وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں اقتصادی امور سے متعلق کابینہ کمیٹی (سی سی ای اے) نے گووند گھاٹ سے ہیم کنڈ صاحب تک جی 12.4 کلو میٹر کے روپ ویز کی تعمیر کےپروجیکٹ کو منظوری دی ہے۔ یہ پروجیکٹ 2730.13 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت کے ساتھ ڈیزائن، تعمیر، مالیات استعمال کرنے اور منتقل کرنے (ڈی بی ایف او ٹی) کرنے کے ساتھ مکمل کیاجائے گا۔فی الحال ہیم کنڈ صاحب جی کاسفر چیلنج بھرا ہے جہاں گووند گھاٹ سے اوپر کے علاقوں میں 21 کلو میٹر کی کھڑی چڑھائی ہے۔ یہ سفر پیدل یا خچروں پر بیٹھ کر مکمل کیاجاتاہے۔مجوزہ روپ وے کو ہیم کنڈ صاحب جی اور پھولوں کی وادی کی سیر کرنے والے سیاحوں مد نظر رکھ کر بنایا جارہاہے تاکہ گووند گھاٹ اور ہیم کنڈ صاحب جی کی صف آخر میں کھڑے عقیدت مند کو بھی فائدہ پہنچ سکے۔
پبلک – پرائیویٹ پاٹنر شپ سے تیار کیا جانے والا یہ منصوبہ گووند گھاٹ سے گھنگھڑیا (10.55کلو میٹر) تک منوکیبل ڈی اٹیچبل گونڈولہ پر مبنی ہے۔ اس کے علاوہ گھنگھڑیا کو ہیم کنڈ صاحب جی تک (1.85 کلو میٹر) جدید ترین ٹرائی کیبل گونڈولہ (3 ایس) سے جوڑاجائے گا۔ اس روپ وے کی 1100 مسافر فی گھنٹہ فی سمت (پی پی ایچ پی ڈی ) کو لے جانے اور یومیہ11000مسافروں کو لے جانے کی گنجائش ہوگی ۔روپ وے پروجیکٹ کی تعمیر اور آپریشن کے دوران ملازمت کے خاطر خواہ مواقع پیدا ہوں گے اور ساتھ اس سے جڑی سیاحت کی صنعت جیسے ضیافت، سفر،غذا اور مشروبات (ایف این بی) اور سیاحت کو سال بھر فائدہ پہنچے گا۔روپ وے پروجیکٹ کی ترقی، خطے میں متوازن سماجی-معاشی ترقی کو بڑھاوا دے گی اورصف آخر میں کھڑے عقیدت مندوں کے لیے خطہ میں معاشی ترقی کو فروغ دے گی۔
ہیم کنڈ صاحب جی، اتراکھنڈ کے ریاست چمولی ضلع میں 15000 فٹ کی بلندی پر واقع جلیل القدر مذہبی مقام ہے۔اس مقدس مقام پر قائم کیا گیا گرودووارہ سال کے5 مہینوں، مئی سے ستمبر تک کھلارہتاہے جہاں سالانہ ڈیڑھ سے 2لاکھ عقیدت مند آتے ہیں۔ ہیم کنڈ صاحب جی تک چڑھائی کو ، قدیم گڑوال ہمالیہ میں یونسکو کی جانب سے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیے گئے پھولوں کی وادی کاداخلی دروازہ قرار دیا جاتا ہے۔
وہیں دوسری جانب س سی ای اے نے سون پریاگ سے کیدارناتھ (12.9 کلومیٹر) تک 12.9 کلومیٹر کے روپ وے پروجیکٹ کی تعمیر کو منظوری دے دی ہے ۔ اس پروجیکٹ کو ڈیزائن ، بلڈ ، فنانس ، آپریٹ اینڈ ٹرانسفر (ڈی بی ایف او ٹی) موڈ پر تیار کیا جائے گا ، جس کی کل سرمایہ جاتی لاگت 4081.28 کروڑ روپے ہوگی۔روپ وے کو پبلک- پرائیویٹ پارٹنرشپ میں تیار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے اور یہ جدید ترین ٹرائی کیبل ڈیٹیچ ایبل گونڈولا ل(3 ایس) ٹیکنالوجی پر مبنی ہوگی، جس کی ڈیزائن کی گنجائش فی گھنٹے فی سمت 1,800 مسافر (پی پی ایچ پی ڈی ) کی ہوگی ، جس میں روزانہ 18,000 مسافر سفر کر سکیں گے۔روپ وے پروجیکٹ کیدارناتھ جانے والے عقیدتمندوں کے لئے ایک نعمت ثابت ہوگا، کیونکہ یہ ماحول دوست، آرام دہ اور تیز رابطہ فراہم کرے گا اور ایک سمت میں سفر کا وقت تقریباً 8 سے 9 گھنٹے سے کم کر کے تقریباً 36 منٹ کر دے گا۔روپ وے پراجیکٹ تعمیرات اور آپریشنز کے ساتھ ساتھ سیاحت کی متعلقہ صنعتوں جیسے مہمان نوازی، سفر، کھانے پینے کی اشیاء اور مشروبات (ایف اینڈ بی) اور سال بھر سیاحت کے دوران روزگار کے خاطر خواہ مواقع بھی پیدا کرے گا۔
روپ وے پروجیکٹ کی ترقی متوازن سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ دینے، پہاڑی علاقوں میں آخری میل تک رابطے کو بڑھانے اور تیز رفتار اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔کیدارناتھ مندر کا سفر گوری کنڈ سے 16 کلومیٹر کا ایک مشکل راستہ ہے اور فی الحال اسے پیدل یا ٹٹو، پالکی اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے طے کیا جاتا ہے۔ مجوزہ روپ وے کا منصوبہ مندر جانے والے یاتریوں کو سہولت فراہم کرنے اور سون پریاگ اور کیدارناتھ کے درمیان سبھی موسموں میں رابطے کو یقینی بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔کیدارناتھ 12 مقدس جیوترلنگوں میں سے ایک ہے، جو ریاست اتراکھنڈ کے رودرپریاگ ضلع میں 3,583 میٹر (11968 فٹ) کی بلندی پر واقع ہے۔ یہ مندر اکشے ترتیہ (اپریل-مئی) سے دیوالی (اکتوبر-نومبر) تک ایک سال میں تقریباً 6 سے 7 ماہ یاتریوں کے لیے کھلا رہتا ہے اور سیزن کے دوران تقریباً 20 لاکھ یاتری سالانہ یہاں آتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
موہن یادو نے لوگوں سے جنگلی حیات کے محفوظ مسکن اور قدرتی توازن کو برقرار…
ملک بھر میں اڈانی فاؤنڈیشن 19 سے زائد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں…
اسمت مچھار کی بہادری کے اعتراف میں گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے اعلان…
نودیپ سنگھ نے اپنے ہاسپیٹیلٹی کیریئر کا آغاز ہندوستان سے کیا۔ امرتسر سے لندن تک…
کاک پٹ میں پیش آنے والی جھڑپ کے دوران شریک پائلٹ نے پائلٹ پر چاقو…
پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ آئین ہند کا آرٹیکل مرکزی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین…