وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں جمعرات کو ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں ریلوے وزارت کے چار بڑے منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے۔ ان چار منصوبوں پر تقریباً 11,169 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ ان منصوبوں کے ذریعے مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، مغربی بنگال، بہار، اوڈیشہ اور جھارکھنڈ کے 13 اضلاع میں ریلوے لائن تقریباً 574 کلومیٹر تک بڑھے گی۔
اس منصوبے کی خاص باتیں:
ان نئے منصوبوں میں درج ذیل کام شامل ہیں:
-
اٹارسی سے ناگپور کے درمیان چوتھی ریلوے لائن بنانا
-
اورنگ آباد (جسے اب چھترپتی سمبھاجی نگر کہا جاتا ہے) سے پربھنی تک ڈبل لائن بنانا
-
الواباڑی روڈ سے نیو جلپائی گوڑی تک تیسری اور چوتھی لائن بنانا
-
ڈنگوپوسی سے جارولی تک تیسری اور چوتھی لائن بنانا
ان نئی لائنوں کی تعمیر سے ٹرینوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا اور ریلوے سروس مزید بہتر ہوگی۔ اس سے ریل راستوں پر بھیڑ کم ہوگی اور کام کی رفتار میں اضافہ ہوگا۔
کام ہوگا پی ایم گتی شکتی یوجنا کے تحت:
مرکزی حکومت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ترقیاتی کام وزیراعظم کی گتی شکتی اسکیم کے تحت کیے جا رہے ہیں۔ اس اسکیم کا مقصد مختلف ذرائع آمدورفت کو جوڑ کر بہتر کنیکٹیویٹی اور سامان کی ترسیل میں سہولت دینا ہے۔ ان منصوبوں سے تقریباً 2,309 دیہاتوں کے 43.60 لاکھ افراد کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
یہ ریلوے لائنیں کوئلہ، سیمنٹ، زرعی اجناس، پٹرولیم مصنوعات اور کنٹینرز جیسے ضروری سامان کی نقل و حمل کے لیے بہت اہم ہوں گی۔ ان کے بننے سے ہر سال 95.91 ملین ٹن اضافی مال ٹرین کے ذریعے بھیجا جا سکے گا۔
ماحولیاتی لحاظ سے بھی ایک مثبت قدم:
ماحولیاتی نقطہ نظر سے بھی یہ ایک صاف، توانائی بچانے والا اور پائیدار ذریعہ ہے۔ ان منصوبوں کی بدولت ملک کا تیل درآمد کم ہوگا، 16 کروڑ لیٹر تیل کی بچت ہوگی، اور تقریباً 515 کروڑ کلو کاربن گیس کا اخراج کم ہوگا۔ یہ فائدہ تقریباً 20 کروڑ درخت لگانے کے برابر ہے، جو ماحولیاتی تحفظ کے لیے نہایت اہم ہے۔
اس طرح یہ منصوبے نہ صرف سفر اور مال برداری کو آسان بنائیں گے، بلکہ ماحول کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔