قومی

Supreme Court On CBI: ‘سی بی آئی ہمارے کنٹرول میں نہیں’، بنگال حکومت کی درخواست پر سپریم کورٹ میں مرکزی نے کہا

Supreme Court On CBI: مرکزی حکومت نے سی بی آئی کے خلاف مغربی بنگال حکومت کی عرضی کو خارج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مغربی بنگال کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس نے سی بی آئی کو ریاست میں مقدمات درج کرنے کی دی گئی اجازت واپس لے لی ہے۔ اب بھی ایجنسی بہت سے مقدمات درج کر رہی ہے اور تفتیش کر رہی ہے۔ مرکزی حکومت نے اس عرضی کو مناسب قانونی بنیاد کے بغیر دائر قرار دیا ہے۔ جسٹس بی آر گوائی اور سندیپ مہتا کی بنچ میں چل رہی سماعت آج ادھوری رہی۔ یہ 8 مئی بروز بدھ کو جاری رہے گا۔

ممتا حکومت نے کیا کہا؟

مغربی بنگال حکومت نے کہا ہے کہ اس نے 16 نومبر 2018 کو مقدمہ درج کرنے کے لیے سی بی آئی کو دی گئی رضامندی واپس لے لی تھی۔ ایسے میں سی بی آئی کو مغربی بنگال کے معاملات میں ایف آئی آر درج کرنے کا حق نہیں ہے۔ اس کے باوجود وہ مسلسل مقدمات درج کر رہی ہے، مختلف مقدمات میں تفتیش اور گرفتاریاں کر رہی ہے۔ ریاستی حکومت نے اس کے خلاف آئین کے آرٹیکل 131 کے تحت سپریم کورٹ میں اصل مقدمہ دائر کیا ہے۔ سینئر وکیل کپل سبل نے ججوں سے کہا کہ پہلے سی بی آئی کسی معاملے کی تحقیقات شروع کرتی ہے، بعد میں اس میں منی لانڈرنگ کا معاملہ بنانے کے بعد انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ یعنی ای ڈی بھی کیس درج کرتا ہے۔ اس طرح ریاستی حکومت کا 2018 کا حکم بے معنی ہو گیا ہے۔

مرکز کی دلیل

مرکزی حکومت کی طرف سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عرضی کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ سماعت کے لائق نہیں ہے۔ مہتا کی دلیل یہ تھی کہ کوئی ریاست مرکزی حکومت یا کسی دوسری ریاستی حکومت کے خلاف سپریم کورٹ میں اصل مقدمہ دائر کر سکتی ہے۔ سی بی آئی نہ تو مرکزی حکومت ہے اور نہ ہی ریاستی حکومت۔ یہ ایک خود مختار تحقیقاتی ادارہ ہے۔ اس کی نگرانی سینٹرل ویجیلنس کمیشن (سی وی سی) کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں- Newsclick Case: نیوز کلک معاملے میں داخل چارج شیٹ میں بڑا انکشاف، سماجی کارکن تیستا سیتلواڑ کو بیرون ملک سے ملا پیسہ

تشار مہتا نے کہا کہ مرکزی حکومت سی بی آئی کے کام کاج کو نہ تو کنٹرول کرتی ہے اور نہ ہی کنٹرول کر سکتی ہے۔ یہ پروویژن سپریم کورٹ نے 1997 میں ونت نارائن بنام حکومت ہند میں دیا تھا۔ سالیسٹر جنرل نے یہ بھی کہا کہ مغربی بنگال میں سی بی آئی نے 16 نومبر 2018 سے جتنے بھی معاملات درج کیے ہیں، وہ کلکتہ ہائی کورٹ کے حکم پر کیے گئے ہیں۔ ریاستی حکومت نے ہائی کورٹ کے ان تمام احکامات کے خلاف آرٹیکل 136 کے تحت سپریم کورٹ میں الگ الگ ایس ایل پی دائر کیے ہیں۔ اس وجہ سے آرٹیکل 131 کی بنیادی بنیاد بھی کوئی معنی نہیں رکھتی۔

-بھارت ایکسپریس

Mohd Sameer

Recent Posts

Delhi-NCR Air Pollution: دہلی-این سی آر میں فضائی آلودگی کی اصل وجہ کا پتہ لگائے گی نئی تجربہ گاہ، مودی حکومت کی اہم پہل

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ملک کی پہلی خصوصی اے اے ٹی ایل تجربہ…

6 minutes ago

MP Naresh Bansal: ’جو ٹھانا، وہ کرکے دکھایا…‘ وزیر داخلہ امت شاہ کے کام کرنے کے انداز پر بولے رکن پارلیمنٹ نریش بنسل

بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نریش بنسل نے وزیر داخلہ امت شاہ کی تعریف…

13 minutes ago

Gold-Silver Price: سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ، تین دن میں چاندی 10,100 روپے سستی

سونے کے دام میں بھی 3,610 روپے کی کمی، تہواروں کے موسم میں خریداری کا…

22 minutes ago

ODI Series: ون ڈے سیریز میں ناقابل شکست برتری حاصل کرنے کے ارادے سے اترے گی ٹیم انڈیا، زمبابوے کو دورے کی پہلی جیت کی تلاش

بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم اور زمبابوے کے درمیان ون ڈے سیریز کا دوسرا مقابلہ اتوار…

1 hour ago

Jio Platforms IPO: شیئر بازار میں JIO کی شاندار انٹری کی تیاری، لسٹنگ کے ساتھ بھارت کی ٹاپ 3 کمپنیوں میں ہوگی شامل

ریلائنس انڈسٹریز کے جیو پلیٹ فارمز کا آئی پی او سرمایہ کاروں کے درمیان زبردست…

1 hour ago