قومی

Cabinet Approves 3 Rail Projects: تین ریلوے منصوبوں کو حکومت کی منظوری، پی ایم مودی نے کہا—کنیکٹیویٹی کے ساتھ سیاحت کو بھی ملے گا فروغ

وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی نے ریلوے کے 3 اہم ملٹی ٹریکنگ منصوبوں کو منظوری دے دی ہے۔ تقریباً 10,783 کروڑ روپے کی لاگت والے ان منصوبوں سے مغربی بنگال، جھارکھنڈ، اڈیشہ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں ریلوے نیٹ ورک کو وسعت ملے گی، جبکہ مال برداری اور مسافر ٹرانسپورٹ کو بھی نئی رفتار ملے گی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس کی معلومات دیتے ہوئے کہا کہ کابینہ کے اس فیصلے سے 5 ریاستوں میں ریلوے کنیکٹیویٹی مضبوط ہوگی، لاجسٹکس کی لاگت کم ہوگی اور خاص طور پر ورثے اور جنگلی حیات سے متعلق سیاحت کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں سے ریلوے نیٹ ورک کی توسیع کے ساتھ لاکھوں لوگوں کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔

کابینہ سے منظور کیے گئے منصوبے

کابینہ کی جانب سے منظور کیے گئے منصوبوں میں کھڑگ پور–جھارسوگوڑا (باگ دیہی) چوتھی ریلوے لائن، کٹنی–پیندرا روڈ چوتھی ریلوے لائن اور بلاس پور (اسلّاپور)–پیندرا روڈ تیسری ریلوے لائن شامل ہیں۔ ان منصوبوں کو سال 2029-30 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ ریلوے لائن کی گنجائش بڑھنے سے آمدورفت میں نمایاں بہتری آئے گی، جس کے نتیجے میں بھارتی ریلوے کی آپریشنل کارکردگی اور خدمات کی قابلِ اعتماد حیثیت میں اضافہ ہوگا۔ ان ملٹی ٹریکنگ منصوبوں سے ریلوے آپریشن کو منظم کرنے اور بھیڑ بھاڑ کم کرنے میں مدد ملے گی۔ یہ منصوبے وزیر اعظم نریندر مودی کے ’نئے ہندوستان‘ کے وژن کے مطابق ہیں۔ ان کا مقصد خطے کی مجموعی ترقی کے ذریعے یہاں کے لوگوں کو خود کفیل بنانا ہے، جس سے روزگار اور خود روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔

گتی شکتی ماسٹر پلان کے تحت تیار کیے گئے منصوبے

یہ منصوبے وزیر اعظم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کے تحت تیار کیے گئے ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد مربوط منصوبہ بندی اور متعلقہ فریقوں کی مشاورت کے ذریعے ملٹی ماڈل کنیکٹیویٹی اور لاجسٹکس کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ ان منصوبوں سے لوگوں، سامان اور خدمات کی بلارکاوٹ آمدورفت یقینی ہوگی۔

14 اضلاع کا احاطہ کرنے والے 3 منصوبے

مغربی بنگال، جھارکھنڈ، اڈیشہ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کی 14 اضلاع کو احاطے میں لینے والے ان 3 منصوبوں سے بھارتی ریلوے کے موجودہ نیٹ ورک میں تقریباً 656 کلومیٹر کا اضافہ ہوگا۔ مجوزہ ملٹی ٹریکنگ منصوبوں سے تقریباً 4,790 گاؤں کو بہتر ریلوے کنیکٹیویٹی ملے گی، جہاں تقریباً 56 لاکھ کی آبادی رہتی ہے۔

مجوزہ گنجائش میں اضافے سے ملک بھر کے کئی اہم سیاحتی مقامات تک ریلوے رابطہ بہتر ہوگا۔ ان میں تاراترینی مندر، شری کھیتر جگن ناتھ مندر، بندھو گڑھ ٹائیگر ریزرو، ویراتیشور مندر، امرکنٹک مندر، جوا لیشور دھام، اچانک مار ٹائیگر ریزرو، کھٹا گھاٹ ڈیم، ملہار آثار قدیمہ کا مقام اور رتن پور مہامایا مندر سمیت دیگر مقامات شامل ہیں۔

سالانہ 27 ملین ٹن اضافی مال برداری کی گنجائش

مجوزہ منصوبے کوئلہ، سیمنٹ، لوہا اور اسٹیل سمیت مختلف اشیا کی نقل و حمل کے لیے اہم راستے ہیں۔ گنجائش میں اضافے کے کام مکمل ہونے کے بعد ہر سال 27 ملین ٹن (MTPA) اضافی مال برداری کی گنجائش حاصل ہوگی۔

ماحول دوست اور توانائی کے مؤثر ذریعۂ نقل و حمل کے طور پر ریلوے موسمیاتی اہداف حاصل کرنے اور ملک کی لاجسٹکس لاگت کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی تیل کی درآمد میں تقریباً 12 کروڑ لیٹر کی کمی آئے گی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں تقریباً 62 کروڑ کلوگرام کمی ہوگی، جو 2.48 کروڑ درخت لگانے کے برابر ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

PM Modi’s road show: بھونیشور میں پی ایم مودی کے روڈ شو کو لے کر جوش و خروش، اوڈیشہ کے لوگوں نے کہا- ریاست کی ترقی کو ملے گی نئی رفتار

وزیر اعظم نریندر مودی کے اوڈیشہ دورے کے دوران بھونیشور میں جشن کا ماحول رہا۔…

6 hours ago

Damodardas Mulchand Modi Biography: کھڑگے کے متنازع بیان کے بعد سرخیوں میں وزیر اعظم مودی کے والد، جانیں کون تھے دامودر داس مول چند مودی؟

سیاسی بیان بازی کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی کے آنجہانی والد دامودر داس مول…

7 hours ago

PV Sindhu: پی وی سندھو کا بی ڈبلیو ایف فرنچ اوپن کا خطاب جیتنے کا خواب ادھورا، فائنل میں این سی ینگ نے ماری بازی

ہندوستان کی اسٹار بیڈمنٹن کھلاڑی پی وی سندھو کو سپر 750 ٹورنامنٹ کے فائنل میں…

8 hours ago