہ اسکولوں کے لیے بھی اہم ہدایات جاری کی ہیں۔ بورڈ نے واضح کیا ہے کہ اگر سوالیہ پرچہ سے متعلق کوئی اعتراض یا تجویز ہو تو اسے اسی دن مقررہ نظام کے تحت بھیجا جائے۔ امتحانی کنٹرولر ڈاکٹر سنیم بھاردواج نے اسکولوں کو یاد دلایا کہ سوالات سے متعلق کسی بھی مسئلے کو واضح انداز میں درج کیا جائے۔بورڈ کے مطابق بعض اسکول اعتراضات غلط ای میل آئی ڈی پر بھیج دیتے ہیں یا کئی دن بعد شکایات درج کراتے ہیں، جب کہ کچھ شکایات مبہم ہوتی ہیں ،جن میں صرف یہ لکھا جاتا ہے کہ “سوال غلط ہے” مگر وضاحت نہیں دی جاتی۔ سی بی ایس ای نے ہدایت دی ہے کہ کسی بھی مسئلے کی مکمل تفصیل کے ساتھ اسی دن رپورٹ کیا جانا لازمی ہے تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Adani Foundation Story: مشرقی اترپردیش میں سماجی تبدیلی کی نئی عبارت لکھ رہا ہے اڈانی فاؤنڈیشن

ملک بھر میں اڈانی فاؤنڈیشن 19 سے زائد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں…

2 hours ago

The Signature Award 2026: نودیپ سنگھ کو سپلائر ڈیولپمنٹ میں نمایاں خدمات کے لیے ’دی سگنیچر ایوارڈ 2026‘ سے نوازا گیا

نودیپ سنگھ نے اپنے ہاسپیٹیلٹی کیریئر کا آغاز ہندوستان سے کیا۔ امرتسر سے لندن تک…

5 hours ago