قومی

Green Energy Corridor Phase-III: وزیراعظم کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے گرین انرجی کوریڈور فیز-III اسکیم کو دی منظوری

نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے گرین انرجی کوریڈور فیز-III (GEC-III) اسکیم کو منظوری دے دی ہے۔ اس اہم اقدام کے تحت ہندوستان کی ریاستی سطح کے اندر بجلی کی ترسیل کے نظام (Intra-State Transmission System) کو مضبوط بنایا جائے گا، جس سے مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 135 گیگاواٹ تک قابلِ تجدید توانائی کی ترسیل ممکن ہوسکے گی۔

50 گیگاواٹ آور بیٹری اسٹوریج سسٹم

اسکیم کے تحت 50 گیگاواٹ آور (GWh) بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (BESS) بھی نصب کیے جائیں گے۔ یہ نظام قابلِ تجدید توانائی پیدا کرنے والے اداروں یا دیگر اہم مقامات پر لگائے جائیں گے، تاکہ گرڈ میں لچک پیدا کی جاسکے اور شمسی و دیگر قابلِ تجدید ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی میں اتار چڑھاؤ، گرڈ پر دباؤ، زیادہ طلب کے اوقات میں بجلی میں کمی اور غیر شمسی اوقات کی طلب جیسے مسائل سے نمٹا جاسکے۔ اسکیم سے ملک کی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں قابلِ تجدید توانائی کو گرڈ سے جوڑنے اور بجلی کی مؤثر ترسیل میں مدد ملے گی۔

2032-33 تک مکمل کرنے کا ہدف

اس اسکیم کو مالی سال 2032-33 تک قائم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس کے لیے مجموعی طور پر 1,86,405 کروڑ روپے کی لاگت مقرر کی گئی ہے۔ اس میں 1,36,378 کروڑ روپے گرین انرجی کوریڈور فیز-III کے تحت ریاستی سطح کے اندر بجلی کی ترسیل کے نظام کی ترقی کے لیے اور 50,000 کروڑ روپے 50 گیگاواٹ آور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ اسکیم کے تحت مرکز کی جانب سے مجموعی طور پر 54,082 کروڑ روپے کی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ مرکزی مالی امداد سے ریاستی سطح پر بجلی کی ترسیل کے اخراجات کو کم رکھنے میں مدد ملے گی، جس کے نتیجے میں بجلی کی لاگت کو قابو میں رکھنے اور بالآخر ملک کے صارفین کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔

نئے منصوبے مسابقتی بولی کے ذریعے

ریاستی سطح کے اندر بجلی کی ترسیل کے نظام سے متعلق تمام نئے منصوبے ٹیرف بیسڈ مسابقتی بولی (TBCB) کے ذریعے نافذ کیے جائیں گے، جبکہ پہلے سے موجود نظام کو اپ گریڈ کرنے اور نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کے کام کاسٹ پلس بیسس (CPB) کے تحت انجام دیے جائیں گے۔ ریاستی ٹرانسمیشن یوٹیلیٹیز مجموعی طور پر عمل درآمد کرنے والی ایجنسیاں ہوں گی، جبکہ ٹرانسمیشن سروس پرووائیڈرز ٹیرف بیسڈ مسابقتی بولی کے تحت بلڈ، اون، آپریٹ اینڈ مینٹین (BOOM) ماڈل پر کام کریں گے۔

2035 تک 900 گیگاواٹ غیر فوسل صلاحیت کے ہدف میں مدد

حکومت کے مطابق یہ اسکیم 2035 تک 900 گیگاواٹ نصب شدہ غیر فوسل توانائی کی صلاحیت کے ہدف کو حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ اس کے ساتھ ملک کی طویل مدتی توانائی سلامتی کو مضبوط بنانے اور کاربن اخراج کم کرکے ماحول دوست ترقی کو فروغ دینے میں بھی تعاون ملے گا۔ اس منصوبے سے بجلی، مینوفیکچرنگ اور تعمیراتی شعبوں میں بڑے پیمانے پر براہ راست اور بالواسطہ روزگار پیدا ہونے کی توقع ہے۔ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم کی تیاری اور تنصیب سے گھریلو توانائی ذخیرہ کرنے کی صنعت میں بھی روزگار کے مواقع بڑھیں گے، جبکہ مختلف ریاستوں میں آپریشن، دیکھ بھال اور گرڈ مینجمنٹ کے شعبوں میں طویل مدتی ہنرمند روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Centenary Celebrations of UPSC: وزیراعظم مودی یکم اکتوبر کو یونین پبلک سروس کمیشن کی صد سالہ تقریبات میں ہوں گے شریک

بھارت منڈپم میں منعقدہ پروگرام کے دوران وزیراعظم مودی یو پی ایس سی کی صد…

26 minutes ago

Ujjain Violence: شاہی مسجد تنازع کے بعد 20 گرفتار، 30 افراد کے خلاف ایف آئی آر

پولیس کا کہنا ہے کہ مسجد کو مکمل طور پر منہدم کیے جانے کے جعلی…

40 minutes ago

From Small-Town India To Lord’s: چھوٹے شہر سے لارڈز تک، کرانتی گوڑ اور یستیکا بھاٹیا نے کرکٹ میں رقم کردی تاریخ

کرانتی نے انگلینڈ کی پہلی اننگز میں پانچ وکٹ حاصل کرکے لارڈز میں ٹیسٹ کرکٹ…

3 hours ago