قومی

کیا تفریح کے نام پر عقیدے کا مذاق اڑایا جاسکتا ہے؟

تحریر: رجنیش کپور،سینئر صحافی

پچھلے کچھ دنوں سے ایک فلم کو لے کر ملک بھر میں کافی تنازعہ چل رہا ہے۔ وجہ اس فلم میں دکھائے گئے گمراہ کن مناظر اور قابل اعتراض ڈائیلاگ ہیں۔ سماج کا ایک بڑا طبقہ، مذہبی سنت وگرو اور سیاسی جماعتیں ہر پلیٹ فارم پر فلم کے پروڈیوسر پر تنقید کر رہی ہیں۔ تنازعات کی وجہ سے اس فلم کو دنیا بھر سے سوشل میڈیا پر کافی ٹرول بھی کیا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آ پ تفریح ​​کی خاطر عقیدہ سے کھیل سکتے ہیں؟ کیا عقیدہ تفریح ​​کا معاملہ ہے؟

رامائن پر مبنی فلم ‘آدی پُرش’ کے بنانے والوں نے فلم میں کچھ کرداروں کی متنازع تصویر کشی کی ہے جس سے ہندوؤں کے جذبات مجروح ہو رہے ہیں۔ اس کے ساتھ اس فلم میں کئی ایسے ڈائیلاگ بولے گئے ہیں جنہیں مہذب نہیں سمجھا جا سکتا۔ جیسے ہی تنازعہ بڑھ گیا، فلم کے پروڈیوسر اور ڈائیلاگ رائٹر نے اپنے پہلے بیانات کو پلٹتے ہوئے واضح کیا کہ ’’یہ فلم رامائن پر مبنی نہیں ہے بلکہ رامائن سے متاثر ہے۔ اس کے بعد رائٹر منوج منتشر نے بھی متنازع مکالموں میں ترمیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ملک بھر میں کئی ہندو تنظیمیں اس فلم کے خلاف کھل کر سامنے آگئی ہیں۔ کئی تنظیموں نے تو فلم بنانے والوں کو فلم کے قابل اعتراض مکالموں کی زبان میں دھمکی بھی دی ہے۔ اس سب کی وجہ سے ممبئی پولیس نے رائٹر اور پروڈیوسر کو سیکورٹی بھی دی ہے۔ پڑوسی ملک نیپال سے بھی اس فلم کے خلاف احتجاج کی خبریں آرہی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ بدنام ہو ں گے تو  کیانام نہیں ہو گا؟  تو کیا فلم بنانے والوں نے یہ فلم اسی نیت سے بنائی تھی؟ یا کسی اور ایجنڈے کے تحت منصوبہ بند طریقے سے ایسی فلمیں بنائی جاتی ہیں جس سے معاشرے میں من مٹاو پیدا ہوتا ہے؟ یہاں یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ایسی فلمیں نہ صرف یک طرفہ ہوتی ہیں بلکہ حقائق سے بھی دور ہوتی ہیں۔

راسک سنت شری ہت پریمانند گووند شرن جی، جو کئی سالوں سے ورنداون میں بھجن کر رہے ہیں، نے حال ہی میں فلم ‘آدی پُرش’ اور اسی طرح کی دیگر فلموں پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عقیدہ تفریح ​​کا معاملہ نہیں ہے۔ تفریح ​​کبھی عقیدہ نہیں ہو سکتی اور عقیدہ سے کھیلنا نہیں چاہیے۔ بھگوان کا ہر عمل  ہمارے ایمان کا موضوع ہے۔ جو بھی انہیں تفریح ​​کے لیے بناتا ہے وہ ہمارے عقیدے سے کھیل رہا ہے۔ سوامی جی اس موضوع پر مزید کہتے ہیں کہ شری کرشن لیلا ہو یا شری رام لیلا، یہ صرف ایک وقار کے تحت دکھائی جاتی ہے۔ اگر کوئی اسے تفریح ​​کے جذبے سے پیش کرے، اس کا مذاق اڑائے یا اسے غیر مہذب انداز میں پیش کرے تو وہ جو بھی ہو مجرم ہے، جس کی سزا اسے ضرور ملے گی۔ سوامی جی کہتے ہیں کہ بھگوان کی سوانح ان کے  تفریح ​​کا معاملہ نہیں ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ سامنے والے کو خوش کرنے کے لیے ستسنگ اور لیلا گانے کو تفریح ​​بنایا جاتا ہے۔

ایک وقت تھا جب ‘جئے سنتوشی ماں’، ‘سمپورن رامائن’ جیسی مذہبی فلمیں عقیدت کے ساتھ بنتی تھیں۔ لوگ یہ فلمیں پورے ایمان کے ساتھ دیکھتے تھے۔ وہ سنیما ہال میں چپل اتارتے تھے، فلم دیکھتے ہوئے عقیدت سے روتے تھے اور فلم مکمل ہونے کے بعد عقیدت سے پیسے پیش کرتے تھے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ رامانند ساگر اور بی آر چوپڑا کی تیار کردہ ‘رامائن’ اور ‘مہابھارت’ جب دور درشن پر ٹیلی کاسٹ ہوتے تھے تو سڑکوں پر ایسی خاموشی چھا جاتی تھی جیسے حکومت نے کرفیو لگا دیا ہو۔ ابھی حال ہی میں جب رامائن کو کووڈ کی وبا کی وجہ سے دوبارہ ٹیلی کاسٹ کیا گیا تو اسے اسی عقیدت کے ساتھ دیکھا گیا جیسا کہ دہائیوں پہلے دیکھا جاتا تھا۔ جب ان سیریلز کے اداکار عوامی مقامات پر نظر آتے تھے تو ایسا لگتا تھا کہ ارون گوول میں ‘پربھو شری رام’ اور دیپیکا چکھالیہ میں ‘سیتا جی’ نظر آئیں۔ یہاں تک کہ رامائن میں ‘ویر ہنومان’ کا کردار ادا کرنے والے دارا سنگھ اور مہابھارت میں ‘گدادھاری بھیم’ کا کردار ادا کرنے والے پروین کمار کو بھی لوگوں نے ان کی حقیقی زندگی میں دیکھا۔

لیکن آج کل جس طرح تفریح ​​اور ایجنڈے کے لیے مذہبی آڑ میں فلمیں بن رہی ہیں، وہ صرف تنازعات کو ہوا دے رہی ہیں۔ حقائق کو توڑ مروڑ کر عقیدت سے کھیلنا کسی بھی مہذب معاشرے میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے حکومت کو سخت ہدایات دینے کی ضرورت ہے، تاکہ ایسی کوئی فلم نہ بننے دی جائے جس سے کسی مذہب کے ماننے والوں کے عقیدے کو ٹھیس پہنچے۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

Iran Executes Spying Person: اسرائیل کے لیے خفیہ معلومات بھیجنے کے الزام میں شخص کو ایران نے دے دی پھانسی

ایرانی عدلیہ کے مطابق حسین پدران نے اصفہان میں فوجی اور میزائل تنصیبات سے متعلق…

20 minutes ago

Lalan Singh JDU Prabodhan Programme: جنتا دل یونائیٹڈ کے پروگرام میں غیر حاضری پر لالن سنگھ کی وضاحت، کہا ’میں گجرات میں تھا‘

مرکزی وزیر نے کہا، پروگرام کی پیشگی اطلاع نہیں تھی، پارٹی میں کسی طرح کا…

1 hour ago

Education Standards in Europe: یورپ میں تعلیم کا گرتا معیار، ’پیسا‘ کے نتائج نے بڑھائی تشویش

فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز اور فن لینڈ جیسے ممالک میں ریاضی، مطالعہ اور سائنس میں طلبہ…

2 hours ago

Emotional Manu Bhaker: ’مجھے جسپال رانا سر کی بہت یاد آئی‘، ایشین گیمز 2026 کی افتتاحی تقریب کے بعد جذباتی ہوئیں منو بھاکر

ڈبل اولمپک میڈلسٹ منو بھاکر نے کہا، بھارتی دستے کی قیادت کرتے ہوئے ترنگا تھامنا…

2 hours ago

Asian Games-2026: گلاسگو کے بعد ایشین گیمز میں بھی آئی او اے کا ’پرنسپل اسپانسر‘ بنا اڈانی گروپ

اڈانی گروپ نے بھارتی اولمپک ایسوسی ایشن کے ساتھ شراکت داری کی تجدید کی، جاپان…

3 hours ago